پانی کی بچت: عارضی منصوبہ یا مستقل کام؟

زرعی معیشت میں کھالہ جات کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے انسانی جسم میں خون بہم پہنچانے والی شریانوں کی۔ جس طرح ہمارے جسم میں موجود شریانیں خون کو روئیں روئیں تک پہنچانے کی ذمے دار ہیں، بعینہ کھالہ جات دریاؤں اور نہروں سے ملنے والے پانی سے ایک ایک ایکڑ کو سیراب کرتے ہیں۔

اس وقت صوبہ پنجاب میں تقریباً 58 ہزار کھالہ جات ہیں۔ جن کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔ زرعی مقاصد کےلیے استعمال ہونے والا 70 فیصد پانی ان چینلز یعنی کھالہ جات کے ذریعے ہی کھیتوں تک پہنچتا ہے۔

لیکن ایک اندازے کے مطابق سالانہ بارہ ملین ایکڑ فٹ پانی ان کھالہ جات کے کچے اور ٹیڑھے میڑھے ہونے کے باعث ضائع ہوجاتا ہے۔ فصلوں تک پہنچ نہیں پاتا۔ کچے کھال میں رساؤ اور کٹاؤ کے باعث نصف سے زائد پانی ابتدائی سطح پر ہی ضائع ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ٹیل تک یا تو پانی پہنچتا ہی نہیں یا پھر بہت کم مقدار میں پہنچتا ہے۔ جس سے نہ صرف وسائل کی تقسیم ناہموار ہوتی ہے بلکہ کسانوں کے درمیان بے شمار قسم کے تنازعات جنم لیتے ہیں۔ بسا اوقات یہ تنازعات قتل و غارتگری تک جا پہنچتے ہیں۔
آبی ماہرین کی جانب سے کیے گئے سروے اور تحقیق سے یہ دریافت ہوا کہ ان کھالہ جات کو اگر کل لمبائی کا 60 فیصد تک پختہ کردیا جائے تو بہ یک وقت پانی کی پچاس فی صد بچت، کم پانی سے بہتر کاشتکاری، زیادہ پیداوار، ٹیل تک فراہمی کے باعث بنجر زمینوں پر کاشت، تنازعات میں کمی اور فیلڈ کی سطح پر روزگار کی فراہمی سمیت بے شمار فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں۔

پنجاب میں محکمہ اصلاحِ آبپاشی جسے آن فارم واٹر مینجمنٹ کا نام بھی دیا جاتا ہے، کی ابتدا 1976 میں ایک پراجیکٹ کے طور پر ہوئی۔ 76 سے 2004 تک 28 سال میں تقریباً 26 ہزار کھالہ جات کو اوسطاً دس سے پندرہ فیصد لمبائی تک پختہ کیا گیا۔ 2005 میں سابق صدر پرویز مشرف نے ’’قومی پروگرام برائے اصلاح کھالہ جات‘‘ کا منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا۔ منصوبے کے تحت پنجاب کی ہر تحصیل اور سب یونٹ سطح پر ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ساڑھے پانچ ہزار کا اسٹاف بھرتی کیا گیا، جسے فیلڈ میں کام کرنے کی ٹریننگ دی گئی۔

قومی پروگرام کے تحت سات سال میں 26 ہزار کھالہ جات کو تیس فیصد لمبائی تک پختہ کیا گیا۔ حال ہی میں قومی پروگرام کے دوسرے فیز کی ابتدا کی گئی ہے، جس کے مطابق اگلے چار سال میں دس ہزار کھالہ جات کو 50 فیصد لمبائی تک پختہ کیا جائے گا۔ دریں اثنا آبپاش زراعت کی ترویج یعنی PIPIP نامی منصوبے کے توسط سے بھی کھالوں کی 50 فیصد تک پختگی کا کام جاری ہے۔ اگر ان منصوبہ جات کو مشرف دور کی طرح ہنگامی بنیادوں پر اسٹاف کی مکمل استعداد کار کے ساتھ اسی طرح جاری رکھا گیا تب بھی پنجاب کے تمام کھالہ جات کو 50 فیصد تک پختہ کرنے میں اگلے بیس سے پچیس سال لگ جائیں گے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک پختہ کھال کی مدت یعنی لائف سولہ سال ہے۔ سولہ سے بیس سال کے درمیان ایک پختہ کھال کی مدت میعاد ختم ہوجاتی ہے۔ یوں جب تک پنجاب کے 58 ہزار کھال پچاس فیصد تک پختہ ہوں گے تب تک آج سے پہلے بنے تمام کھالہ جات اپنی میعاد پوری کرچکے ہوں گے۔ اور ان کی ایک بار پھر سے تعمیر نو یا مرمت کا کام درکار ہوگا۔ اس تعمیر نو کے مکمل ہونے تک بقیہ کھال اپنی مدت پوری کرلیں گے۔ یوں یہ کام ہمیشہ جاری و ساری رہے گا۔

