یہاں سے وہاں تک پاکستان کی دو نمبر اشرافیہ

یہاں سے وہاں تک پاکستان کی دو نمبر اشرافیہ

تحریر: حسن نثار

پاکستان کی دو نمبر اشرافیہ نے تعلیم کو یہ سوچ کر عام نہیں ہونے دیا کہ عوام پڑھ لکھ گئے تو ان کا حرام حلال نہیں رہنے دیں گے کیونکہ دراصل علم ہی حرام حلال صحیح غلط، جائز ناجائز، خوب اور ناخوب کی تمیز سکھاتا ہے لیکن اب یہ جہالت ہی ان کے لئے جہنم بنتی جارہی ہے۔ مثلاً اب یہ کہتے ہیں’’درخت نہ کاٹو‘‘ جب کہ عوام کی جانے بلا کہ ’’ماحولیاتی آلودگی‘‘ کیا ہوتی ہے، ان کے نزدیک درخت ایندھن کے سوا ہے ہی کچھ نہیں۔

یہ چاہتے ہیں کہ گند گھروں سے نکل کر گلیوں بازاروں تک نہ آئے جب کہ انہیں اس کا شعور ہی نہیں کیونکہ گندگی ان کے نزدیک نارمل بات بلکہ وے آف لائف کا درجہ رکھتی ہے۔

صرف ٹریفک سینس نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ اربوں روپے کا فیول ہوا ہوجاتا ہے، اب ان کی ضرورت ہے کہ احتجاجوں کے دوران ٹائر جلا جلا کر ماحول برباد نہ کریں لیکن’’سادہ لوحوں‘‘ کو علم ہی نہیں کہ وہ کر کیا رہے ہیں۔ اسی طرح بچپن سے سنتا پڑھتا آیا ہوں کہ’’کم بچے خوشحال گھرانہ‘‘ اور ’’بچے دو ہی اچھے‘‘ لیکن ’’چائلڈ پروڈکشن‘‘ مشینیں مصروف ہیں کیونکہ جہالت کے باعث انہیں یہ فرسودہ فلسفہ بھاتا ہے کہ ہر بچہ اگر ایک منہ لے کر آتا ہے تو کمانے والے دو ہاتھ بھی ساتھ لاتا ہے۔

انہیں اندازہ ہی نہیں کہ منہ پیدا ہونے سے بھی پہلے خوراک مانگتا ہے جبکہ یہ’’دو ہاتھ‘‘ کم از کم 20 ،22 برس تک’’انویسٹمنٹ‘‘ مانگتے ہیں اور خاص طور پر ایسے حالات میں جب تعلیم باقاعدہ انڈسٹری بن چکی ہے علی ہذالقیاس۔ یہی 22کروڑ جب 32 اور پھر 42 کروڑ ہوئے تو سب کچھ ہونے کے باوجود ’’اشرافیہ‘‘ کو یہ ’’حلقہ انتخاب‘‘ مجبوراً چھوڑنا پڑے گا جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں اور یہ طبقہ اسے’’حلوائی کی دکان‘‘ سمجھتا رہا ہے۔

مجھے یہ ساری باتیں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کے اس بیان پر یاد آئیں کہ پاکستان میں آبادی کا تناسب اس ملک کے اقتصادی گروتھ ریٹ سے دو گنا ہے جسے سادہ ترین زبان میں سمجھنا ہو تو یہ پرانا گانا دوبارہ سننا ہوگا ……. ’’آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ‘‘۔ یہ ان زمانوں کا گانا ہے جب ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے اور آٹھ آنے کی’’اٹھنی‘‘ ہوتی یعنی تب سے ہمیں بتایا سمجھایا جارہا ہے کہ آمدنی سے دوگنا زیادہ خرچ کرنے والوں کے مقدر میں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

آبادی کے تناسب کا اقتصادی گروتھ ریٹ سے دو گنا ہونا اس سے بھی زیادہ بھیانک قسم کی صورتحال ہے لیکن پھر وہی بات کہ ’’آبادی‘‘ کو وہ شعور ہی نہیں دیا گیا جو اسے اچھے برے کی تمیز سکھاتا۔ادھر چیئرمین ایف بی آر کے اس بیان نے بھی بہت سوں کو حقائق کی برف میں لگا کر ٹھنڈا ٹھار کردیا ہوگا کہ’’بیرون ملک بھیجی گئی رقمیں واپس نہیں لائی جاسکتیں‘‘ Moreoverکے طور پر یہ بھی کہا کہ’’ماضی میں پیسہ باہر گیا، اب بھی بھیجا جارہا ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے بھی اقوام متحدہ میں اس کا رونا رویا جس پر مجھے بہت ہنسی آئی تھی کہ وزیر اعظم اس’’واردات‘‘ کے بارے میں ان کو بریف کررہے تھے جو اس سارے مالیاتی کھیل کے’’موجد‘‘ ہیں لیکن ہمارے تو کلچر کا حصہ ہے کہ جس کی وجہ سے بیمار ہوئے، عطار کے اسی لونڈے سے دوا مانگتے ہیں۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ شاید یہ سارے کا سارا خطہ ہی بد دعایا ہوا ہے جہاں دلیل منطق نام کی کوئی شے ہی موجود نہیں مثلاً کبھی غور کریں کہ ہمارے ہاں روٹین کی بات ہے آپ کسی کو ٹیسٹ وغیرہ کرانے کا مشورہ دیں تو وہ یہ لاجک دے گا کہ ’’رہنے دو جی اگر ٹیسٹوں میں کوئی مرض وغیرہ نکل آیا تو؟‘‘ سوفیصد اس کبوتر جیسا رویہ جوبلی کو دیکھ کر آنکھیں موند لیتا ہے۔

آپ یا ڈاکٹر ضد پکڑ لے اور اسے ٹیسٹ کرانے پر مجبور کر ہی دیا جائے اور رپورٹ ’’سب اچھا‘‘ کی خوشخبری سنائے تو موصوف کا منہ لٹک کر ناف تک آجائے گا اور اس بات پر کڑھتے پائے جائیں گے کہ ’’اتنے پیسے بھی خرچ کئے اور ٹیسٹوں میں سے نکلا بھی کچھ نہیں‘‘ یعنی کوئی کینسر، شوگر ٹائپ شے نکل آتی تو’’ پیسے پورے ہوجاتے۔‘‘

یہ مائنڈ سیٹ صرف اسی خطہ میں پایا جاتا ہے کہ آپ اقوام متحدہ میں’’مہذب‘‘ قوموں کو وہ کچھ بتاتے ہو جو وہ پہلے سے جانتی ہیں بلکہ اکثر کیسز میں وہی تو مرض کا اصل سبب ہوتی ہیں۔ذکر اس خطہ کا چلے تو کیسے ممکن ہے کہ میں اپنے پڑوسی کو نظر انداز کردوں کیونکہ پڑوسی کے حقوق تو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہیں۔ بھارت میں ہجوم بلکہ ہجوموں کے ہاتھوں بےگناہ مسلمانوں کے قتل پر نریندرمودی کو کھلا خط لکھنے کی پاداش میں 49 نامور شخصیات کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

الزام یہ کہ ایسا خط لکھ کر بھارت ماتا کو بدنام اور علیحدگی پسندوں کی حمایت کی گئی ہے۔ مقدمہ کے متن میں بغاوت اور امن کو متاثر کرنے کی دفعات بھی شامل ہیں لیکن’’شائننگ انڈیا‘‘ کی یہ شرمناک کہانی یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔’’آزادی‘‘ کے فوراً بعد ہی انتہا پسند ذہنیت نے اپنے باپو گاندھی جی کو مسلم دوستی کے الزام میں قتل کیا۔ اس وقت بھی ایک انگریزی ہفت روزہ میں شائع ہونے والی ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر میرے سامنے ہے۔

یہ 30جنوری 1948 کی تصویر ہے جس میں مہاتما گاندھی قتل ہونے کے بعد زمین پر پڑے ہیں۔ ان کے بائیں ہاتھ ان کی ایک چپل پڑی ہے۔ ایک محافظ ان کی لاش پر جھکا انہیں اٹھانے کی کوشش کررہا ہے جبکہ دو محافظوں نے گاندھی جی کے قاتل نتھورام گوڈسے کو جکڑ رکھا ہے۔

یہ اس عمارت کے صحن کی تصویر ہے جسے تب ’’برلا ہاؤس‘‘(دہلی) کہتے تھے۔ اب’’گاندھی سمرتی‘‘ کہلاتی ہے۔ ا ب وہاں ’’نتھورام‘‘ خاصے عام ہوگئے ہیں جنہیں اپنے’’باپو ‘‘ کے قتل پر بھی چین نصیب نہیں ہو رہا کہ باپو کو مارے کے بعد اب اس ناخلف ذہنیت نے گاندھی جی کی ارتھی کی راکھ بھی چوری کرلی ہے اور میوزیم میں موجود مہاتما گاندھی کے مجسمے اور تصویروں پر سبز پاکستانی رنگ پھیر کر گاندھی کو مسلم دوستی کے الزام میں’’غدار‘‘ بھی لکھ دیا ہے 100 ایسے جانوروں سے کہیں بدتر جنونیوں کے ہوتے ہوئے اگر مقبوضہ کشمیر میں کھدائی کے دوران 2700اجتماعی قبروں کا انکشاف ہو تو حیرت کیسی؟

اور یہ انکشاف کسی اور نے نہیں’’نریندری مودی کے اپنے میڈیا نے کیا ہے۔حیرت ہے بھارتی حکمرانوں کو اندازہ ہی نہیں کہ انتہا پسندی کے خون پر پلنے والے یہ عفریت جب واپس پلٹے تو ہندوستان کا حشر کیا ہوگا؟’’جانے کِس کی کسِے بد دعا کھا گئی‘‘۔

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: