عامر خان کی شاہانہ زندگی

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر  خان نے اپنے گھر کے دروازے میڈیا  پر کھولے تو ان کی پرتعیش زندگی سے بھی پردہ اٹھ گیا۔

برطانیہ میں ان کی وسیع جاگیر ہے جس میں دو گھر  ایک ٹرافی روم اور ایک بڑا وارڈروب شامل ہے۔

عامر خان نے ایم ٹی وی کو اپنے گھر کا دورہ کرایا جس میں وہ اپنی خوبرو اہلیہ  فریال کے ساتھ رہتے ہیں۔

ان  کے گھر میں ایک  بڑا واک ان وارڈروب بھی موجود ہے جو ڈیزائنر ملبوسات، جوتوں اور ہینڈ بیگز سےبھرا ہوا ہے۔

ایک طرف ان کی حاصل کی گئی  ٹرافیز سجائی گئی ہیں۔ عامر خان کو کاروں اور ہیوی بائیکس کا بھی خوب شوق ہے۔

انہوں نے ایم ٹی وی کے لیے اپنی رالز رائس کو بھی چند فٹ چلایا  جس پر یہ بھی انکشاف ہوا کہ چند فٹ کے فاصلے پر موجود  دوسرا گھر بھی انہی کا ہے۔

باکسنگ چیمپئن عامر خان کے اثاثوں کی مالیت دو کروڑ  تیس لاکھ  پاؤنڈ ہے، جو پاکستانی کرنسی میں ساڑھے چار ارب روپے  بنتی ہے۔

دوسری طرف  برطانوی اخبار ’’دی سن‘‘ کے مطابق عامر خان کا اپنے والدین سے تنازع بھی ابھی ختم نہیں ہوا۔

اخبار  کے مطابق خاندان میں جنگ ابھی تک چل رہی ہیں، عامر خان کے ہاں ایک اور بچے کی پیدائش کی خبر سنتے ہی ان کی والدہ بیٹے سے ملاقات کے لیے  پہنچیں۔

بزرگ خاتون گھر کے  باہر گھنٹیاں بجاتی رہیں لیکن کسی نے دروازہ نہیں کھولا، اس پر وہ آنسو بہاتی  ہوئی واپس چلے گئیں۔ میڈیا کے  مطابق  ان کو اپنے پوتے کی خبر بھی سوشل میڈیا کے  ذریعے  ہی ملی تھی۔

2016ء میں فریال نے اپنے سسرالیوں پر الزام لگایا  تھا کہ وہ انہیں دھکے دیتے  ہیں جس کے بعد سے عامر خان کی اپنے  والدین سے بول چال بند ہے۔

سابق لائٹ ویلٹر ویٹ چیمپئن نے ایک ہفتہ پہلے ہی دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے گھروالوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور لڑائی کی  خبریں درست نہیں۔

عامر خان نے کہا تھا  کہ وہ ایسے  کھیل  کا  حصہ ہیں جہاں  ایک  پنچ پوری زندگی تبدیل کر دیتا  ہے اس لیے وہ سب کے  ساتھ اچھے  برتاؤ  کی کوشش کرتے  ہیں۔

برطانوی میڈیا کے  مطابق فریال اور ان کی والدہ نے عامر خان کے اپنے والدین سے بات کرنے پر بھی پابندی لگائی ہوئی  ہے  اور وہ اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ عامر اپنے والدین سے کسی بھی  طرح ملاقات نہ کرسکے۔

x

Check Also

کوچ کیلئے انٹرویوز کی اندرونی کہانی

کوچ کیلئے انٹرویوز کی اندرونی کہانی

دو ہفتے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک ذمے دار نے ویسٹ انڈیز کے سابق ...

%d bloggers like this: