کوہلی کو آؤٹ کرنے کا آسان طریقہ

دنیائے کرکٹ اب صرف اسکور کےنمبرز تک محدود نہیں رہی بلکہ اب کرکٹ نمبرز گیم بن چکی ہے۔

پاکستان کی جانب سے شاداب خان اور عماد وسیم کو پلینگ الیون میں شامل کرنے پر پاکستانی کرکٹ اینالسٹ پریشان ہو گئے ہیں۔

بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی کو آؤٹ کرنا بھارت کے خلاف کھیلنے والی ہر ٹیم کی اولین ترجیح ہوتا ہے۔ ماضی کا ریکارڈ دیکھا جائے تو کوہلی کی وکٹ پاکستان کے اتنی مشکل نہیں لیکن غلط فیصلہ اس کو مشکل بنا ضرور سکتا ہے۔

ویراٹ کوہلی فاسٹ باؤلرز کے بجائے سپنرز کو اچھا کھیلتے ہیں۔ سپنرز کے خلاف ان کی اوسط 73.62 جبکہ پیس اٹیک کے خلاف 58.75 رہی ہے۔

اگرچہ 58.75 کی اوسط کو کمزوری نہیں کہا جاسکتا لیکن پاکستانی فاسٹ باؤلرز کے سامنے ان کی بیٹنگ کمزور ہے۔

دوہزار گیارہ کے بعد سے آٹھوں مرتبہ وہ پاکستان کے فاسٹ باؤلرز کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے اور ان کی اوسط صرف 28.87 رہی۔ صرف دو مرتبہ وہ ناٹ آؤٹ رہے۔

دوہزار گیارہ میں ویراٹ کوہلی نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور وہ کیلینڈر ایئر میں ایک ہزار رنز بنانے والے کھلاڑی بھی بنے۔

وہ ان آٹھ سال میں پاکستان کے خلاف دس ایک روزہ میچ کھیل چکے اور ایک مرتبہ بھی اسپنر انہیں آؤٹ نہیں کرپائے۔

چیمپئنز ٹرافی کے گروپ میچ میں کپتان سرفراز نے کوہلی کو مسلسل چار سپنرز کے اوور دیئے۔ دوہزار سترہ میں برمنگھم کے میدان میں کھیلے گئے اس میچ میں جب کوہلی نے سولہ گیندوں پر پندرہ اسکور بنایا تو کپتان سرفراز فاسٹ باؤلر لائے لیکن اس وقت تک کوہلی سیٹ ہوچکے تھے اور اس کا نتیجہ 68 بالز میں ناٹ آؤٹ 81 رنز کی صورت میں سامنے آیا۔

آج کے میچ میں بھی پاکستان چار سپن باؤلرز شاداب، عماد، حفیظ اور شعیب ملک کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ کرکٹ اینالسٹ کہتے ہیں کہ کوہلی کو آؤٹ کرنا ہے تو ان پر پیس اٹیک کرنا ہوگا۔

x

Check Also

اسد شفیق کے نام سے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر فنڈ ریزنگ کا انکشاف

اسد شفیق کے نام سے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر فنڈ ریزنگ کا انکشاف

ٹیسٹ کرکٹر اسد شفیق کے نام سے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے فنڈریزنگ ہونے کا ...

%d bloggers like this: