بورڈ میں پروفیشنل سسٹم لارہے ہیں، وسیم خان

بورڈ میں پروفیشنل سسٹم لارہے ہیں، وسیم خان

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایم ڈی وسیم خان کا کہنا ہے کہ بورڈ میں پروفیشنل سسٹم لارہے ہیں کام نہ کرنے والوں کو گھر جانا ہوگا، سب کو احتساب سے گزرنا ہوگا، نئے نظام کو کارپوریٹ کلچر کی طرح چلایا جائے گا،اس پروفیشنل نظام میں احتساب اور ٹرانسپرنسی کو اہمیت دی جائے گی۔ 

وہ پیر کو صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے جس میں انہوں نے اپنے وژن اور مستقبل کے پلان سے میڈیا کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی کے سارے اسٹاف کو چیلنج دیا جارہا ہے، پرانے کلچر کو تبدیل کریں گے، جو ملازم اس نظام کے مطابق کام نہیں کرے گا اسے احتساب سے گزر کرگھر جانا پڑے گا۔

وسیم خان نے کہا کہ میں 6 ماہ پہلے پاکستان اس عزم کے ساتھ آیا تھا کہ ملک کی خدمت کروں گا لیکن میڈیا میں میرے اور پی سی بی کے بارے منفی پروپیگنڈہ کیا گیا، کردار کشی کی گئی، غلط باتوں کو پھیلایا گیا اور حقائق کو توڑ مروڑ کی پیش کیا گیا۔ میرے امیج کو منفی بتایا گیا۔ 

اپنی پچھلے 6 ماہ کی پیشرفت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے پانچ سال کی اسٹریٹجی بنائی ہے، جس میں کام کو فوکس کیا گیا ہے، بورڈ میں پروفیشنل ازم،احتساب اور شفافیت کو اہمیت دی جارہی ہے، جو کام نہیں کرے گا اسے فارغ کردیا جائے گا، ہر سال ہر ڈپارٹمنٹ اور ہر ملازم کی کارکردگی کے نتائج جاری کئے جائیں گے، کوشش کریں گے کہ پی سی بی دنیا کا اچھی ساکھ کا حامل بورڈ بن جائے گا۔

وسیم خان نے کہا کہ پی سی بی کو کارپوریٹ انداز میں چلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی دنیا بھر میں اچھی ساکھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احسان مانی، مجھ سمیت پی سی بی کے بہت سارے لوگ آئی سی سی کی کمیٹیوں میں ہیں۔ میں جو باتیں کررہا ہوں اگر نہیں کرسکا تو میڈیا مجھے بتائے کہ آپ نے دعوے کئے کام نہیں کیا تو میں گھر جانا پسند کروں گا، میرے بارے میں ذاتی حملے نہ کئے جائیں، صحافی ہمیں ضرور چیلنج کریں لیکن ذاتی حملے نہ کریں، میں پاکستان کی عزت بچانا چاہتا ہوں، میں پاکستان کی بہتری چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سب میڈیا والے برے نہیں اس شعبے میں دیانت دار لوگ بھی ہیں، ایک خراب اور دس اچھے لوگ ہوتے ہیں، میری تنخواہ کو خواہ مخواہ ایشو بنایا جارہا ہے، میری تنخواہ پوچھنے والے اپنی تنخواہ بھی بتائیں، میں نے یہ تنخواہ نہیں مانگی لیکن کسی بھی شخص کی ویلیو اور کام دیکھ کر اس کی تنخواہ کا تعین کیا جاتا ہے۔

میڈیا کے اصرار کے باوجود وسیم خان نے اپنی تنخواہ بتانے سے گریز کیا،لیکن یہ ضرور کہا کہ میری تنخواہ انگلینڈ سے کم ہے،مجھے گھر نہیں ملا ہے نہ میرا نوکر ہے، میں اپنا کھانا خود بناتا ہوں، میری گاڑی بھی عام سی ہے فور وہیل ڈرائیو نہیں ہے، میں غیرملکی دوروں میں ٹی اے ڈی اے کم لیتا ہوں، میں تین سو ڈالرز لے سکتا ہوں لیکن میں 90 ڈالر لیتا ہوں، 18دن میں، میں ان دنوں کے پیسے لیتا ہوں جن دنوں کام کرتا ہوں۔

x

Check Also

مکی آرتھر سری لنکن ٹیم کے ہیڈ کوچ؟

پاکستان ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو سری لنکن ٹیم کا ہیڈ کوچ ...

%d bloggers like this: