ناکام کون؟ ہم یا بھارت

ناکام کون؟ ہم یا بھارت

تحریر: زکریا ایوبی

ہمارے ہاں سائنس سے متعلق ایک عام رجحان پایا جاتا ہے کہ جب بھی کوئی نئی دریافت ہوتی ہے تو ہم اس دریافت کو قرآن پاک میں ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں اور آخر کار وہ آیت نکال کر ہی دم لیتے ہیں جس میں آج سے چودہ سو سال پہلے اس دریافت کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔ آج بھی بھارتی خلائی مشن کی ناکامی پر کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ قرآن پاک میں پہلے ہی بتایا جاچکا ہے کہ انسان زمین اور اس کے مدار سے نکل سکتا ہے۔
سورہ رحمٰن میں ارشاد باری تعالی ہے،
’’یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَان‘‘ (الرحمٰن:33)
اس کا ترجمہ تفہیم القران میں کچھ یوں کیا گیا ہے:

’’ا گروہِ جن وانس !اگرتم زمین وآسمان کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو توبھاگ دیکھو،نہیں بھاگ سکتے،اس کے لئے بڑا زور چاہئے‘‘-
ہم مسلمان اس ایک جملے پر تکیہ کرکے بیٹھے رہے کہ نہیں بھاگ سکتے، لیکن اللہ تعالی نے یہ بھی تو کہا ہے کہ اس کے لیے بڑا زور چاہیے تو ہم نے وہ زور حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ آج اگر بھارت نے یا کسی اور نے وہ زور یا طاقت حاصل کر لیا ہے اور وہ زمین کی سرحدوں سے نکلنے کی کوشش کی ہے تو اس کی ناکامی کا مذاق اڑانے کے بجائے اپنی اداؤں پر غور کرنا چاہے کہ ہم نے وہ زور حاصل کرنے کے لیے کیا کیا۔
اپنے اس رویے کی وجہ سے ہم آج نشان عبرت بن چکے ہیں لیکن پھر بھی اپنی ناکامیوں پر غور کرنے کے بجائے دوسروں کی ناکامیوں پر جشن منانے میں مصروف ہیں۔

x

Check Also

پانی کی بچت: عارضی منصوبہ یا مستقل کام؟

زرعی معیشت میں کھالہ جات کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے انسانی جسم میں ...

%d bloggers like this: