کس نے توسیع لی اور کس نے ٹھکرائی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مدت ملازمت میں توسیع پانے والے پاکستانی فوج کے پانچویں سربراہ ہیں۔

ان سے قبل دو فوجی آمر جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف بطور آرمی چیف اور سربراہِ مملکت خود کو توسیع دیتے رہے۔

اس کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا اعلان بالترتیب سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان نے کیا۔

پاک فوج کے اب تک 16 سربراہان میں سے چھ کو چیف آف آرمی سٹاف تعینات کرنے کا اعزاز سابق وزیر اعظم نواز شریف کو حاصل ہے لیکن انھوں نے کسی ایک کو بھی مدت ملازمت میں توسیع نہیں دی۔

نومبر 2016 میں آرمی چیف بننے والے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے باضابطہ اعلان سے قبل ہی اس فیصلے کے امکانات ظاہر کیے جارہے تھے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور سربراہی میں سابق وزیرا عظم نواز شریف کو سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل کرکے گھر بھیجا گیا اور بعد میں احتساب عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں انھیں اور ان کی بیٹی مریم نواز کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی۔

جنرل باجوہ کے دور میں فوج کی زیر نگرانی سال 2018 کے عام انتخابات منعقد ہوئے اور اس کے نتیجے میں عمران خان وزیر اعظم بنے اور ان کی سربراہی میں تحریک انصاف کی حکومت وجود میں آئی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ سے قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کا تنازع بھی سامنے آیا تھا۔

سنہ 2016 میں اگست اور ستمبر کے بیچ اسلام آباد اور کراچی کی سڑکوں پر ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں بینرز اور پلے کارڈز آویزاں کیے گئے تھے جس میں ان کی تصویر کے ساتھ ‘جانے کی باتیں جانے دو’ کے نعرے درج تھے۔

اُس وقت اقتدار کی غلام گردشوں میں یہ باتیں بھی ہوئیں کہ وزیرِ اعظم نواز شریف کو راحیل شریف کی طرف سے مدت ملازمت میں توسیع کے پیغامات بھی بھیجے گئے جس کی تصدیق سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے حال ہی میں کی ہے۔


جنرل راحیل شریف نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد فوج کی کمان سنبھالی۔


جنرل کیانی، سول حکومت سے توسیع پانے والے پہلے آرمی چیف


جنرل راحیل شریف کے پیشرو جنرل اشفاق پرویز کیانی کو 22 جولائی 2010 کو تین سال کی ملازمت میں توسیع دی گئی تھی۔

توسیع کا اعلان اُس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قوم سے ایک خطاب میں کیا تھا۔

حال ہی میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے پوچھا گیا کہ آپ نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کس کے کہنے پر کی تو انھوں نے بتایا کہ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ باضابطہ اعلان کرنے سے تین ماہ قبل کر لیا گیا تھا۔

عام تاثر یہی تھا کہ جنرل کیانی کی توسیع میں امریکہ نے کوئی کردار ادا کیا تھا لیکن سابق وزیرِ اعظم گیلانی اس کی تردید کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فیصلہ اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری کی مشاورت سے کیا گیا تھا۔

اسے تاریخ کا جبر کہیے یا کچھ اور کہ اپنے قلم سے سابق آرمی چیف جنرل کیانی کو تین سال کی توسیع دینے والے یوسف رضا گیلانی خود وزیر اعظم کے طور پر پانچ سال کی مدت پوری نہ کرسکے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر انھیں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا البتہ سابق صدر آصف علی زرداری نے بطور صدر پانچ سال اپنی مدت ضرور پوری کی۔

جنرل مشرف نے بطور آرمی چیف جب اپنا عہدہ چھوڑا تو 29 نومبر 2007 کو انھوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو آرمی چیف تعینات کیا تھا۔ جنرل مشرف آج بھی اپنی اقتدار سے رخصتی کی ایک بڑی وجہ اسی فیصلے کو قرار دیتے ہیں۔

جنرل کیانی سے قبل جنرل مشرف آرمی چیف کے عہدے پر فائز تھے۔
جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدتِ ملازمت کا اختتام وزیرِ اعظم نواز شریف کے دور میں ہوا جس کے بعد جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف تعینات کیا گیا۔


جنرل پرویز مشرف، خود کو توسیع دینے والے دوسرے آرمی چیف
سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے جنرل مشرف کو چھ اکتوبر 1998 کو اُس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے استعفیٰ لینے کے بعد آرمی چیف تعینات کیا تھا۔

مئی 1999 میں کارگل تنازع کے بعد وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ٹھن گئی۔

اکتوبر 1999 میں نوازشریف نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو ان کے غیر ملکی دورہ سے واپسی کے سفر پر دوران پرواز ہٹا کر جنرل ضیا الدین خواجہ کو آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان کیا مگر جنرل مشرف ان سے پہلے ہی اپنا پلان تیار کر چکے تھے۔

جنرل شاہد عزیز اپنی کتاب ‘یہ خاموشی کہاں تک’ میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں کہ کیسے جنرل پرویز مشرف نے بیرون ملک جانے سے قبل بشمول جنرل عزیز، جنرل محمود اور اُس وقت کے ڈی جی ایم آئی جنرل احسان کو ہدایت کی تھی کہ نوازشریف حکومت کی جانب سے انھیں ہٹائے جانے کی صورت آپ سب کو مارشل لا لگانے کا اختیار ہے۔

ہوا بھی وہی۔ مشرف تو ہوا میں تھے لیکن زمین پر کارروائی انھی جرنیلوں نے کی۔

نتیجے میں پرویز مشرف اپنے عہدے سے نو سال ایک ماہ اور 23 دن تک چمٹے رہے اور خود ہی اپنے آپ کو توسیع دے کر آرمی چیف کے عہدے پر براجمان رہے۔
جنرل مشرف کے مطابق جنرل کیانی کو آرمی چیف بنانا ان کی اقتدار سے رخصتی کی وجہ بنا۔


جنرل کاکڑ، جنھوں نے توسیع کو ٹھکرایا


جنرل مشرف اور جنرل جہانگیر کرامت سے قبل جنرل عبدالوحید کاکڑ آرمی چیف تھے۔ انھیں 11 جنوری 1993 کو تعینات کیا گیا تھا۔

یوں تو ان کی تعیناتی نوازشریف کے پہلے دور حکومت میں ہوئی تھی لیکن یہ تعیناتی صدر کو اس وقت کے قانون کے تحت وزیراعظم کی طرف سے بھیجے گئے افسران کی فہرست میں درج پینل سے کی گئی۔

وحید کاکڑ کو صدر غلام اسحاق خان نے آرمی چیف تعینات کیا تھا۔ غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان ہونے والے تنازع میں جب جنرل کاکڑ امپائر بنے تو دونوں کو گھر جانا پڑا اور نئے انتخابات کے بعد وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اقتدار میں آ گئیں۔

بے نظیر بھٹو کے اقتدار میں آنے کے کچھ عرصے بعد جنرل وحید کاکڑ کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آیا تو انھیں توسیع دینے کی پیشکش کی گئی جو انھوں نے قبول نہ کی۔

اب تک پاکستانی فوج میں جنرل وحید کاکڑ ہی واحد افسر ہیں جنہوں نے توسیع کی پیشکش ملنے کے باوجود قبول نہ کی اور 12 جنوری 1996 کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئے۔

جنرل وحید کاکڑ کو عہدہ ملنے سے قبل جنرل آصف نواز آرمی چیف تھے جنھیں وزیر اعظم نوازشریف کی مشاورت سے 16 اگست 1991 کو تعینات کیا گیا تھا۔

مگر وہ صرف ایک سال 145 دن آرمی چیف رہے اور بطور آرمی چیف اچانک وفات پا گئے اس لیے کسی توسیع کے تنازعے سے بچے رہے۔

جنرل اسلم بیگ، جنھیں خواہش کے باوجود توسیع نہ ملی


ان سے پہلے 17 اگست 1989 کو جنرل ضیاالحق کی طیارہ گرنے سے ہلاکت کے بعد جنرل اسلم بیگ آرمی چیف بنے تھے۔

اُس وقت غلام اسحاق خان عبوری صدر تھے جنھوں نے ملک میں عام انتخابات منعقد کروائے تھے جس کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تھیں۔

ان کی اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کے بعد اقتدار سے رخصتی کے نتیجے میں عام انتخابات کے بعد نوازشریف اقتدار میں آئے اور آنے کے کچھ عرصہ بعد ہی جنرل آصف نواز کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ جنرل اسلم بیگ کو اپنی ملازمت میں توسیع کی امیدوں پر پانی پھرنے پر نوازشریف سے بہت گِلہ تھا۔

جنرل ضیاءالحق، خود کو توسیع دینے والے پہلے آرمی چیف


جنرل اسلم بیگ سے قبل جنرل ضیاالحق آرمی چیف تھے جنھیں وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یکم مارچ 1976 کو آرمی چیف تعینات کیا تھا۔

جنرل ضیا نے بھٹو کو اقتدار سے ہٹایا اور حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد مسلسل 12 سال 169 دن یعنی اپنے مرنے تک آرمی چیف رہے۔

پاکستان کی تاریخ میں جنرل ضیا نے سب سے طویل عرصے تک آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تھا۔

پاکستانی فوج میں جنرل ضیا ہی وہ پہلے آرمی چیف تھے جنھوں نے خود اپنی مدت ملازمت میں توسیع کی اور فوج میں بطور آرمی چیف توسیع کی روایت ڈالی۔

جنرل ضیا سے قبل بھٹو کے آرمی چیف جنرل ٹکا خان تھے جو چار سال سے صرف ایک دن کم تک آرمی چیف رہے اور ریٹائر ہو گئے۔

جنرل ٹکا خان کی سربراہی سے قبل آرمی چیف کا عہدہ کمانڈر انچیف کے طور پر جانا جاتا تھا۔

پاکستان آرمی کے 1947 سے 1972 تک چھ کمانڈرانچیف رہے جن میں جنرل فرینک میسر وے، جنرل ڈگلس گریسی، جنرل ایوب خان، جنرل موسیٰ خان، جنرل یحییٰ خان اور جنرل گل حسن خان شامل ہیں۔

ان چھ میں سے دو یعنی جنرل ایوب خان اور جنرل یحٰیی سب سے متنازع تھے۔

جنرل ایوب اس لیے کہ انھوں نے پہلے گورنر جنرل اسکندر مرزا کی ہدایت پر حکومت برطرف کی اور پھر خود اسکندر مرزا کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا۔

جنرل ایوب خان ملک کے پہلے مقامی کمانڈر انچیف تھے۔ اُن دنوں کمانڈر انچیف کی مدت ملازمت 4 سال ہوا کرتی تھی۔ بوگرہ حکومت کے گھر جانے کے بعد ایوب خان کوسنہ 1955 میں بطور کمانڈر انچیف چار برس کی مزید توسیع مل گئی۔

یعنی یہ پہلا موقع تھا کہ جب فوج کے سربراہ کی طرف سے مدت ملازمت میں توسیع کی ناپسندیدہ روایت فوج میں متعارف کروائی گئی۔

جون 1958 میں جب دوسری توسیعی مدت ختم ہونے میں سال بھر باقی تھا، انھیں صدر سکندر مرزا کے دباؤ پر فیروز خان نون حکومت سے مزید دو برس کی پیشگی توسیع مل گئی، حالانکہ فیروز خان نون اگلا کمانڈر انچیف میجر جنرل نواب زادہ جنرل شیر علی خان پٹودی کو دیکھ رہے تھے اور بقول الطاف گوہر، کمانڈر انچیف ایوب خان کو یہ گوارا نہ تھا ۔

دراصل اس وقت تک اسکندر مرزا اور جنرل ایوب میں بھی گہری دوستی ہو چکی تھی۔ صدر سکندر مرزا ایوب کی شکل میں اپنا خاص وفادار معاون دیکھ رہے تھے۔

اسی لیے اسکندر مرزا نے ایوب خان کو پہلے مارشل لا کی ہدایت دی جس پر انہوں نے 7 اکتوبر 1958 کو عمل کیا اور اس وقت کی سیاسی حکومت کو چلتا کردیا لیکن دنوں میں ہی اسکندر مرزا اور ایوب خان میں غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں۔

اس پر جنرل ایوب خان نے فوجی افسران کی ایک ٹیم اسکندر مرزا کے گھر بھیجی ۔رات گئے انھیں نیند سے اٹھایا گیا اور 27 اکتوبر 1958 کو بطور صدر ان سے استعفیٰ لے کر ایوب خان خود صدر بھی بن گئے۔


جنرل ایوب خان نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد فوج کے سربراہ کا عہدہ جنرل موسیٰ خان کو سونپ دیا۔ یعنی جس شخص نے ایوب خان کو مدت ملازمت میں توسیع دلوائی تھی وہ خود گھر بھیج دیا گیا۔

جنرل ایوب پر 1965 کی جنگ کے بعد خود کو فیلڈ مارشل قرار دینے کا الزام بھی ہے لیکن جنرل ایوب نے فوجی ڈکٹیٹر ہونے کے باوجود کمانڈر انچیف کا عہدہ 27 اکتوبر 1958 کو جنرل موسیٰ کے سپرد کیا۔

بعد ازاں 18 ستمبر 1966 کو یحییٰ خان اس عہدے پر فائز ہوئے۔ جنرل ایوب خان کی اقتدار پر گرفت کمزور ہوئی تو یحییٰ خان نے 31 مارچ 1969 کو انھیں گھر بھیج کر خود اقتدار پر قبضہ کرلیا۔

جنرل یحییٰ خان خود اقتدار اور کمانڈر انچیف کی سیٹ پر جمے رہتے اگر 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بن جاتا۔

مشرقی پاکستان میں شکست نے 20 دسمبر 1971 کو یحییٰ خان کو گھر جانے پر مجبور کیا ورنہ آج شاید تاریخ میں ان کا نام بھی اپنے عہدے سے چمٹ کر توسیع لینے والوں کی فہرست میں شامل ہوتا۔

x

Check Also

وہ سوتیلا ہے

وہ سوتیلا ہے

تحریر: سہیل وڑائچ جو سگّا تھا اس کا درد سیدھا سینے میں محسوس ہوتا تھا، ...

%d bloggers like this: