نواز کے بعد زرداری کا انکار

سابق وزیراعظم نواز شریف کے بعد سابق صدر آصف زرداری سے بھی حکومت کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

ذرائع کے مطابق نوازشریف کی طرح آصف زرداری سے بھی ڈیل میں پیش رفت نہیں ہو سکی۔

طاقتور ترین لوگوں نے چند دن پہلے آصف علی زرداری سے بھی ڈیل کے لئے رابطہ کیا۔

انہیں بھی پیشکش کی گئی کہ وہ چند سال کے لئے بلاول بھٹو سمیت پاکستان سے باہر چلے جائیں تاکہ موجود سیٹ اپ کو آگے بڑھایا جا سکے، تاہم انہوں نے انکار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیل نہیں، لاک ڈاون:نوازشریف کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق ملاقات میں کافی تلخی رہی اور ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکی بھی دی گئی۔

دھمکیوں پر سابق صدر آصف علی زرداری نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ’’جو اللہ کو منظور‘‘۔

دنیا ٹو ڈے نے جاننے کی کوشش کی کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ جن کی وجہ سے ڈیل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور دونوں پارٹی قائدین کو چند سال کے لئے باہر بھیجنے کی بات ہو رہی ہے۔

اس پر ذرائع نے کہا کہ طاقتور حلقوں کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہے کہ پاکستان کا موجودہ سیاسی سیٹ اپ تیزی سے ناکام ہو رہا ہے۔ موجودہ مسائل حل کرنے میں کم از کم چار سال لگیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا دوستی کا پیغام، میاں منشا کا انکار

اگر نوازشریف اور آصف زرداری موجود رہے تو مخالفین مسلسل ان کے گرد جمع رہیں گے جس سے مسائل مزید پیچیدہ ہوں گے۔

بات یہاں بھی سمجھ نہیں آئی تو مزید سوالات کرنے پر ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے اہم بہت بڑے طبقے کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔

وہ طبقہ اب مسلسل نوازشریف اور آصف زرداری کے پیچھے حکومت کے خلاف پیسہ بہانے کے لئے تیار بیٹھا ہے، اگر دونوں میں سے کوئی بھی سڑکوں پر آتا ہے تو مسائل قابل حل نہیں رہ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا نومبر دسمبر میں تبدیلی آنے والی ہے؟

مولانا فضل الرحمان کے احتجاج نے پہلے ہی حالات خراب کر رکھے ہیں، اگر یہ دونوں جماعتیں بھی آگئیں تو سیٹ اپ ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

اسی وجہ سے آصف زرداری کو یہ بھی کہا گیا ہی کہ اگر انہوں نے بات نہ مانی تو سندھ حکومت بھی جائے گی۔

One comment

  1. Pingback: Dunya Today

x

Check Also

25 اپریل تک کوروناکیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ 25 اپریل تک کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ...

%d bloggers like this: