دورہ سری لنکا : پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان

دورہ سری لنکا : پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان

عالمی کپ کے اختتام کے دو ماہ کے بعد ٹیم پاکستان اپنے ہوم گراونڈ میں سری لنکا کے خلاف  ہوم سیریز سے اپنی کرکٹ کا دوبارہ آغاز کر رہی ہے ۔۔۔ گو سری لنکا اپنے مین پلیئرز کی عدم موجودگی میں ایک کمزور حریف ثابت ہو گی اور گمان یہی کیا جا رہا ہے کہ ہوم گراونڈ اور ہوم کراوڈ کے سامنے پاکستان با آسانی سری لنکا کو زیر کر لے گا مگر یہ سیریز پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ایک اہم کڑی ہے اور سری لنکن کھلاڑیوں کو ہیڈ آف اسٹیٹ کے برابر سکیورٹی فراہم کی جائے گی ۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس دورے کی کامیابی کے بعد یورپی ٹیمیں بھی پاکستان کا دورہ کریں گی اور اگر آئی سی سی بھرپور تعاون کرے تو پاکستان کے ویران گراونڈ بھی آباد ہو سکتے ہیں ۔

سری لنکا کے خلاف  ہوم سیریز سے اپنی کرکٹ کا دوبارہ آغاز کر رہی ہے ۔۔۔ گو سری لنکا اپنے مین پلیئرز کی عدم موجودگی میں ایک کمزور حریف ثابت ہو گی اور گمان یہی کیا جا رہا ہے کہ ہوم گراونڈ اور ہوم کراوڈ کے سامنے پاکستان با آسانی سری لنکا کو زیر کر لے گا مگر یہ سیریز پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ایک اہم کڑی ہے اور سری لنکن کھلاڑیوں کو ہیڈ آف اسٹیٹ کے برابر سکیورٹی فراہم کی جائے گی ۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس دورے کی کامیابی کے بعد یورپی ٹیمیں بھی پاکستان کا دورہ کریں گی اور اگر آئی سی سی بھرپور تعاون کرے تو پاکستان کے ویران گراونڈ بھی آباد ہو سکتے ہیں ۔


اب بات ہو جائے ٹیم سلیکشن کی تو چند تبدیلیوں کے ساتھ یہ وہی ٹیم ہے جس نے ورلڈ کپ 2019 میں حصہ لیا تھا مگر اس سلیکشن میں کپتان سرفراز کے ساتھ متبادل وکٹ کیپر کا انتخاب کچھ شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے ۔ اول تو یہ ہوم سیریز ہے جس میں عموما ایک وکٹ کیپر کے ساتھ جایا جاتا ہے دوسرے یہ کوئی طویل سیریز نہیں جس میں دو دو وکٹ کیپرز کو منتخب کیا جائے ۔ چیف سلیکٹر اور کوچ مصباح الحق نے اس کا سبب فٹنس قراد دیا کہ اگر سرفراز ان فٹ ہو گئے تو محمد رضوان ان کا بیک اپ ہوں گے ۔ گویا سرفراز اتنے بھی فٹ نہیں کہ 3 ون ڈٰے اور 3 ٹی 20 کی سیزیز کھیل سکیں ۔  مگر فٹنس سے زیادہ یہ سرفراز کی کپتانی کا ایک اور امتحان بھی ہو سکتا ہے ۔ گو کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد کو ون ڈے اور ٹی 20 کا کپتان برقرار رکھ کر وقتی طور پر تو چہ مگوئیوں کو ختم کر دیا مگر ہو سکتا ہے کہ کرکٹ بورڈ کا مستقبل کا پلان کچھ اور ہی ہو ۔


3 اوپنگ بیٹسمین کے ساتھ سیریز میں جانا درست فیصلہ ہے ۔ تیسرے اوپنر کی عدم موجودگی کا خمیازہ ہم نے ورلڈ کپ میں بھگت ہی لیا ۔ پاکستان اننگز کا آغاز تو امام الحق اور فخر زمان سے ہی کرے گا مگر بینچ پر عابد علی کی موجودگی میں بیک اپ موجود ہو گا ۔ جو کسی بھی پلیئر کے آوٹ آف فارم ہونے کے بعد اس کی جگہ پر کر سکتا ہے۔


مڈل آرڈر میں چار بلے باز بابراعظم، حارث سہیل، افتخار احمد اور آصف علی کو منتخب کیا گیا ہے ۔ بابر اعظم اور حارث سہیل کی ٹیم میں شمولیت تو یقینی تھی مگر آصف علی کو ایک اور چانس دینا کچھ سمجھ سے بالا تر ہے ۔ 18 ون ڈے میچز میں 27.76 کی اوسط سے 361 رنز کسی طور بھی ماڈرن کرکٹ کے شایان شان نہیں اور وہ اپنی ٹیکنیک سے بھی ایک مکمل بیٹسمین نہیں ۔ ان کو مسلسل کھلایا جانا بھی کسی نوجوان کھلاڑی کے ساتھ زیادتی ہے ۔  افتخار احمد کو طویل انتظار کے بعد بالاخر شعیب ملک اور محمد حفیظ کی عدم موجودگی میں ٹیم میں شمولیت کا موقع مل ہی گیا اور ان کی موجودہ فارم بھی اچھی ہے سو ان سے بہتر کارکردگی کی امید کی جا سکتی ہے ۔ جیسا کہ چیف سلیکٹر نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی آف اسپن باولنگ بھی ان کی ٹیم میں شمولیت کی اہم وجہ ہے سو امید کی جا سکتی ہے کہ افتخار احمد اپنا انتخاب درست ثابت کریں گے ۔ عمر اکمل اور احمد شہزاد کی ٹیم میں  عدم شمولیت پر کئی سابقہ پلیئرز نے سوال بھی اٹھائے مگر ان کی ٹی 20 ٹیم میں شمولیت کا قوی امکان ہے اور یہی مصباح اور کرکٹ بورڈ کی پالیسی ہو گی کہ آئندہ برس ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے ایک مضبوط ٹیم کی تشکیل دیں اور یقینا بورڈ کے پلان میں عمر اکمل ضرور ہوں گے ۔ احمد شہزاد کی ٹیم میں شمولیت ابھی بھی مشکوک ہی ہے ۔


3 آل راونڈر کی شمولیت بھی فیوچر پلان کا حصہ ہے اور محمد نواز کو عماد وسیم کے بیک اپ کے طور پر تیار کرنا بھی ٹیم میجمنٹ کا اچھا فیصلہ ہے ۔ شاداب خان کو کرکٹ بورڈ مستقبل کے ٹی 20 کا کپتان کے طور پر دیکھ رہا ہے اور ان کا ٹیم کے ساتھ ہونا بھی احسن قدم ہے ۔ اب بات کریں فاسٹ باولنگ کی تو یہ وقار یونس کا شعبہ ہے ۔ وہاب ریاض اور محمد عامر  بطور سینئر باولر ٹیم میں شامل ہیں ۔ ان دونوں باولرز کی جانب سے طویل دورانیے کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ بھی اسی پلان کا حصہ ہے کہ وہ اپنی توجہ محدوراوورز کی کرکٹ پر مرکوز کر سکیں ۔عثمان شنواری اور محمد حسنین کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ وقار یونس ٹیم پاکستان کو فاسٹ باولرز کی ایک لاٹ تیار کر کے دینے کے مشن پر گامزن ہیں سو اللہ کرے وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوں اور 90 کی دہائی کی طرح پاکستان کرکٹ کی پہچان اس کا فاسٹ باولنگ اٹیک ہو۔

عمر ملک
تحریر: عمر ملک
x

Check Also

راولپنڈی میں پاک بنگلا دیش ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی تقریب رونمائی

راولپنڈی میں پاک بنگلا دیش ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی تقریب رونمائی

راولپنڈی میں پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی تقریب رونمائی ...

%d bloggers like this: