لگتا ہے کہ مکافات عمل کا قانون روبہ عمل ہونے جارہا ہے, عمران خان صاحب جن شاخوں پر بیٹھے ہیں انہی کو کاٹنے لگے ہیں۔ وہ اس جسٹس(ر) سردار رضا کے پیچھے بھی پڑ گئے ہیں، جن کی زیرنگرانی انتخابات میں ان کو وزیراعظم بنوایا گیا۔ ایک رائے تو یہ بھی ہے کہ ان کے وزیراعظم بننے کی بنیادی وجہ بھی یہ تھی کہ موجودہ الیکشن کمیشن نے جسٹس ارشاد حسن خان کے الیکشن کمیشن جیسا کردار ادا کیا لیکن اب چونکہ عمران خان صاحب کی حکومت اس الیکشن کمیشن کے سربراہ پر حملہ آور ہورہی ہے تو لگتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر بھی ان کے لئے افتخار چوہدری ٖثابت ہوں گے ۔ عمران خان صاحب کی حکومت کا المیہ یہ ہے کہ اسے عدالتوں کا خوف ہے ، نیب کا ، اپوزیشن کا اور نہ میڈیا کا۔ اس لئے وہ اس ڈھٹائی کے ساتھ غیرقانونی اقدامات اٹھارہی ہے کہ جس کا تصور بھی ماضی کی حکومتیں نہیں کرسکتی تھیں۔ مثلاً الیکشن کمیشن میں دو ممبران کی تقرری کا معاملہ دیکھ لیجئے۔ آئین میں چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کا طریق کار آئین کے آرٹیکل 213میں واضح انداز میں لکھا گیا ہے جس کی رو سے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت اور باہمی رضامندی سے اس کا تقرر ہوگا اور اگر ان میں اتفاق نہ ہوسکے تو معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا جو رولز کے مطابق دو تہائی اکثریت کے ساتھ ممبران کا تقرر کرے گی ۔ اس کے بعد رولز میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت برائے نام نہیں بلکہ حقیقی (Meaningfull consultation) ہوگی۔ پھر آئین کے آرٹیکل 218 میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کے ممبران کے تقرر کے لئے بھی بعینہ وہی طریق کار اختیار کیا جائے گا جو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لئے اختیار کیا جاتا ہےلیکن پی ٹی آئی حکومت نے وزیر قانون فروغ نسیم کے ایما پر سندھ اور بلوچستان کے ممبران کے نام لیڈر آف دی اپوزیشن کے ساتھ کسی مشاورت کے بغیر صدر مملکت کو بھجوا دئیے ۔ نہ تو اپوزیشن لیڈر سے مشاورت ہوئی اور نہ پارلیمانی کمیٹی حتمی فیصلے تک پہنچی ۔تماشہ یہ ہے کہ ان ممبران کے نام پی ٹی آئی نے بھی تجویز نہیں کئے بلکہ فروغ نسیم نے اپنی طرف سے ڈھونڈ نکالے ہیں یا پھر شاید کسی نے انہیں یہ نام تھمادئیے ہیں ۔ اس سے بڑا تماشہ یہ ہوا کہ صدر مملکت عارف علوی نے بھی اس آئینی منصب کے لئے غیرآئینی طور پر مقرر کئے گئے ان دو افراد کے بطورممبران الیکشن کمیشن تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ اگلے دن جب وہ دونوں ممبران چارج لینے کے لئے الیکشن کمیشن آئے تو چیف الیکشن کمشنر نے پہلی مرتبہ جرات اور قانون پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان دونوں کو حلف دینے سے انکار کیا۔ انہوں نے یہ قانونی اور آئینی موقف اختیار کیا کہ یہ آئینی منصب ہے اور اس لئے صدر، وزیراعظم اور جج صاحبان کی طرح ان کو حلف دیا جاتا ہے چنانچہ وہ غیرآئینی طریقے سے مقرر کئے گئے ممبران کو آئینی منصب کے لئے حلف نہیں دے سکتے ۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی طرف سے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی گئی کہ ان ممبران کا تقرر آئینی طریقے سے نہیں ہوا ۔یوں الیکشن کمیشن جیسے نامکمل تھا ویسے نامکمل رہ گیا۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزارت قانون ان دو ممبران کے تقرر کے لئے دوبارہ آئینی طریقہ کار اختیار کرتی لیکن چونکہ یہ الیکشن کمیشن کی طرف سے عمران خان صاحب اور ان کی حکومت کے خلاف پہلا فیصلہ تھا اس لئے انہیں اور ان کے وزیر قانون کوسخت ناگوار گزرا۔ چنانچہ پہلے تو وزیر قانون کے ایما پرچیف الیکشن کمشنر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھجوانے کا فیصلہ ہوا لیکن بعد میں جب دیگر آئینی ماہرین نے اس کے مختلف قانونی پہلوئوں کا جائزہ لیا تو اس ارادے کو ترک کردیا گیا البتہ اب حکومت نے پیچھے رہ کر وزیرقانون فروغ نسیم کے زیر اثر وکلا کے ایک گروپ کے ذریعے اس معاملے کو سپریم کورٹ لے جانے کا منصوبہ بنایا لیکن یہ نہیں دیکھا گیا کہ اگر سپریم کورٹ سے حکومت کے خلاف اور چیف الیکشن کمشنر کے حق میں فیصلہ آیا تو پھر کیا ہوگا۔ سپریم کورٹ میں وکلا کا موقف ہوگا کہ چیف الیکشن کمشنر نے غیرآئینی کام کیا لیکن اگر فیصلہ ان کے حق میں آیا تو اسکا یہ مطلب ہوگا کہ وزیراعظم اور صدر مملکت نے آئین کی خلاف ورزی کی ۔ یوں فیصلہ حکومت کیخلاف آجانے کی صورت میں صدر اور وزیراعظم کیخلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے کیونکہ اس صورت میں ان کا یہ اقدام Subversion of the constitution کے زمرے میں آجائیگا کیونکہ آرٹیکل چھ کا اطلاق صرف آئین کو توڑنے یا معطل کرنے کی صورت میں نہیں بلکہ اسکے غلط اطلاق یعنی Subversion کی صورت میں بھی کیا جاتا ہے ۔ آئین کے آرٹیکل 6کے الفاظ ہیں کہ : Any person who abrogates or subverts or suspends or holds in abeyance, or attempts or conspires to abrogate or subvert or suspend or hold in abeyance, the Constitution by use of force or show of force or by any other unconstitutional means shall be guilty of high treason. بیرسٹر فروغ نسیم اپنے مخصوص مقاصد کے لئے اور وزیراعظم اپنی انا کی تسکین کے لئے یہ سب کچھ کررہے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ان کے اس رویے سے الیکشن کمیشن سے متعلق آئینی بحران بھی جنم لے سکتا ہے ۔ وہ یوں کہ اگر وزیراعظم ممبران سے متعلق لیڈر آف دی اپوزیشن سے ملنے کے لئے تیار نہیں تو پھر چیف الیکشن کمشنر پر کیسے ان دونوں کی مشاورت ممکن ہوگی ۔ دوسری طرف چیف الیکشن کمشنر کی مدت چند ماہ بعد پوری ہونے کو ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب چیف الیکشن کمشنر کی مدت پوری ہوجائے گی اور نئے کا تقرر نہیں ہوا ہوگا تو پھر کیا ہوگا؟ اس صورت میں اگر تو سپریم کورٹ نے کوئی حل نکال دیا یا موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو اگلے چیف کے تقرر تک کام کرنے کا اختیار دے دیا تو الگ بات ،نہیں تو الیکشن کمیشن کام نہیں کرسکے گا۔ واضح رہے کہ یہ سب کچھ ایسے عالم میں ہورہا ہے کہ پی ٹی آئی کاپارٹی فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں کئی سال سے زیرسماعت ہے اور اگر اس کیس کا اسی طرح میرٹ پر فیصلہ دیا گیا جس طرح کےاپوزیشن کے کیسز کا کیا جاتا ہے تو قوی امکان ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت فارغ ہوجائے گی۔ تبھی تو میں کہتا ہوں کہ فروغ نسیم اس حکومت کو فارغ تو کرسکتے ہیں لیکن اسے کوئی فروغ نہیں دے سکتے۔

حکومت مکافات عمل کا شکار ہونے جارہی ہے؟

تحریر: سلیم صافی

لگتا ہے کہ مکافات عمل کا قانون روبہ عمل ہونے جارہا ہے, عمران خان صاحب جن شاخوں پر بیٹھے ہیں انہی کو کاٹنے لگے ہیں۔ 

وہ اس جسٹس(ر) سردار رضا کے پیچھے بھی پڑ گئے ہیں، جن کی زیرنگرانی انتخابات میں ان کو وزیراعظم بنوایا گیا۔

ایک رائے تو یہ بھی ہے کہ ان کے وزیراعظم بننے کی بنیادی وجہ بھی یہ تھی کہ موجودہ الیکشن کمیشن نے جسٹس ارشاد حسن خان کے الیکشن کمیشن جیسا کردار ادا کیا لیکن اب چونکہ عمران خان صاحب کی حکومت اس الیکشن کمیشن کے سربراہ پر حملہ آور ہورہی ہے تو لگتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر بھی ان کے لئے افتخار چوہدری ٖثابت ہوں گے ۔

عمران خان صاحب کی حکومت کا المیہ یہ ہے کہ اسے عدالتوں کا خوف ہے ، نیب کا ، اپوزیشن کا اور نہ میڈیا کا۔ اس لئے وہ اس ڈھٹائی کے ساتھ غیرقانونی اقدامات اٹھارہی ہے کہ جس کا تصور بھی ماضی کی حکومتیں نہیں کرسکتی تھیں۔

مثلاً الیکشن کمیشن میں دو ممبران کی تقرری کا معاملہ دیکھ لیجئے۔ آئین میں چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کا طریق کار آئین کے آرٹیکل 213میں واضح انداز میں لکھا گیا ہے جس کی رو سے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت اور باہمی رضامندی سے اس کا تقرر ہوگا اور اگر ان میں اتفاق نہ ہوسکے تو معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا جو رولز کے مطابق دو تہائی اکثریت کے ساتھ ممبران کا تقرر کرے گی ۔

اس کے بعد رولز میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت برائے نام نہیں بلکہ حقیقی (Meaningfull consultation) ہوگی۔ 

پھر آئین کے آرٹیکل 218 میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کے ممبران کے تقرر کے لئے بھی بعینہ وہی طریق کار اختیار کیا جائے گا جو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لئے اختیار کیا جاتا ہےلیکن پی ٹی آئی حکومت نے وزیر قانون فروغ نسیم کے ایما پر سندھ اور بلوچستان کے ممبران کے نام لیڈر آف دی اپوزیشن کے ساتھ کسی مشاورت کے بغیر صدر مملکت کو بھجوا دئیے ۔ 

نہ تو اپوزیشن لیڈر سے مشاورت ہوئی اور نہ پارلیمانی کمیٹی حتمی فیصلے تک پہنچی ۔تماشہ یہ ہے کہ ان ممبران کے نام پی ٹی آئی نے بھی تجویز نہیں کئے بلکہ فروغ نسیم نے اپنی طرف سے ڈھونڈ نکالے ہیں یا پھر شاید کسی نے انہیں یہ نام تھمادئیے ہیں ۔ 

اس سے بڑا تماشہ یہ ہوا کہ صدر مملکت عارف علوی نے بھی اس آئینی منصب کے لئے غیرآئینی طور پر مقرر کئے گئے ان دو افراد کے بطورممبران الیکشن کمیشن تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔

اگلے دن جب وہ دونوں ممبران چارج لینے کے لئے الیکشن کمیشن آئے تو چیف الیکشن کمشنر نے پہلی مرتبہ جرات اور قانون پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان دونوں کو حلف دینے سے انکار کیا۔ انہوں نے یہ قانونی اور آئینی موقف اختیار کیا کہ یہ آئینی منصب ہے اور اس لئے صدر، وزیراعظم اور جج صاحبان کی طرح ان کو حلف دیا جاتا ہے چنانچہ وہ غیرآئینی طریقے سے مقرر کئے گئے ممبران کو آئینی منصب کے لئے حلف نہیں دے سکتے ۔

اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی طرف سے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی گئی کہ ان ممبران کا تقرر آئینی طریقے سے نہیں ہوا ۔یوں الیکشن کمیشن جیسے نامکمل تھا ویسے نامکمل رہ گیا۔ 

اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزارت قانون ان دو ممبران کے تقرر کے لئے دوبارہ آئینی طریقہ کار اختیار کرتی لیکن چونکہ یہ الیکشن کمیشن کی طرف سے عمران خان صاحب اور ان کی حکومت کے خلاف پہلا فیصلہ تھا اس لئے انہیں اور ان کے وزیر قانون کوسخت ناگوار گزرا۔ 

چنانچہ پہلے تو وزیر قانون کے ایما پرچیف الیکشن کمشنر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھجوانے کا فیصلہ ہوا لیکن بعد میں جب دیگر آئینی ماہرین نے اس کے مختلف قانونی پہلوئوں کا جائزہ لیا تو اس ارادے کو ترک کردیا گیا البتہ اب حکومت نے پیچھے رہ کر وزیرقانون فروغ نسیم کے زیر اثر وکلا کے ایک گروپ کے ذریعے اس معاملے کو سپریم کورٹ لے جانے کا منصوبہ بنایا لیکن یہ نہیں دیکھا گیا کہ اگر سپریم کورٹ سے حکومت کے خلاف اور چیف الیکشن کمشنر کے حق میں فیصلہ آیا تو پھر کیا ہوگا۔

 سپریم کورٹ میں وکلا کا موقف ہوگا کہ چیف الیکشن کمشنر نے غیرآئینی کام کیا لیکن اگر فیصلہ ان کے حق میں آیا تو اسکا یہ مطلب ہوگا کہ وزیراعظم اور صدر مملکت نے آئین کی خلاف ورزی کی ۔ 

یوں فیصلہ حکومت کیخلاف آجانے کی صورت میں صدر اور وزیراعظم کیخلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے کیونکہ اس صورت میں ان کا یہ اقدام Subversion of the constitution کے زمرے میں آجائیگا کیونکہ آرٹیکل چھ کا اطلاق صرف آئین کو توڑنے یا معطل کرنے کی صورت میں نہیں بلکہ اسکے غلط اطلاق یعنی Subversion کی صورت میں بھی کیا جاتا ہے ۔ 

آئین کے آرٹیکل 6کے الفاظ ہیں کہ :

Any person who abrogates or subverts or suspends or holds in abeyance, or attempts or conspires to abrogate or subvert or suspend or hold in abeyance, the Constitution by use of force or show of force or by any other unconstitutional means shall be guilty of high treason.

بیرسٹر فروغ نسیم اپنے مخصوص مقاصد کے لئے اور وزیراعظم اپنی انا کی تسکین کے لئے یہ سب کچھ کررہے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ان کے اس رویے سے الیکشن کمیشن سے متعلق آئینی بحران بھی جنم لے سکتا ہے ۔ 

وہ یوں کہ اگر وزیراعظم ممبران سے متعلق لیڈر آف دی اپوزیشن سے ملنے کے لئے تیار نہیں تو پھر چیف الیکشن کمشنر پر کیسے ان دونوں کی مشاورت ممکن ہوگی ۔ دوسری طرف چیف الیکشن کمشنر کی مدت چند ماہ بعد پوری ہونے کو ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب چیف الیکشن کمشنر کی مدت پوری ہوجائے گی اور نئے کا تقرر نہیں ہوا ہوگا تو پھر کیا ہوگا؟

اس صورت میں اگر تو سپریم کورٹ نے کوئی حل نکال دیا یا موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو اگلے چیف کے تقرر تک کام کرنے کا اختیار دے دیا تو الگ بات ،نہیں تو الیکشن کمیشن کام نہیں کرسکے گا۔ 

واضح رہے کہ یہ سب کچھ ایسے عالم میں ہورہا ہے کہ پی ٹی آئی کاپارٹی فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں کئی سال سے زیرسماعت ہے اور اگر اس کیس کا اسی طرح میرٹ پر فیصلہ دیا گیا جس طرح کےاپوزیشن کے کیسز کا کیا جاتا ہے تو قوی امکان ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت فارغ ہوجائے گی۔ 

تبھی تو میں کہتا ہوں کہ فروغ نسیم اس حکومت کو فارغ تو کرسکتے ہیں لیکن اسے کوئی فروغ نہیں دے سکتے۔

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: