بلاگ/ کالم

خان ناگزیر ہے!

تحریر: سہیل وڑائچ مانا کہ خان ناگریز ہے، وہ سب سے مقبول ترین ہے، یہ بھی تسلیم کہ اس کا ووٹ بینک چاروں صوبوں میں ہے، یہ بھی سچ کہ پنجاب میں اس کی اکثریت ہے، پختونخوا میں دو تہائی ارکان اس کی پارٹی کے ہیں، یہ بھی قبول کہ شہری سندھ میں اسے اچھی نشستیں ملی ہیں، اس سے ...

Read More »

گالی

تحریر: حامد میر ’’بھائی آپ ہماری فکر نہ کریں، وقت بدلتے دیر نہیں لگتی یہ مشکل وقت بھی گزر ہی جائے گا۔‘‘ یہ الفاظ ایک ایسی خاتون کی زبان سے ادا ہو رہے تھے جس کا خاوند جیل میں ہے، داماد چند گھنٹے قبل رہا ہو کر آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اُسے کسی نہ کسی طرح دوبارہ ...

Read More »

یہ وقت کسی کا نہ ہوا!

تحریر: ارشاد بھٹی یہ وقت کسی کا نہ ہوا، ساحر لدھیانوی، کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے، میں پل دوپل کا شاعر ہوں، پل دو پل میری کہانی ہے، ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں جیسی شاعری کا خالق عبدالحی المعروف ساحر لدھیانوی، امرتا پریتم کے عشق میں کالج سے نکالا گیا، لاہور آیا، ...

Read More »

ٹرمپ یوٹرن کے اصل عوامل

تحریر: سلیم صافی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آپ سمیت سب کو بند گلی میں دھکیل دیا۔ جس طریقے سے وہ طالبان کے ساتھ معاہدہ کرنے جارہے تھے اگر اس طریقے سے ہوجاتا تو بھی مصیبت تھی اور اب جب مذاکرات ختم کئے تو بھی مصیبت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قطر میں ہونے والے امریکہ اور طالبان کے ...

Read More »

تحریکیں اس طرح چلتی ہیں؟

تحریر: عرفان اطہر قاضی کشمیریوں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ پاکستانی عوام مایوس ہیں۔ ہمارے حکمران ٹرمپ کی جادو کی جپھی سے پُر سکون اور پُرامید ایک سحر میں گرفتار نظر آتے ہیں۔ کوئی ان الفاظ پر توجہ دینے کو تیار نہیں کہ مودی کیا کہہ رہا ہے اور امریکہ کی سوچ کیا ہے اور یہودی لابی کون کون ...

Read More »

عالمی برادری کس ایڈریس پر رہتی ہے؟

پچھلے ایک ماہ کے دوران علی خامنہ ای سے لے کر ایرانی مجلس تک سب نے کھل کے کشمیر کے بارے میں انڈیا کی بدلی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا، ترک صدر اردوان نے بھی اس بابت کوئی لاگ لپٹ نہیں رکھی۔ یورپی پارلیمینٹ میں حال ہی میں کشمیر پر دھواں دھار بحث ہوئی۔ لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے دو بڑے مظاہرے ہو چکے ہیں۔ ان میں برطانوی ارکانِ پارلیمان بھی شریک ہوئے۔ انڈیا میں کانگریس اور کیمونسٹ پارٹی سمیت کئی سرکردہ سیاسی جماعتیں اپنے تحفظات و خدشات ظاہر کر چکی ہیں۔ دلی اور ممبئی میں سیکولر ازم پر یقین رکھنے والی سول سوسائٹی اور طلبا کئی مظاہرے کرچکے ہیں۔ متعدد صحافی ، قانون دان ، مورخ ، دانشور مودی حکومت کے اس قدم کو تباہ کن بتا رہے ہیں اور گنتی کے ہی سہی مگر کچھ بھارتی نیوز چینلز اور میڈیا ویب سائٹس کشمیریوں کی ابتلا کی کوریج بھی کر رہے ہیں۔ دو بھارتی سول بیورو کریٹ ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہو کے عہدہ چھوڑ چکے ہیں۔ انڈین سپریم کورٹ میں مودی حکومت کے اقدامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا ’کمشیر کو بولنے دو‘ مہم کا آغاز کر چکی ہے۔ بی بی سی، الجزیرہ، نیویارک ٹائمز، گارڈئین وغیرہ، کیا یہ سب کردار عالمی برادری کا حصہ نہیں؟ چلیے ایک لمحے کو مان لیتے ہیں کہ عمران خان کے تصور میں جو بھی عالمی برادری ہے اس کی خاموشی سے دنیا بھر کے ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں کو غلط پیغام جا رہا ہے۔ مگر یمن کی انسانی ابتری، جمال خاشقجی کیس، شنجیانگ کے اویغور اور برما کے روہنگیا مسلمانوں کے بقائی مسائل، شام کا خانہ جنگ المیہ، قطر کی ناکہ بندی، سوڈان میں فوج اور سول سوسائٹی کی خونی کش مکش وغیرہ جیسے معاملات بھی تو عالمی برادری کے روبرو ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔ بحثیت مسلم امہ کی واحد اعلانیہ جوہری طاقت اور عالمی برادری کے ایک اہم رکن کے طور پر پاکستان کا ان علاقائی و بین الاقوامی معاملات کے بارے میں کیا ویسا ہی دوٹوک، غیر مبہم رویہ ہے کہ جس کی توقع وہ باقی عالمی برادری سے کشمیر کے معاملے میں کرتا آ رہا ہے؟ مجھ جیسے لال بھجکڑوں کو جواب کی کوئی جلدی نہیں۔

تحریر: وسعت اللہ خان انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت کے خاتمے کے اعلان کا ایک ماہ مکمل ہونے کے موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ ’دنیا خاموش کیوں ہے؟ جہاں مسلمانوں پر ابتلا ٹوٹے وہاں عالمی برادری کی انسانیت کیا مر جاتی ہے؟ اس (خاموشی) سے دنیا کے ...

Read More »

’’منصور اختر‘‘ ہر صورت کھیلے گا

تحریر: سہیل وڑائچ وہ تب بھی طاقتور تھا وہ آج بھی طاقتور ہے۔ وہ کھیل کے شعبے میں تھا تو اس پر راج کرتا تھا، سیاست کے شعبے میں آیا تب بھی راج کرتا ہے۔ کھیل میں تھا تب بھی اس کا فیصلہ حرفِ آخر ہوتا تھا، سیاست میں بھی وہ جو کہہ دے اسے سب کو ماننا پڑتا ہے۔ ...

Read More »

اگر وہ بے گناہ نکلی تو۔ ۔ ۔

تحریر: عمار مسعود محترم سہیل وڑائچ ہم جیسوں کے لئے استاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے وہ استادوں کے استاد ہیں۔ وہ اپنے نرم لہجے اور بھولے چہرے کے ساتھ ایسے، ایسے سچ بولنے پر قادر ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ملکی سیاست پر ان کی گہری دسترس ہے۔ حلقوں کے سیاسی گھمسان ان کو ...

Read More »

ناکام کون؟ ہم یا بھارت

ناکام کون؟ ہم یا بھارت

تحریر: زکریا ایوبی ہمارے ہاں سائنس سے متعلق ایک عام رجحان پایا جاتا ہے کہ جب بھی کوئی نئی دریافت ہوتی ہے تو ہم اس دریافت کو قرآن پاک میں ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں اور آخر کار وہ آیت نکال کر ہی دم لیتے ہیں جس میں آج سے چودہ سو سال پہلے اس دریافت کی جانب اشارہ کیا گیا ...

Read More »

نئے طوفان کی تیاریاں

نئے طوفان کی تیاریاں

تحریر: اعزاز سید اقتدار کے کھیل میں ایک دوسرے سے لڑتے بھڑتے نظر آتے پیادے صرف مہرے ہوتے ہیں۔ اکثر ان مہروں کا بادشاہ کوئی اور ہوتاہے۔ پاکستان میں لکیر کے ادھر اور ادھر تمام مہروں کا بادشاہ صرف ایک ہے جو کسی ایک پیادے کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو باقیوں کو شکست ہو جاتی ہے مگر حالات اب ...

Read More »