اب ذرا معاملے کے ایک اور پہلو پر نظر ڈالتے ہیں۔ کھال کی پختگی عام ترقیاتی کاموں سے یکسر مختلف کام ہے۔ یہ کام بہ یک وقت تکنیکی مہارت، تجربہ اور ابلاغی صلاحیت جیسی خصوصیات کا متقاضی ہے۔ اسے صرف وہی لوگ سر انجام دے سکتے ہیں جو پنجاب کے دیہاتی ماحول اور تکنیکی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ کیونکہ ایک جانب تو آپ کو پانی کی بچت جیسے اہم ترین کام کی حساسیت کا علم ہونا چاہیے۔ دوسری طرف آپ کے پاس اس کام کو بخوبی سر انجام دینے کےلیے مطلوبہ معیار کی تعلیم اور فیلڈ کا تجربہ ہونا چاہیے۔ اور تیسری جانب آپ میں یہ اہلیت بدرجہ اتم موجود ہونی چاہیے کہ آپ باقاعدہ مارکیٹنگ کرکے کاشت کار کو کھال کی پختگی کی جانب راغب کرسکیں۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ آپ کو کھال کہ پختگی کے دوران پیدا ہونے والے بے شمار تنازعات سے بھی نمٹنا ہوگا، جو کہ سالہا سال سے چلے آرہے ہیں اور ہماری دیہی روایات کا حصہ بن چکے ہیں۔

زمینوں کی پیمائش، روٹ کے جھگڑے، خاندانی دشمنیوں اور وارہ بندی کے مسائل سے نمٹنے کےلیے فیصلہ سازی کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ گویا یہ ایک چہار جہت کام ہے جو صرف تعلیم، تجربے، تربیت اور اہلیت کی بنیاد پر ہی سر انجام دیا جاسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ محکمہ میں بھرتی کیے گئے ملازمین کی ٹریننگ اور فیلڈ تجربے کی مد میں کروڑوں روپیہ صرف کیا گیا۔ عالمی بینک کے ماہرین پر مشتمل ایک وفد اپنی تحریری سفارشات میں یہ تسلیم کرچکا ہے کہ قومی پروگرام برائے اصلاح کھالہ جات کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین کھالہ جات کی پختگی کےلیے تمام مطلوبہ معیار کی تعلیم اور تجربہ کے حامل ہوچکے ہیں۔ لیکن انتہائی قابل افسوس امر یہ ہے کہ یہ تجربہ کار ملازمین آہستہ آہستہ اس کام کو چھوڑ کر جارہے ہیں۔ کیونکہ اس میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ قومی پروگرام کے تحت پنجاب میں ساڑھے پانچ ہزار ملازمین بھرتی کیے گئے لیکن اب صرف 2000 کے قریب بچے ہیں۔ باقی سب چھوڑ کر جاچکے۔ جو بچ گئے ہیں وہ بھی کنٹریکٹ پر ہونے کی وجہ سے بددل اور مایوس ہورہے ہیں اور حتی الامکان کسی اور روزگار کی تلاش میں ہیں۔

اب اگر ان کی جگہ نئے اسٹاف کو بھرتی کر بھی لیا جائے تو ان کی تمام تر ٹریننگ پر سرمایہ صرف کرنے کے بعد بھی وہ اس تجربہ کے حامل نہیں ہوسکتے جو موجودہ اسٹاف کے پاس ہے۔ تو آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ایسا کام جو ہمیشہ جاری رہے گا، جو آئندہ نسلوں کے تحفظ کی ضمانت ہے اس پر کام کرنے والوں کو مستقل نہیں کیا جارہا۔ پندرہ سال بعد بھی کنٹریکٹ پر ہی رکھا گیا ہے؟

مقتدرانِ وقت کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ پانی کی بچت کا کام محض ایک پراجیکٹ کا مرہون منت نہیں۔ ہر سال لاکھوں کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن واٹر مینجمنٹ ملازمین ہر بار پراجیکٹ ملازمین سمجھ کر دھتکار دیے جاتے ہیں۔ آخر کب تک یہ ناانصافی جاری رہے گی؟ اس بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جائے اور ایسی پالیسیاں وضع کی جائیں جس سے کسی کا استحصال بھی نہ ہو اور مستقبل کی مؤثر پیش بندی بھی کی جا سکے۔

x

Check Also

ذرا نہیں، پورا سوچیے

وفاقی حکومت نے نواز شریف کی واپسی کےلیے حکومتِ برطانیہ کو خط لکھ دیا۔ خط ...

%d bloggers like this: