محمد حنیف کا کالم: گندی باتیں!

محمد حنیف کا کالم: گندی باتیں!

تحریر: محمد حنیف

جب بچہ بولنا سیکھتا ہے تو پہلے اس کو بڑوں کو سلام کرنا سکھایا جاتا ہے۔ تھوڑی زباں رواں ہوتی ہے تو ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل سٹار ٹائپ کا نرسری گیت، یا مدینے کو جاؤں جی چاہتا ہے قسم کی نعت رٹوائی جاتی ہے جو بچے کو گھر آئے مہمانوں کے سامنے سنانی پڑتی ہے۔

جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں وہ ممنوعہ الفاظ بھی سیکھ لیتے ہیں اور انھیں اس میں ایک خاص قسم کا لطف آتا ہے لگتا ہے کہ وہ اب بڑے ہو گئے ہیں۔

بچہ جب پہلی دفعہ پشی اور پوٹی جیسے لفظ سیکھتا ہے تو انھیں موقع موقع استعمال کرتا ہے اور کھلکھلا کر ہنستا ہے۔

پھر بچہ بڑا ہو کر گلی محلے میں جاتا ہے اور اپنی اپنی سماجی کلاس اور ثقافت کے مطابق ماں بہن کی گالیوں کی کوئی ورائٹی سیکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زندگی کا کوئی اہم سبق بھی سیکھ لیتا ہے کہ یہ گالیاں اپنے یار دوستوں کے ساتھ دے سکتے ہیں اپنے بڑوں کے سامنے نہیں اور یہ زبان آپ کسی اجنبی کے ساتھ بھی استعمال نہیں کر سکتے۔

اب چونکہ بچوں کی زیادہ تر تعلیم وٹس ایپ، ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کی دوسری اقسام پر ہو رہی ہے تو اس پھپھو اور خالو کا کردار ختم ہو گیا ہے جو بچے کے منہ سے گندی بات سن کر کہتے تھے کہ جاؤ کلی کر لو۔

میرے خیال میں گالم گلوچ کی معاشرے میں اجازت ہونی چاہیے۔ عوامی شخصیات چاہے وہ وردی میں ہوں، شیروانی میں یا عمامے میں ان کا مذاق اڑانے کی اجازت ہونی چاہیے۔ گولیوں سے گالیاں بہرحال بہتر ہیں اور بری جگتیں بھی بم دھماکوں سے زیادہ قابل قبول ہیں لیکن اب سوشل میڈیا پر متحرک سیاسی کارکنوں میں ایک نیا رحجان پایا گیا ہے کہ وہ اپنا مافی الضمیر، اپنا سیاسی نظریہ، اپنی زندگی کے مقاصد صرف اور صرف گالیوں میں بیان کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

جب چند دن پہلے ٹوئٹر پر ‘رنڈی ان منڈی’ کا ٹاپ ٹرینڈ دیکھا تو یقین سا ہو چلا کہ جس نسل کی تربیت دو دہائیوں سے جاری تھی وہ اب اتنی مکمل ہو چکی ہے کہ اب ہماری لغت میں سے گالیوں کے علاوہ باقی سارے لفظ نکال ہی دیے گئے ہیں۔

نوجوانوں کے دل کی آواز اور نئے پاکستان کی بانی پارٹی اس میں سے آگے ہے لیکن باقی یار لوگ بھی ان سے کافی سیکھ گئے ہیں۔ اس میں والدین اور تعلیم کو بھی دوش نہیں دیا جا سکتا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں اتنا انقلاب نہیں آیا کہ کوئی ماں باپ کے سامنے صبح سے شام تک کسی کو رنڈی کہتا رہے۔

اگر کبھی ان لوگوں کی پروفائل پر نظر ڈالیں تو تعلیم کی بھی کوئی کمی نہیں۔ ایم بی اے، ڈاکٹر، انجنیئر اور کمپیوٹر والے، کوئی جغرافیائی قید بھی نہیں، بورے والا سے لے کے برمنگھم تک اور اوکاڑہ سے اوسلو تک ہم گالیاں دینے والی ایک قوم بن چکے ہیں اور اپنے اپنے رتبے کے حساب سے گالیاں کھانے والی قوم بھی۔

اگر آپ عوامی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ خاتون بھی ہیں تو ان گالیوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق دس گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

کبھی کبھی دل کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتا ہوں کہ یہ گالیاں دینے والے وہ بچے ہیں جنھوں نے نیا نیا پشی، پوٹی کہنا سیکھا ہے اس لیے بولنے دو۔ ویسے حال یہ ہے کہ اگر کوئی بغیر گالی دیے اختلاف کرے تو اسے گلے لگانے کو دل کرتا ہے۔

چند دن پہلے مجھے غدار کہتے ہوئے کسی نے میری اہلیہ کی تصویر لگا دی میں نے انتہائی شفقت سے پوچھا کہ بیٹا اس کا میری غداری سے کیا لینا تو جواب ملا تو بھی غدار، تیرا پورا خاندان غدار۔ دل سے دعا نکلی کہ شاید تیری تربیت اچھی ہوئی ہے کیونکہ تو نے میری مرحوم ماں کو تو بخش دیا۔

مجھے یقین ہے کہ تربیت میں واقعی کوئی کمی نہیں، سب کے پروفائل میں پاکستان کا جھنڈا، قائد اعظم کی تصویر، ساتھ کوئی خوبصورت سی قرآنی آیات یا حدیث۔ اب ہمارا قومی نعرہ کچھ اس قسم کا ہونا چاہیے، اللہ میرا رب، پاکستان میرا ایمان، پاک فوج کو سلام، فلاں میرا لیڈر اور تیری ماں رنڈی۔

نوٹ: یہ کالم بی بی سی اردو سے لیا گیا ہے


x

Check Also

لکھاری جو پہلے ناول سے کروڑ پتی بن گیا

لکھاری جو پہلے ناول سے کروڑ پتی بن گیا

تحریر: محمد بلال غوری نوبیل انعام برائے ادب کی ’’بے ادبی‘‘ پر کڑھ رہا تھا ...

%d bloggers like this: