ہٹلر کی محبوبہ کا خوف

دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ اسی طرح یہود بھی چوٹی کے مغربی ممالک پر عملاً قابض ہونے کے باوجود اس بات سے بےحد گھبراتے ہیں (یا حفظِ ماتقدم کے طور پر اس بات کا خیال رکھتے ہیں) کہ ان ممالک کے عوام میں یہود دشمنی کے جذبات دوبارہ فروغ نہ پاسکیں۔ جبکہ ایک فطری عمل کے طور پر ہر معاشرے میں کچھ افراد ایسے ضرور ہوتے ہیں جو تمام تر آسائشیں میسر ہونے کے باوجود ایک خاردار راستے کا انتخاب کرتے ہیں اور اپنے موقف کا (جو ان کے خیال میں درست ہوتا ہے) برملا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

یہی کچھ جرمنی کی بران شویگ ٹیکنیکل یونیورسٹی میں فروری 2020 کے آخری ہفتے میں دیکھنے کو ملا۔ جب مذکورہ جامعہ میں تاریخ کی نامور خواتین پر تقاریر کے ایک سلسلے میں ایک تقریر کا عنوان تھا: میں ہوں ایوا براؤن، جرمنی کے اور دنیا کے عظیم ترین آدمی کی شریکِ حیات۔

اس عنوان کی جامعہ کی حدود میں تشہیر نے جرمنی کی یہودی اقلیت کو بظاہر خوفزدہ کردیا۔ تاہم کسی غیر یہودی جرمن شہری نے اسے یہود دشمنی سے منسلک نہیں کیا۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ اگرچہ مقرر کی خرابیٔ صحت کی بنا پر یہ مذاکرہ منعقد نہ ہوسکا، لیکن پھر بھی جرمنی میں قائم ’سامیت دشمنی کی روک تھام‘ کے ادارے کے سربراہ نے خوب واویلا کیا۔ ظاہر ہے مذکورہ ادارے پر یہود کی گرفت مضبوط ہے اور ان کا نصب العین ہے کہ جرمن قوم پرستوں کے دل و دماغ میں یہود سے ہمدردی کے بیج بونا۔

بادی النظر میں اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ آج بھی بہت سے جرمن شہری ایڈولف ہٹلر کو ایک نامور اور عظیم آدمی کے طور پر جانتے ہیں۔ بلکہ جیسا کہ تقریر کا عنوان ظاہر کرتا ہے کہ وہ ہٹلر کو دنیا کا عظیم ترین آدمی سمجھتے ہیں۔ اور اس میں کچھ غلط بھی نہیں ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے مسولینی اور نپولین وغیرہ کو بہت سے اطالوی اور فرانسیسی اپنا ہیرو سمجھتے ہیں۔ چنگیز خان کو مؤرخین ظالم ترین انسانوں کے زمرے میں شمار کرتے ہیں جبکہ منگولیا میں وہ قومی ہیرو ہے اور اسے ظالم، جابر، قاتل بادشاہ کہنے والے کےلیے سزا مقرر ہے۔ اسی طرح یورپی ممالک میں قانون سازی اور ذرائع ابلاغ کے قریب ایک صدی پر محیط آدھے سچ اور آدھے جھوٹ پر مبنی نشرواشاعت (پروپیگنڈا) کے باوجود جرمنی کے عوام کو ہٹلر کےلیے نرم گوشہ رکھنے سے نہیں روکا جاسکا۔ جنگ عظیم دوم سے پہلے اور بعد کے عشروں میں زیادہ تر یہود کے زیرِ تصرف ذرائع ابلاغ نے ہولو کاسٹ کا اس قدر واویلا کیا کہ اس لفظ کا مطلب محض یہود کی نسل کشی کے معنوں تک محدود ہوکر رہ گیا۔ دراصل ہولوکاسٹ کا مطلب ہے آگ، زلزلے یا جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی، قتل عام، عالمگیر تباہی (قومی انگریزی اردو لغت)۔

یہاں ضمناً اس بات کی وضاحت مناسب ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ یہود دشمنی کےلیے بڑی چابکدستی سے عموماً سامیت دشمنی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ سامی النسل لوگوں میں تاریخی طور پر عبرانی، عربی، فنیقی، کنعانی، اشوری، حبشی وغیرہ شامل ہیں۔ یعنی وہ تمام قبائل جو سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔ گزشتہ صدی کے دوران جس طرح عالمی ذرائع ابلاغ نے ہولوکاسٹ اور سامیت دشمنی کے الفاظ کی مخصوص مقاصد کےلیے نشرواشاعت کی ہے، یہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ (بقول اقبال) افرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے۔ حتیٰ کہ کیمبرج اور آکسفورڈ کی آن لائن لغات میں سیمیٹک کے معنی لکھے ہیں، اس انسانی نسل کے متعلق جس میں عرب اور یہود شامل ہیں۔ مزید وضاحت کےلیے (کیمبرج لغت میں) جملہ لکھا ہے: عبرانی اور عربی سامی زبانیں ہیں۔ جبکہ اینٹی سیمیٹک کے معنی لکھے ہیں یہود مخالف (یعنی صرف یہود مخالف اوراہل عرب کا ذکر نہیں کیا)۔

مقصد اس مثال کا یہ ہے کہ یہود نے اپنے موقف کی اس قدر تشہیر کی ہے کہ دنیا کی غیر جانبدار سمجھی جانے والی کتب یعنی لغات میں بھی ان کا نقطہ نظر سرائیت کرچکا ہے۔

x

Check Also

ذرا نہیں، پورا سوچیے

وفاقی حکومت نے نواز شریف کی واپسی کےلیے حکومتِ برطانیہ کو خط لکھ دیا۔ خط ...

%d bloggers like this: