ذرا نہیں، پورا سوچیے

وفاقی حکومت نے نواز شریف کی واپسی کےلیے حکومتِ برطانیہ کو خط لکھ دیا۔ خط میں لکھا گیا کہ نواز شریف اپنی طبی بنیادوں پر ملنے والی ضمانت کا عرصہ مکمل کرچکے اور اب انہیں اپنے وطن واپس بھیجا جائے تاکہ وہ اپنی باقی ماندہ سزا پوری کرسکیں۔ اکثر سوچتا ہوں کہ تیسری دنیا اور ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کے سوچنے کے انداز میں بنیادی فرق کیا ہے؟ مال و متاع کی تقسیم، ماضی کے خم و پیچ، رنگ و نسل کا امتیاز سب اپنی جگہ، میرا سوال صرف سوچنے کے انداز کی حد تک ہے کہ وہ کون سا انداز تفکر ہے جو تیسری دنیا کے لوگوں کو فرسٹ ورلڈ کے لوگوں سے مختلف بناتا ہے؟

اس سوال کا جواب اہل دانش یہ دیتے ہیں کہ تھرڈ ورلڈ کے لوگ اپنے بنیادی مسائل اور ان کے حل کی فکر سے نابلد ہوتے ہیں اور یوں ان کی بیشتر قومی طاقت اور معاشرتی سوچ محض اِدھر اْدھر کی باتوں میں صرف ہوجاتی ہے۔ وہاں حکمرانی کرنے کا واحد طریقہ یہ ہوتا کہ عوام کو ادھر ادھر کی باتوں میں اتنا مصروف کردیا جائے کہ انہیں موقع ہی نہ ملے یہ سوچنے کا کہ ان کا ملک کس سمت جارہا ہے اور درپیش حقیقی مسائل کے حل کی کوشش کس طرح سے کی جائے۔ یوں مسائل اپنی جگہ پنپتے رہتے ہیں اور جو نسل نو پروان چڑھتی ہے، اس میں اتنی حس نہیں ہوتی کہ درپیش چیلنجز سے کیسے اور کیوں کر نمٹا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھر ہر شخص کی سوچ صرف اپنی ذات اور ظاہری رکھ رکھاؤ تک محدود ہوجاتی ہے اور کوئی بھی اپنی جلد سے باہر نکل کر کچھ کر دکھانے کا جذبہ نہیں رکھتا۔

اب یہیں کی مثال لے لیجئے۔ یہاں کی یوتھ سے اگر پاکستان کے پانچ بڑے سماجی مسائل پوچھ لیے جائیں تو شاید ہی وہ گنوا سکیں۔ آپ راہ چلتے کسی ٹین ایجر کو روکیں اور اس سے پوچھیں کہ ہمارے ملک کے کوئی سے پانچ بڑے مسائل گنوا دے۔ آپ یقین کریں وہ نام بھی نہیں بتا سکے گا، حل تو دور کی بات۔ مگر نواز شریف کی جائیدادوں کی تفصیل، مریم نواز کے ٹویٹر پر مشاغل اور عمران خان کی خوبصورتی پر تبصرے یہ نوجوان خوب کرلیں گے اور آپ کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھیں گے بھی۔ بیشتر لوگ اسے سوشل میڈیا کی بدولت ایک بیدار معاشرے سے تعبیر کرتے ہیں، مگر میرے نزدیک وہ یوتھ گمراہ ہے جسے اپنے بنیادی معاشرتی مسائل کا ادراک ہی نہ ہو۔
ہم پر جنہوں نے ظاہری طور پر اور جنہوں نے پس پردہ حکمرانی کی، انہوں نے حکمرانی کی کنجی اسی بات میں سمجھی کہ دو تین دنوں کے دورانیے پر محیط ایسے ایشوز اٹھائے جائیں کہ عوام ان کو دیکھتے، ان پر سوچتے اور ان کے بارے میں تبصرے کرکے ہی دن گزار لیں۔ چلیے اس کا بھی ٹیسٹ کیے دیتے ہیں۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ اس جعلی اکاؤنٹس کیس کا کیا بنا جس نے ہمارے عوام کی راتوں کی نیند حرام کر رکھی تھی کہ کس طرح سے کبھی فالودے والے تو کبھی ریڑھی والے کے بینک اکاؤنٹس سے اربوں روپے نکلنے کی خبریں آیا کرتی تھیں اور اسے پاناما سے بھی بڑا مالیاتی اسکینڈل کہا جاتا رہا۔ چلیے یہ بتائیے کہ وہ آٹے اور چینی کے بحران کا کیا ہوا جس نے ایک کہرام بپا کر رکھا تھا۔ ہر شخص آٹے کو ناپید سمجھ کر خوامخواہ گھر میں تھیلیاں اسٹاک کرنے لگا کہ گویا پاکستان میں اب آٹا کبھی دستیاب نہیں ہوگا۔ چلیں اتنا تو بتا دیجیے وہ اٹارنی جنرل اور فروغ نسیم کی لڑائی کا کیا بنا، جب ہر گلی اور ہر کوچے میں یہ بحث چل رہی ہوتی تھی کہ آیا فروغ نسیم حق پر ہے یا انور منصور خان غیر جمہوری قوتوں کا نمائندہ ہے؟ چند دن تو اس بات پر اودھم مچا رہا کہ اب یوٹیوب چینل کھولنے کےلیے کروڑوں کا لائسنس لینا پڑے گا اور آدھے عوام اس بات پر ہلکان ہوتے رہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو ایک وفاقی وزیر نے ایک صحافی کو تھپڑ مارا تھا تو چند دن اس کا بہت چرچا ہوا۔ لوگ کہنے لگے کہ یہ صحافی قانونی چارہ جوئی کرے گا۔ اب میڈیا پر مزید قدغنیں لگیں گی۔ حریم شاہ اور صندل خٹک کو انٹرپول گرفتار کرے گی اور بہت سے لوگ اس کی زد میں آئیں گے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ وہ معاملہ اب کدھر ہے؟

یہ تمام وہ ایشوز ہیں جن کا دورانیہ محض دو سے تین دن ہوتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ ہفتہ بھر۔ یہ ایشوز آتے ہیں، ہمارا وقت برباد کرتے ہیں، ہمارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ماؤف کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

آپ خود سوچیے کہ آپ نے آخری بار ہمارے ٹی وی چینلز پر اخلاقیات یا سماجیات پر کوئی مفصل ڈیبیٹ کب سنی تھی؟ کب آپ نے کسی اینکر کو یوتھ کےلیے کاروبار کے مواقعوں اور سیلف ایمپلائمنٹ پر سیاستدانوں میں بحث کرواتے دیکھا؟ کب آپ نے کوئی ایسا ٹاک شو دیکھا جس میں ٹیکنالوجی سے دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں اور انڈسٹریز کے اسپیشلسٹ افراد کو روبرو بٹھا کر ان کے مابین وسائل کے بہترین استعمال پر کوئی گفت و شنید کی گئی ہو؟ اتنے گیم شوز ہوتے ہیں جہاں لوگوں سے اوٹ پٹانگ حرکتیں کروا کر ان میں تحفے تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں، کیوں نہ ایک ایسا گیم شو ہو جہاں ہماری نوجوان نسل میں روبوٹک مقابلے ہوں اور انعامات تخلیق اور انوینشنز پر تقسیم کیے جائیں۔ ہمارے ہاں کب آپ نے آئیڈیاز پر گفتگو سنی جس میں پاکستان بھر کے بہترین دماغ اس بات پر بحث کررہے ہوں کہ ملک میں کیسے نیٹفلکس کی طرز پر پروڈکشن کی جائے؟ کیسے سرکاری اسکولوں کا تعلیمی معیار بہتر ہو؟ گاؤں دیہاتوں میں کیسے واٹر پیوریفکیشن ہو اور لوگ گندے پانی سے پھیلتی بیماریوں سے بچ سکیں؟ کیسے بغیر کتابوں کے اسکولز کا قیام ہو اور بچے جدید ترین تعلیم انٹرنیٹ کے ذریعے حاصل کریں؟ کیسے ایک ایسا نظام بنایا جاسکے جس میں پیسوں کی تقسیم یوں کی جائے کہ امیر اور غریب کا فرق مٹایا جاسکے؟ دیہاتی علاقوں میں سولر پینلز کا قیام ہو اور اسمال اسکیل انڈسٹریز کا قیام کیا جائے کہ لوگ موجودہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اپنا پیٹ پال سکیں۔

اگر ایسا نہ ہو تو ویسا ہوگا، جیسا آج ہورہا ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلز آپ کو نواز شریف کی غذا کا ضرور بتائیں گے مگر اس بوڑھے باپ کی خبر نہیں چلے گی جو خودکشی کےلیے چوہے مار گولیاں بھی چرانے پر مجبور تھا کیوں کہ وہ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کا پیٹ نہ پال سکا اور اس کے پاس زہر خریدنے تک کے پیسے نہیں تھے۔ چینلز پر آپ کو علی ظفر کی علی عظمت سے لڑائی کا تذکرہ ضرور ملے گا، مگر فیصل آباد میں کاٹن کی فیکٹری میں اس بیوہ کی اپنے ٹھیکیدار سے لڑائی کی خبر نہیں ملے گی جو گزشتہ نو ماہ سے اس کی تنخواہوں پر قبضہ کیے بیٹھا ہے۔ آپ کو نو بجے کے خبرنامہ میں آیان علی کا 6 سال بعد پہلے ٹویٹ کا ذکر ضرور ملے گا مگر لاہور میں ایک شخص کے ہاں سات سال بعد پہلی اولاد کا ذکر نہیں ملے گا، جو کہ ہوئی بھی تو اسپتال کے واش روم میں۔ کیوں کہ مریضہ نے اسپتال کی مرضی کے لیب سے ٹیسٹ نہیں کروائے تھے۔ ہانیہ عامر کی عاصم اظہر سے ناراضگی کی خبر تو بریکنگ نیوز کے طور پر چلے گی مگر اس خاکروب کا ذکر نہیں ہوگا جو شدید سردی میں آگ کی حدت نہ ملنے پر زندگی سے ہمیشہ کےلیے ناراض ہو چلا۔

ذرا نہیں، پورا سوچیے!

x

Check Also

پانی کی بچت: عارضی منصوبہ یا مستقل کام؟

زرعی معیشت میں کھالہ جات کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے انسانی جسم میں ...

%d bloggers like this: