مارچ نامہ

دنیا میں ہر سال 8 مارچ کو عورت کے دن کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ جہاں عورت کے مسائل، عورت کے مقام اور عورت کی قربانیوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ آج کی عورت کے سامنے بے پناہ مسائل اور دشواریاں ہیں۔ کم عمری اور زبردستی کی شادی، ونی کرنا، جائیداد میں حصہ اور معاشرتی طور پر کمتر ہونے کا احساس عورت کے مسائل میں سے چند ایک مسائل ہیں۔

باقی دنیا کی طرح پاکستان میں ان مسائل پر بات شروع ہوچکی ہے اور مختلف انداز میں عورتیں اپنا مدعا پیش کر رہی ہیں۔ مگر یہاں ہر نظریہ کی طرح اس معاملے پر بھی دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک سب اچھا والا گروہ، آنکھیں موندھے آرام فرما رہا ہے اور دوسرا گروہ چند امیر عورتوں کا ایک اکٹھ، جن کے اپنے گھر کی ملازمہ 5 ہزار ماہانہ پر کام کر رہی ہوتی ہے۔ یعنی عورت مارچ والا گروہ۔ ’’عورت مارچ‘‘ بھی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں بڑے گھرانوں کی چند عورتیں اکٹھی ہوکر عورت کے ’’حقوق‘‘ کی بات کرتی ہیں۔

عورت مارچ میں بہرحال عورت کے حقوق سے زیادہ مرد کو نیچا دکھانے، اس معاشرے کی قدیم روایات کو مسخ کرنے اور خاندانی نظام کے خلاف نعرے زیادہ ہیں۔ ’میرا جسم میری مرضی‘ یا ’سالن خود گرم کرلو‘ قطعاً عورت کے حقوق کی بات نہیں، بلکہ سیدھا سیدھا مشرقی خاندانی نظام اور اخلاقی نظام پر چوٹ ہے۔

ماہر عمرانیات خاندان کو ایک بہت اہم سماجی ادارہ تصور کرتے ہیں، جس میں عورت مرد کے برابر کی شریک ہے۔ مگر اب عورت کے حقوق کی نام نہاد تنظیمیں مرد اور عودرت کو آمنے سامنے لا کھڑا کر رہی ہیں۔ مرد و عورت ہر دو کی الگ شناخت، الگ مقام اور الگ کام ہے۔ ہم کیوں عورت کو مرد بنانے پر مصر ہیں؟ عورت کا الگ کام ہونے کا کیوں یہ مطلب ہے کہ وہ کمتر ہے؟ کیا وزیر برائے خارجہ امور اور وزیر برائے امور داخلہ برابر نہیں ہیں؟ یا برابری کا صرف یہ مطلب ہے کہ وہ ایک جیسا کام کررہے ہوں؟ سالن گرم کرنے والی عورت کو کبھی کسی مرد نے طعنہ دیا کہ میرے ہاتھوں کے چھالے دیکھو، میرے گھسی ہوئی ایڑیاں دیکھو، میرے پاؤں کے آبلے دیکھو؟ تمہیں شہزادی بنا کر رکھنے کے عوض میں کہاں کہاں غلام بنا؟ کس کس سے جھڑکیاں کھائیں، کدھر کدھر اپنی انا بیچی؟ کبھی ایسا نہیں ہوا، تبھی تو خاندان چلتے ہیں۔ اب جبکہ عورت کو ’’برابری‘‘ کی کہانی سنا کر گھر سے باغی کررہے ہو تو بتلاؤ کون سا احسان عظیم کر رہے ہو؟ کہاں پناہ دو گے عورت کو؟ کسی چوراہے کے بل بورڈ پر؟ یا کسی ٹی وی کے کمرشل میں؟ یا کسی سیٹھ کے ’’دفتر‘‘ میں؟

اقوام تاریخ سے سیکھتی ہیں، مگر کیا ہم تیار ہیں کہ اس مادر پدر آزادی کی تاریخ سے کچھ سیکھ لیں؟ اس آزادی کا سب سے بڑا تحفہ زنا بالجبر ہے، سنگل پیرنٹ خاندان ہیں، اولڈ ہومز ہیں اور طرح طرح کے نفسیاتی عارضے ہیں۔ مغرب کی آزادی عورت کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امریکا میں ہر 73 سیکنڈ میں ایک عورت کا ریپ ہوتا ہے یا ریپ کی کوشش ہوتی ہے۔ ہر 6 عورتوں میں سے ایک عورت کا زندگی میں کبھی نہ کبھی ریپ یا ریپ کی کوشش ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کی کرائم ٹرینڈ رپورٹ 2013 کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ ریپ امریکا میں سامنے آئے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق امریکا میں خاندانی نظام کا یہ عالم ہے کہ تقریباً 26 فیصد بچے سنگل پیرنٹس کے ساتھ رہے ہیں۔ انگلینڈ میں 21 فیصد جبکہ فرانس میں 16 فیصد بچے سنگل پیرنٹس کے ساتھ رہتے ہیں۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق فرانس میں 60 فیصد بچے بغیر شادی کے پیدا ہورہے ہیں، جبکہ امریکا میں یہ شرح 40 فیصد ہے۔ اس مادر پدر آزادی کا نتیجہ پاکستان میں مختلف کیوں ہوگا؟

آپ کا جسم ضرور آپ کا ہے، مگر کیا آپ کی مرضی اسے ننگا کرنا ہی ہے؟ برقعے والی آپ کو دقیانوسی کیوں لگتی ہے؟ کیا اس کا جسم اس کی مرضی نہیں؟

عورت مارچ ایک شغل، وقت گزاری، شوروغوغا، ٹی وی پروگرام کا مناظرہ یا کچھ کےلیے بیرونی آمدن کا ذریعہ تو ہوسکتا ہے مگر عورت کے مسائل کا حل نہیں۔ اس کا حل صرف وہ قابل عمل نمونہ ہے جو 1400 سال پہلے کسی نے عمل کرکے دکھا دیا، جن کے قول و فعل میں تضاد نہ تھا، جنہوں نے ایک مثالی سماج کی بنیاد رکھی تھی۔ جنہوں نے عورت کو گور سے نکال کر بہشت اس کے قدموں میں رکھ دی۔

آج مغرب کو محبت کا استعارہ بنا دیا گیا ہے اور اسلام کو رن بیزار مذہب کے طور پیش کیا جاتا ہے۔ مذہب کے ماننے والوں کو دقیانوسی خیالات، ملا، اور پتہ نہیں کیا کیا کہا جاتا ہے۔

جو آج محبت اور عورت کی عزت اور حقوق کے ٹھیکے دار بنے بیٹھے ہیں، ان کے نزدیک کیا عورت کی آزادی، عزت اور احترام صرف یہ ہے کہ اسے ڈیفنس کے گھوڑا چوک میں ادھ ننگا کسی بڑے سے بورڈ پر ٹانگ دیا جائے؟ یا گھر کے کچن سے نکال کر اسے ہوائی جہاز اور ڈیوو کے کچن میں چھوڑ دیا جائے؟

مائیکل ایچ ہارٹ ایک گورا مصنف ہے، جس نے ’’دی 100‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب میں دنیا کے 100 بہترین لوگوں کی فہرست بنائی جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اوپر ہیں۔ اس کی جملہ وجوہات میں سے ایک وجہ اس نے یہ بیان کی کہ دنیا کے کسی آدمی نے اپنی بیٹی کے آنے پر اپنے سر کی چادر اتار کر اس کےلیے نہ بچھائی۔ عرب میں اور یہاں برصغیر کی تہذیب میں مرد کی چادر اور پگڑی کا بڑا مقام ہے۔ اس پگڑی کے پیچھے قبیلوں کی جنگیں ہوئیں، اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اپنی بیٹی کے آنے پر بچھائی۔ فقط اس کی علامتی قدر پر ہی غور کرلیجیے تو بڑی آسانی پیدا ہوجائے گی۔ یہ مقام عورت کے حصے میں آیا تو اسلام کے صدقے سے۔ اور آج پڑھے لکھے جاہل، مغرب زدہ، ذہنی غلام عورت مارچ میں اسلام پر تنقید کریں گے۔ اور ستم یہ کہ جن کے ماں، باپ اولڈ ہاؤسز میں پڑے ہیں، اولاد بغیر شادی کے پیدا ہورہی ہے، طلاق ایک کلچرل نارم بن چکی ہے، ہم ان سے عورت کے حقوق سیکھیں گے؟

حضور! اولڈ ہومز میں پڑی آپ کی مائیں بھی عورتیں ہیں، ان کو تو حقوق دیجیے۔ اور آپ عورت مارچ کیجئے، پوری شدو مد سے کیجئے، مگر میرے اسلاف کی اقدار کا مذاق نہ اڑائیے۔ کیونکہ کسی نظریے پر کاربند ہونا اور کوئی عقیدہ رکھنا میرا بھی حق ہے۔ عورتوں کو حق دیتے میرے بھی حقوق کا خیال رکھیے۔

x

Check Also

پانی کی بچت: عارضی منصوبہ یا مستقل کام؟

زرعی معیشت میں کھالہ جات کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے انسانی جسم میں ...

%d bloggers like this: