وہ سوتیلا ہے

وہ سوتیلا ہے

تحریر: سہیل وڑائچ

جو سگّا تھا اس کا درد سیدھا سینے میں محسوس ہوتا تھا، اُس کا بلڈ پریشر بڑھتا تھا تو جذبات بھڑکتے تھے، پلیٹ لیٹس گرتے تھے تو دل کی دھڑکن کمزور پڑ جاتی تھی، اُس کی طبیعت بگڑتی تھی تو شہر کا مزاج بگڑ جاتا تھا، اُنہی جذبات، احساسات، بھائی بندی اور قرابت داری نے کام دکھایا اس کے دکھ درد کم ہوئے، جیل کے قفل ٹوٹ گئے، عدالتیں لگ گئیں، کابینہ کے اجلاس ہوئے، اِدھر اُدھر کی گرد اڑائی گئی بالآخر نتیجہ یہ کہ ہمارا سگّا بالآخر لندن پہنچ گیا اب وہاں اس کا علاج ہو رہا ہے، کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی ہے۔

جو سوتیلا ہے وہ جیل میں مرتا ہے تو مرے، اُسے بیماریاں ہیں تو بھگتے، بلڈ پریشر بڑھتا ہے تو بڑھے، شوگر لیول کم ہو یا بڑھے، ہمیں کیا؟ وہ کون سا ہمارا سگا، بھائی بند یا قرابت دار ہے۔ نہ وہ میری برادری کا، نہ میرے صوبے کا، نہ میری جیسی پگڑی پہنتا ہے اور نہ ہی وہ میرے جیسے رسم و رواج کا قائل ہے۔ وہ سوتیلا ہے، سوتیلا ہی رہے گا، سگّے کی جگہ تو نہیں لے سکتا۔ سگّا اگر جیل میں مر جاتا تو تحریک انصاف اور طاقتوروں کو کئی سال سیاسی تاوان ادا کرنا پڑتا، سوتیلے کا یہاں کون ہمدرد ہے جو اس کے لئے سوچے یا اس کی مدد کرے، کوئی اس کے لئے آواز بھی کیوں بلند کرے،ہے جو سوتیلا…

سگّے کے عدالتی ٹرائل اس کے صوبے میں ہوئے، اُسے اُس کے آبائی گھر لاہور کی جیل میں رکھا گیا مگر سوتیلے کے ٹرائل راولپنڈی میں ہو رہے ہیں، اُس کی جیل بھی گھر سے سینکڑوں میل دور راولپنڈی میں ہے۔ سوتیلے کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے، سوتیلے کے صوبے والے راولپنڈی کو تین سندھی وزرائے اعظم کی قتل گاہ سمجھتے ہیں، لیاقت علی خان اور بینظیر بھٹو کو اسی شہر کے اندر بھرے جلسوں میں قتل کیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو کو بھی یہیں پھانسی پر لٹکایا گیا، اِس صورتحال میں اہلِ سندھ راولپنڈی کو کوفہ نہ کہیں تو کیا لاڑکانہ کہیں؟ چونکہ یہ سوتیلا ہے اس لئے اس کا ٹرائل ہر صورت راولپنڈی میں ہی ہوگا، یہ سگا ہوتا تو دل نرم پڑتا، غیروں کے لئے کون سوچتا ہے، انہیں کون رعایت دیتا ہے جس کے لئے دل نرم کرنا تھا، کر چکے۔ سوتیلے کے لئے دل میں گنجائش نہیں۔

کرپٹ، چور، ڈاکو تو ہمارے قبیلے میں بھی ہیں، مقدمات تو ہمارے کئی جاننے والوں پر بھی ہیں، تاریخیں ہمارے لواحقین بھی بھگتتے رہے ہیں، ہمارے چوروں، ڈاکوئوں کو سزائیں ملتی ہیں مگر بغیر سزا کے انہیں بھی جیل میں نہیں رکھا جا سکتا مگر یہ سوتیلا ڈاکو ایسا ہے کہ بغیر کسی عدالتی سزا کے 11سال پہلے جیل کاٹی اب 150دن سے اوپر ہو گئے نہ کوئی مقدمہ شروع ہوا ہے، نہ عدالت میں فردِ جرم عائد ہوتی ہے لیکن وہ قیدہے ہم نے اسے یونہی قید رکھنا ہے سوتیلا جو ہوا۔وہ تو کہتے تھے کہ اب ہم نے ایسے ثبوتوں کے ساتھ پکڑا ہے کہ چھوٹنا مشکل ہوگا۔ وہ تو دعویٰ کرتے تھے کہ اس کے سینکڑوں جعلی اکائونٹس ہیں، اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی ہے، الزام تو تھا کہ ریڑھی بانوں اور فالودہ فروشوں کے نام پر جعلی اکائونٹ کھلوا کر کروڑوں، اربوں ڈالر کا ہیر پھیر کیا گیا ہے اور تو اور شیخ رشید نے کہا کہ اومنی گروپ والے اعترافِ جرم کرکے جرمانہ ادا کرنے پر تیار ہو چکے ہیں، اب تو سوتیلا گرفتار ہے، نیب آزاد ہے، حکومت خود مختار ہے، طاقتور زور آور ہیں پھر ثبوت کیوں نہیں لائے جاتے؟ وہ فالودہ فروش وعدہ معاف گواہ کیوں نہیں بنتے؟ سیدھا کہیں کہ سوتیلے کے لئے کوئی انصاف نہیں۔ واضح کر ہی دیں کہ لاڈلے اور سوتیلے برابر نہیں ہوتے۔ دل کی بات سامنے لائیں کہ سندھی کے لئے انصاف کے پیمانے اور ہیں پنجابی کے لئے اور بلوچ اور پٹھان بھی وہ درجہ نہیں رکھتے جو ہمارے اپنے سگّے اور لاڈلے رکھتے ہیں۔

ماڈل حسینہ ایان علی اسلام آباد ایئر پورٹ سے گرفتار ہوئی تو تاریں کھڑک گئیں۔ ایک پیادہ خاص طور پر لاہور آیا اور اس نے منصف کو کہا کہ ملک سے لوٹے گئے سارے اثاثے اب ایان علی کے ذریعے باہر نکل آئیں گے، اُس کو نہیں چھوڑنا، اُس کی ضمانت نہیں کرنی، اُس پیادے نے ہر جگہ پیغام دیا کہ سوتیلا پھنس چکا ہے۔ وقت گزرتا رہا پھر ایان نامی پرندہ عدالتی جنگلوں کے قفل کھول دن دہاڑے اڈاری مار گیا۔ کہا گیا کہ ایان اور بلاول کے ٹکٹ ایک اکائونٹ سے بنتے ہیں، کئی سال گزر گئے مگر ابھی تک کوئی دستاویز سامنے نہیں آئی، کوئی مقدمہ نہیں بنا۔ سوتیلے کو البتہ سب و شتم کرنے کے لئے یہ الزامات دہرائے جاتے رہے ہیں اور دہرائے جاتے رہیں گے۔

طالبان کے اقرار، ملزمان کی گرفتاری اور سزائوں کے باوجود اکثر اب بھی اسے ہی بیوی کا قاتل قرار دیتے ہیں، ایسی ایسی توجیہات اور سازشی کہانیاں تراشی جاتی ہیں کہ فوراً سوتیلا ہی’’قاتل‘‘ نظر آتا ہے، مگر یہ قاتل کیسا ہے کہ اس کی پارٹی نے اس کو مانا، 5سال صدر بنائے رکھا، اسٹیبلشمنٹ اختلافات کے باوجود اس کی تعریفیں بھی کرتی رہی، چین کے ساتھ دوستی کے راستے اس نے کھولے، بینظیر کی لاش سندھ گئی تو جگہ جگہ ہنگامے ہو رہے تھے، ایسے میں اسی نے ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگایا۔ خیبر پختونخوا کو اس کا قومی نام اسی نے دیا تھا، اٹھارہویں ترمیم منظور کرکے اسی نے خود اپنے اختیارات پارلیمان کو دیے، یہی سوتیلا تھا جس نے صوبائی خود مختاری کا دیرینہ خواب رضا ربانی کی سربراہی میں منظور کی گئی اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے پورا کیا تھا۔ وہ یہی تھا جس نے سب سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی تھی، یہی تھا کہ جس کے زمانۂ اقتدار میں ملک بھر میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا، یہ وہی تھا جو نواز شریف، افتخار چوہدری اور جنرل کیانی سب کے ناز اٹھاتا تھا، اقتدار کے مشکل کھیل کو سوتیلے نے خوب نبھایا اور پھر سے احتساب کی عدالتوں میں حاضری شروع کر دی۔

سگّے پن اور سوتیلے پن کی بھی حد ہوتی ہے، وہ سوتیلا سہی اس کے جرم لامتناہی سہی مگر جب آپ کو ضرورت ہوتی ہے تو اسے پاک صاف بنا کر صدارت دے دیتے ہو اور جب ضرورت نہیں رہتی تو سارے الزامات اور گناہ اس پر ڈال کر چہرہ مسخ کر دیتے ہو۔ یاد رکھو کہ سوتیلا اگر پنجاب سے مر کر سندھ گیا تو گڑھی خدا بخش میں شہیدوں کے قبرستان میں دفن ہوگا اور وہاں سے اس کی سیاسی روح ان سب کو رلائے گی جو اسے برسوں سوتیلا بناتے رہے ہیں۔

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: