کیا نومبر دسمبر میں تبدیلی آنے والی ہے؟

ذرائع کے مطابق نواز شریف سے جیل میں طاقتور حلقوں کی ملاقات ہوئی ہے۔ جہاں ان سے ماضی میں ہونے والی غلطیوں پر معافی مانگنے کے ساتھ ازالہ کرنے کی بات ہوئی ہے۔


صحافی حامد میر نے بھی اپنے پروگرام میں بتایا کہ لندن میں بیٹھے شریف خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ طاقتور حلقے ان سے صلح چاہتے ہیں لیکن وہ کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔


ذرائع کے مطابق طاقتور حلقوں نے حکومت کو ہلانے کے لئے فی الحال سوشل میڈیا کا سہرا لیا ہے جہاں ملک ریاض اور شہزاد اکبر کی ویڈیو جاری کی گئی، پھر فیاض الحسن چوہان کی خواتین کے ساتھ نجی ویڈیو جاری ہوئی اور اب فواد چودھری کی ٹھیکے دینے کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک ہفتے میں تین ایسی ویڈیوز کا وائرل ہونا اتفاق نہیں ہے۔ یہ طاقتور حلقوں میں تبدیل ہوتی سوچ کا عکاس ہے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور وزیراعظم کو اس تبدیلی کا ادراک ہے اسی وجہ سے انہوں نے وزیراعلی پنجاب کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور میاں اسلم اقبال کو یہ عہدہ ملنے کا امکان ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق حکومتی اقدامات سے موجودہ سوچ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہ تمام معاملات انتہائی پیچیدہ ہو گئے ہیں۔


ذرائع کے مطابق طاقتور حلقوں نے موجودہ حکومت کو غیرملکی امداد سمیت ہر معاملے پر ریلف دیا لیکن موجودہ حکومت نے کشمیر کے معاملے پر ان کو “اوپن” چھوڑ دیا۔ حتی کے غیر ضروری گفتگو اور بیان بازی کے چکر میں کئی دوست عرب ممالک کو ناراض کر دیا جو ہمیشہ ضرورت پڑنے پر پاکستان کی مالی امداد کرتے رہے ہیں۔


ذرائع کے مطابق متعدد بار وزیراعظم سے پنجاب میں تبدیلی کی خواہش کا اظہار کیا گیا لیکن پھر بھی عمران خان وسیم اکرم پلس کی بات پر آڑے رہے جس کی وجہ سے پنجاب میں طاقتور حلقوں کی ساکھ کو ناقابل یقین نقصان پہنچا۔

حکومتی وزرا نے اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لئے مسلسل طاقتور حلقوں کے ساتھ ہونے کا تاثر قائم کیا تاکہ ان سے سوال نہ ہو سکیں حالانکہ ان کی کوتاہیوں میں کہیں بھی کوئی ایسی بات نہ تھی۔ طاقتور حلقوں کا نام غیر ضروری طور پر لیا گیا جس کی وجہ سے ان کی بدنامی ہوئی

ذرائع کے مطابق پاکستانی طاقتور حلقوں میں چار دن پہلے اے آر وائی نیوز کی خبر پر بہت بحث ہوئی۔ جس پر کچھ افراد میں بات تلخی تک آئی۔

خبر کچھ یوں تھی کہ کراچی کھارادر میں ایک شخص نے نوکری سے نکالے جانے پر عمارت کی پانچویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی۔

اس خبر کی بنا پر حکومتی اقدامات اور پشت پناہی کو انتہائی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ کیونکہ موجودہ معاشی حالات کی وجہ سے کراچی میں بڑے پیمانے پر نوکریوں میں کمی آئی ہے اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے۔ بحث میں ڈان کی خودکشیاں بڑھنے کے رجحان کی رپورٹ پر بھی انتہائی تلخ گفتگو ہوئی۔


ذرائع کے مطابق طاقتور حلقوں نے واضح کر دیا ہے کہ ادارہ کسی صورت فرد واحد کا نہیں، اسی وجہ سے وسیع تر قومی مفاد کو ہر صورت مدنظر رکھا جائے گا۔

One comment

  1. Pingback: Dunya Today

x

Check Also

سندھ میں کورونا وائرس کے 47 نئے کیسز، ملک میں متاثرین کی تعداد 184 ہوگئی

سندھ میں کورونا وائرس کے 47 نئے کیسز کی تصدیق ہوگئی جبکہ خیبر پختونخوا میں ...

%d bloggers like this: