تم ہار نہیں سکتے!

8 اکتوبر 2005 کی صبح آج بھی مجھے یاد ہے۔ اس صبح زمین لرز اٹھی تھی اور میں آج بھی یاد کرکے کانپ جاتا ہے۔ میں اس وقت گورنمنٹ کالج وہاڑی میں سائنس کا طالب علم تھا، چھٹی لے کر گاؤں جارہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی کہ واپس آجاؤ، کشمیر جانا ہے۔ میں راستے میں گھر جانے والی گاڑی سے اترا اور واپسی کی بس پکڑ لی۔ میں نے پہلی بار پاکستانیوں کو ایک قوم بنتا دیکھا تھا۔ بچوں، بڑوں، خواتین میں قربانی کا وہ جذبہ دیکھا جو اس کے بعد 2010 کے سیلاب میں نظر آیا۔ ہم کالج کے دوست سحری کرکے نکلتے، رات کو واپس لوٹتے۔ گاؤں گاؤں جاتے، مساجد میں اعلان کرتے اور زلزلہ زدگان کےلیے سامان اکٹھا کرتے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم ایک ایسے گاؤں میں بھی گئے جہاں صرف دو گھنٹے میں ایک ٹرک سامان اکٹھا کرلیا تھا۔ اس سامان میں غذا، کپڑے، بستر وغیرہ تھے۔ ایک چھوٹی سی بچی ایسی بھی تھی جو اپنے کھلونے، بسکٹ، ٹافیاں لے کر آگئی، معصومیت سے بولی ’’چاچو یہ ان کو دے دینا جن کو ضرورت ہے۔‘‘ ہم 20 دن تک آزاد کشمیر میں رہے۔ وہاں بھی محبت، ایثار و قربانی کا جذبہ نظر آیا۔

آج صرف کشمیر ہی نہیں دنیا کے تمام انسانوں کو اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ ہر انسان کو دوسرے انسان کی ضرورت ہے۔ اس بار ایک ایسا مسئلہ درپیش ہے جو دنیا کے 196 ممالک کا مشترکہ ہے۔ سات ارب انسانوں کا ایک ہی دشمن ہے: کورونا وائرس۔

آج یورپ بند ہے، امریکا اکیلا ہے، افریقہ خوف زدہ، بھارت میں کرفیو ہے، پاکستان میں لاک ڈاؤن ہے، ہر حکومت اپنے تئیں اس قاتل وائرس سے اپنے لوگوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ پنجاب میں شاپنگ مالز اور سیاحتی مراکز بند، سڑکیں سنسان ہیں۔ کورونا نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو بھی جگا دیا ہے اور وہ خود ہدایات بھی دے رہے ہیں اور میڈیا سے بات بھی کررہے ہیں۔

سب سے شاندار کام وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور ان کی ٹیم کا ہے، وہ ایک مجاہد کی طرح لڑ رہے ہیں۔ ان کے وزراء اور وہاں کی سیاسی جماعتوں کا اتحاد بھی قابل تقلید ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ اس وقت وفاق اور چاروں صوبوں، گلگت، آزاد کشمیر کو لیڈ کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں جام کمال، کمال کررہے ہیں۔ محدود وسائل میں کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کی کوشش کررہے ہیں۔

دیہات میں شادیاں مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں لیکن تقریبات چھوٹی ہوگئی ہیں۔ انتظامیہ کچھ کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔ شہروں اور دیہات کی زندگی میں فرق ہے۔ دیہات میں لاک ڈاؤن نہیں ہوسکتا۔ دیہات میں اجتماع صرف شادیوں میں ہوتا ہے، وہ کم ہوگیا ہے۔ دوسرا مذہبی اجتماع ہے۔ بروقت انتظامات نتیجہ خیز ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس غذا کی کمی نہیں، صرف ذخیرہ اندوز ہی مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں۔ سماجی میل جول میں کمی نہیں آئی لیکن لوگوں میں اب ہاتھ ملانے کا رواج کم کردیا گیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے ہاسٹلوں کو قرنطینہ کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔

طاقت سے معاملہ حل نہیں ہوگا، سماجی شعور کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ بلدیاتی نمائندے اس حوالے سے بہت اچھا کردار ادا کرسکتے تھے لیکن بدقسمتی سے یہ نمائندے موجود نہیں۔ حکومت کو اسپتالوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سب ذمہ داری ادا کریں گے تو اس مشکل سے ہم نکل آئیں گے۔

لوگوں کے پاس موبائل فون ہیں۔ اب تک تقربیاً سب لوگوں تک پیغام پہنچ چکا ہے کہ کورونا وائرس کیا ہے، یہ کس طرح پھیلتا ہے، اس سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟ علمائے کرام اور دانشور طبقے کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام ایس ایچ اوز کی ذمہ داری لگادی جائے کہ کوئی بندہ باہر نہ نکلے تو کنٹرول ہوسکتا ہے۔ اس وبا سے سب کو مل کرلڑنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے ذرائع اور وسائل کے تحت انتظامات کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کا اٹلی، یورپ، چین سے موازنہ کیا جارہا ہے جو ناانصافی ہے۔ ہمیں اپنے ماحول کے مطابق کام کرنا ہے۔ لوگوں کو چیزیں مل رہی ہیں، لوگ اپنے ارد گرد کے غریب لوگوں کا خیال رکھ رہے ہیں۔ ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو لوگ قربانی دیں گے۔

ڈاکٹر اسامہ ریاض شہید جیسے لوگ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ فرنٹ لائن پر کام کرنے والے سبھی ڈاکٹرز، نرسیں، دیگر طبی عملہ ہمارے ہیروز ہیں، تحسین کے قابل ہیں۔ پوری دنیا کے طبی عملے کو سلام۔ یہاں ہمیں پاک فوج، پولیس، ریسکیو اہلکاروں، میڈیا کے لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ پوری دنیا گھروں میں بیٹھ سکتی ہے، یہ گھروں میں بیٹھ گئے تو دنیا کا ہر انسان ایک ایک ہو کر ختم ہوجائے گا۔ یہ انسانیت بچا رہے ہیں، انسانیت انہیں یاد رکھے گی۔

سندھ حکومت الخدمت فاؤنڈیشن اور سیلانی جیسے فلاحی اداروں کی خدمات لے کر لوگوں کے گھروں تک راشن پہنچانے کی خدمات لے رہی ہے۔ ان اداروں کے ملک بھر میں کارکنان، دفاتر، ایمبولینسز، اسپتال، دسترخوان موجود ہیں۔ وفاق ان کی خدمات لے۔ بھکاریوں کی طرح امریکا یا کسی اور کی طرف نہ دیکھے۔ ان اداروں کے پاس وافر پیسہ اور افرادی قوت موجود ہے۔ اس ماہ 600 ارب روپے سے زائد زکوۃ بھی اکٹھی ہونے والی ہے۔

قوم کو قیادت کی ضرورت ہے، بھکاریوں کی نہیں، وزیر اعظم صاحب کسی مخمصے میں پڑے بغیر آگے بڑھیں، قوم کو لیڈ کریں۔ لیڈر یاد رہتے ہیں، سیاستدان کوڑے دان کا حصہ بنتے ہیں۔

اے پاکستانیو! یاد رکھو، تم نے زلزلہ زدگان کی بحالی کی ہے، تم نے تباہ کن سیلاب کا مقابلہ کیا ہے، تم نے دہشت گردی کے خلاف خوفناک جنگ جیتی ہے۔ کورونا وائرس ان سب سے بڑا نہیں۔ صفائی نصف ایمان ہے۔ اس پر عمل کیجیے اور خود بھی محفوظ رہیے، دوسروں کو بھی محفوظ رکھیے۔ ہر گھر اپنے محلے کے ارد گرد کے پانچ گھروں کا خیال رکھے۔ جو ہے اسے بانٹ کر کھائیے اور گھروں میں رہیے۔ یہ نہ دیکھیے کہ وزیراعظم کیا کررہے ہیں، یہ نہ دیکھیے کہ اپوزیشن لیڈر کیا کہتا ہے، یہ نہ دیکھیے کہ وزرائے اعلیٰ، وزراء کام کررہے ہیں یا نہیں۔ یہ سب اپنی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق کررہے ہیں۔ جس میں جتنی ذہانت و صلاحیت ہے، اسی کے مطابق فیصلہ کررہے ہیں۔ مشکل وقت میں ہی پتا چلتا ہے کہ کون کتنا قابل ہے۔

x

Check Also

ذرا نہیں، پورا سوچیے

وفاقی حکومت نے نواز شریف کی واپسی کےلیے حکومتِ برطانیہ کو خط لکھ دیا۔ خط ...

%d bloggers like this: