ورلڈکپ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے بائولرز

ورلڈکپ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے بائولرز



کسی بھی بائولر کے لئے ہیٹ ٹرک کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ ہیٹ ٹرک کا مطلب یہ ہے کہ مسلسل تین گیندوں پر تین وکٹیں حاصل کرنا۔ کرکٹ کی تاریخ میں کئی ایسے بائولرز گزرے ہیں جنہوں نے ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میچوں میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کیا۔ لیکن اگر کوئی بائولر ورلڈکپ کے کسی میچ میں یہ کارنامہ سرانجام دیتا ہے تو اس کی مسرت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

یہ اعزاز حاصل کرنے والے کئی بائولرز ہیں اور ان میں ایک پاکستانی بائولر بھی ہے جس کا نام ہے ثقلین مشتاق۔ اگر قسمت کی دیوی وسیم اکرم پر کچھ اور مہربان ہوتی تو 1992کے ورلڈکپ فائنل میں وہ بھی ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کر لیتے۔ بہرحال وہ جو کہتے ہیں ’’یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا‘‘۔ آج کل ورلڈکپ 2019کے میچز ہو رہے ہیں۔ ممکن ہے ان میچز میں بھی کچھ بائولر ہیٹ ٹرک کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن اس وقت تک جن بائولرز نے ورلڈکپ مقابلوں میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کیا ہم اپنے قارئین کو اس بارے سب کچھ بتائیں گے۔

آج کل ورلڈکپ 2019کے میچز ہو رہے ہیں۔ ممکن ہے ان میچز میں بھی کچھ بائولر ہیٹ ٹرک کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن اس وقت تک جن بائولرز نے ورلڈکپ مقابلوں میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کیا ہم اپنے قارئین کو اس بارے سب کچھ بتائیں گے۔

1- چیتن شرما (1987)

چیتن شرما بھارت کے وہ بائولر تھے جنہیں 1986میں اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے اوور کی آخری گیند پر جاوید میاں داد نے چھکا مار کے فتح حاصل کی۔ یہ آسٹریشیا کپ کا فائنل تھااور اس میں بھارت کا پلہ بھاری نظر آ رہا تھا لیکن جاوید میاں داد نے ایک ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ چیتن شرما کو بھارت کے کرکٹ شائقین نے آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر تنقید کے اتنے تیر برسائے گئے کہ ان کا جینا محال ہو گیا۔ حالانکہ وسیم اکرم اور جاوید میاں دادا نے کئی بار یہ کہا کہ شرما کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا اور اس نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا۔ شرما نے یارک کرنے کی کوشش کی لیکن جاوید میاں دادا نے ایک قدم آگے بڑھا کر گیند کو فل ٹاس بنایا اور چھکا لگا دیا۔ 1987کے اپلائنس ورلڈکپ میں چیتن شرما نے ورلڈکپ کے ایک میچ میں ہیٹ ٹرک کر کے اپنے اوپر لگنے والا وہ داغ دھو دیا جس کی وجہ سے انہیں مسلسل خفت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ بھارت نے ورلڈکپ کا یہ میچ نیوزی لینڈ کے خلاف ناگ پور میں کھیلا تھا۔ چیتن شرما نے جن تین گیندوں پر نیوزی لینڈ کے تین کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا ان میں کین ردرفورڈ‘ آئن سمتھ اور اییوین جیٹفلڈ شامل ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ چیتن شرما نے ان تینوں کھلاڑیوں کو کلین بولڈ کیا۔ اس طرح چیتن شرما وہ پہلے بائولر بن گئے جنہوں نے ورلڈکپ میں ہیٹ ٹرک کی۔

2- ثقلین مشتاق (1999)

چیتن شرما کے اس کارنامے کے بعد دوسرا کارنامہ پاکستان کے ثقلین مشتاق نے سرانجام دیا۔ انہوں نے 1999کے ورلڈکپ میں زمبابوے کے خلاف میچ میں ہیٹ ٹرک کی۔ اس طرح یہ کارنامہ بارہ برس کے بعد سرانجام دیا گیا۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 272رنز بنائے جبکہ اس کے جواب میں زمبابوے 123رنز پر سات وکٹ کھو چکا تھا۔ اوول کے میدان میں باقی کی تین وکٹیں ثقلین مشتاق نے حاصل کر کے پاکستان کو فتح دلا کر سیمی فائنل میں پہنچا دیا۔ ثقلین نے زمبابوے کے جن تین کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا ان میں ہنری اولنگا‘ ایڈم ہیکل اور پوی بنگوا شامل ہیں۔ ہنری اولنگا کو ثقلین مشتاق کی گیند پر وکٹ کیپر معین خان نے سٹمپ آئوٹ کیا۔ ایڈم ہیکل کو بھی اسی انداز میں آئوٹ کیا گیا اور آخری بلے باز پومی بنگوا کو ثقلین نے ایل بی ڈبلیو کر کے زمبابوے کو شکست سے دوچار کر دیا جہاں ثقلین مشتاق نے سپن بائولنگ میں دیگر کمالات دکھائے ہیں وہاں ان کا یہ کارنامہ بھی یاد رکھا جائے گا۔

3- چمندا واس (2003)

سری لنکا کے سابق فاسٹ بائولر چمندا واس نے ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز 2003کے ورلڈکپ میں بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں حاصل کیا۔ یہ ورلڈکپ جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا تھا۔ اس دن ویلنٹائن ڈے تھا لیکن چمندا واس نے بنگلہ دیشیوں کیلئے کوئی محبت نہیں دکھائی اور ان پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے۔ سب سے پہلے بنگلہ دیش کے حنان سرکار کو واس نے ایک زبردست ان سئونگ بال سے آئوٹ کیا۔ اس کے بعد محمد اشرفل کو واس نے اپنی ہی گیند پر کیچ کیا اور پھر احسان الحق نے واس کی گیند پر جے وردھنے کو سلپ میں کیچ پکڑا دیا۔اسے چمندا واس کا بہترین بائولنگ سپیل بھی کہا جا سکتا ہے۔

4-بریٹ لی (2003)

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے اس شاندار فاسٹ بائولر نے یوں تو اپنی خطرناک تیز بائولنگ سے دنیا کے ہر بلے باز کو پریشان کیے رکھا لیکن انہوں نے 2003کے ورلڈکپ میں کینیا کے خلاف میچ میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ واس نے جو کارنامہ سرانجام دیا اس کے صرف 11 روز بعد ہی بریٹ لی نے کینیا کے خلاف ہیٹ ٹرک کی۔ ڈربن میں ہونے والے میچ میں بریٹ لی نے چوتھے اوور میں کینیا کے تین کھلاڑی تین رنز پر آئوٹ کر دئیے۔کینیا کے ان کھلاڑیوں میں کینیا کے افتتاحی کھلاڑی کینیڈی اوتینو‘ برسیجال پٹیل اور ڈیوڈ اوبایا شامل ہیں۔ بریٹ لی کی یہ تینوں گیندیں انتہائی تیز اور خطرناک تھیں۔ وہ اپنے زمانے میں شعیب اختر کے بعد سب سے زیادہ تیز رفتار بائولر تسلیم کیے جاتے تھے۔ انہوں نے ڈیوڈ اوبایا کو جس گیند پر آئوٹ کیا اسے کھیلنا ناممکن تھا کیونکہ یہ 96.6 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کیا گیا یارکر تھا۔ کچھ تبصرہ نگار کہتے ہیں کہ بریٹ لی نے کینیا جیسی کمزور ٹیم کے خلاف اپنی تیز رفتار بائولنگ کی بدولت ہیٹ ٹرک کی لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو بریٹ لی کی بائولنگ اتنی خطرناک تھی کہ کسی ٹیم کے صف اول کے کھلاڑیوں کیلئے بھی انہیں کھیلنا بہت مشکل تھا۔ بریٹ لی نے جو شاندار معرکہ سرانجام دیا اس کی اہمیت کسی طرح بھی کم نہیں کی جا سکتی۔

5- لیستھ ملنگا (2007)

2007کے ورلڈکپ میں سری لنکا کے لیستھ ملنگا نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز اپنے نام کیا۔ ملنگا نے اس میچ میں مجموعی طور پر 4وکٹیں حاصل کیں۔ یہ میچ واقعی سری لنکا کے لئے یادگار تھا۔ جس شاندار طریقے سے ملنگا نے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا اس پر انہیں جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ جنوبی افریقہ کو جیت کیلئے صرف چار رنز کی ضرورت تھی اور اسکی پانچ وکٹیں باقی تھیں۔ اس صورتحال میں لیستھ ملنگا نے ایسا یادگار بائولنگ سپیل کیا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے شان پولاک‘ اینڈریو ہال اور جیک کیلس کو آئوٹ کیا۔ پھر ملنگا نے مخایا نتنی کو بھی پیولین کی راہ دکھائی لیکن ہیٹ ٹرک کرنے کے باوجود سری لنکا جنوبی افریقہ کو شکست نہ دے سکا۔ جنوبی افریقہ نے 9وکٹیں گنوا کر ہدف حاصل کر لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ سری لنکا فتح حاصل نہ کر سکا لیکن ملنگا کی ہیٹ ٹرک ہمیشہ یاد رہے گی۔

6-کیمر روش (2011)

کیمر روش وہ پہلے ویسٹ انڈین بائولر تھے جنہوں نے 2011کے ورلڈکپ میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے یہ کارنامہ ہالینڈ کے خلاف میچ میں حاصل کیا۔ ہالینڈ 331رنز کے ہدف کا تعاقب کر رہا تھا اور 115رنز پر اس کے سات کھلاڑی آئوٹ ہو چکے تھے۔ اس موقع پر کیمر روک نے طوفانی بائولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے باقی کے تین کھلاڑیوں کو یکے بعد دیگرے آئوٹ کر کے کمال کر دکھایا۔ کیمر روش نے پیٹر سیلر اور برنارڈ کوٹس کو ایل بی ڈبلیو آئوٹ کیا اور پھر بیرنڈ ویسٹ ڈکس کی مڈل سٹمپ اڑا دی۔ اس طرح انہوں نے اپنی ٹیم کو یادگار فتح دلائی۔ کیمر روش اب بھی ویسٹ انڈیز ٹیم کا حصہ ہیں اور اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کی کرکٹ کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کے پاس ہمیشہ سے بہترین فاسٹ بائولرز رہے ہیں۔ ان فاسٹ بائولرز میں ویسلے ہال‘ گرفتھ‘ اینڈی رابرٹس‘ مائیکل ہولڈنگ‘ میلکم مارشل‘ جوئیل گارنر‘ کورٹنی واش‘ کرٹلی امبروز اور کئی دوسرے بائولرز شامل ہیں۔ ان بائولرز نے ہمیشہ ویسٹ انڈیز کی فتح میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اب بھی ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں اچھے فاسٹ بائولرز شامل ہیں اور وہ موجودہ ورلڈکپ میچوں میں دلکش کھیل کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے تیز بائولرز نے جتنی مہارت سے بائولنگ کی اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس دفعہ بھی شاید ویسٹ انڈیز کا کوئی بائولر ہیٹ ٹرک کرنے میں کامیاب ہو جائے۔

 ۷- لیستھ ملنگا (2011)

2011کا ورلڈکپ بھارت اور پاکستان میں کھیلا گیا تھا۔ سری لنکا کے لیستھ ملنگا نے اس ورلڈکپ میں بھی ہیٹ ٹرک کر کے ایک مثال قائم کر دی۔اس بار ملنگا نے یہ کارنامہ کینیا کے خلاف سرانجام دیا۔ جس دن ویسٹ انڈیز کے روش نے ہیٹ ٹرک کی‘ اس سے اگلے دن ہی ملنگا نے کینیا کے خلاف کھیلتے ہوئے کرکٹ ورلڈکپ کی دوسری ہیٹ ٹرک کی۔ اس طرح وہ پہلے بائولر بن گئے جس نے ورلڈکپ کے میچوں میں دو بار ہیٹ ٹرک کی۔ اور یقینا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ پچھلے ریکارڈ کی مانند ملنگا کی یہ ہیٹ ٹرک دو اوورز میں مکمل ہوئی۔ ان کا پہلا شکار تینمے مشرا تھے جسے انہوں نے ایل بی ڈبلیو آئوٹ کیا۔ یہ ملنگا کے ساتویں اوور کی آخری گیند تھی۔ آٹھویں اوور میں انہوں نے ایک جیسی دو گیندیں کرائیں اور ان دو گیندون پر ملنگا نے پیٹراونگوڈنو اور سیشم گوشے کو پیولین کی راہ دکھائی۔ میچ کے اختتام پر جب تبصرہ نگار نے ملنگا سے پوچھا کہ کیا اس نے یہ تہیہ کر رکھا تھا کہ ورلڈکپ میں ایک اور ہیٹ ٹرک اپنے نام کرنی ہے تو ملنگا نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین تھا کہ اس بار پھر میں ہیٹ ٹرک کرنے میں کامیاب ہو جائوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس کام کیلئے پہلے سے ہی تیاری کر رکھی تھی۔ میں دراصل اس تکنیک سے واقف ہو چکا تھا جس سے ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ہیٹ ٹرک کی انہیں پہلے سے بھی زیادہ خوشی ہے۔ اگرچہ یہ کینیا کے خلاف کی گئی ہے اور میری پہلی ہیٹ ٹرک جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف تھی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسا کونسا بائولر ہوگا جو ورلڈکپ کے میچوں میں دو بار ہیٹ ٹرک کرے گا۔ ایسا تو ہوگا نہیں کہ یہ ریکارڈ ہمیشہ قائم رہے کیونکہ یہ بات ذہن میں رکھیے کہ ریکارڈ ہوتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں۔ موجودہ 2019کے ورلڈکپ میں متعدد اعلیٰ معیار کے تیز بائولر اپنے فن کا جادو جگا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے ہی کوئی ہیٹ ٹرک کا اعزاز اپنے نام کر لے۔

8- سٹیون فن (2015)

2015کا ورلڈکپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد ہوا تھا۔ اس ورلڈکپ میں بڑے یادگار میچز کھیلے گئے تھے۔ ایک میچ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ہوا اور یہ بھی کمال کا میچ ثابت ہوا۔ اس میچ میں انگلش بائولر سٹیون فن نے آخری اوور میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کیا۔ پچھلے اوور میں سٹیون فن نے کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی تھی۔سٹیون فن کی ہیٹ ٹرک کو حیران کن کہا جاتا ہے۔ آسٹریلوی بلے باز نہایت شاندار کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے اور انہوں نے چھ وکٹوں کے نقصان پر 342رنز بنا لئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ آسٹریلیا مزید کسی نقصان کے کچھ اور رنز بنا لے گا کیونکہ اننگز کی صرف تین گیندیں باقی رہ گئی تھیں۔ اس موقع پر سٹیون فن نے حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پہلے براڈ ہیڈن کو آئوٹ کیا۔ فن کی گیند پر سٹیورٹ براڈ نے ہیڈن کا کیچ لیا۔

سٹیون فن کی اگلی گیند پر جوئے روٹ نے لانگ آف پرگلین میکسویل کا کیچ لے لیا اور پھر اس سے اگلی گیند پر سٹیون فن نے مچل جانسن کو جیمز اینڈرسن کے ہاتھوں کیچ آئوٹ کرا دیا۔

یہ زبردست بائولنگ تھی ۔ خود فن کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ انہوں نے کیسا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ سٹیون فن اس طرح پہلے انگلش بائولر بن گئے جنہوں نے ورلڈکپ میں ہیٹ ٹرک کی۔ اس ورلڈکپ میں سٹیون فن موجود نہیں ہیں لیکن انگلینڈ کے پاس موجودہ ورلڈکپ سکواڈ میں بڑے معیاری تیز بائولر موجود ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ اعزاز اس دفعہ بین سٹوکس کے حصے میں آ جائے کیونکہ سٹوکس اس وقت بھرپور فارم میں ہیں اور لگ یہ رہا ہے کہ اس دفعہ وہ ضرور کچھ نہ کچھ کر گزریں گے۔ خیر یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اس ورلڈکپ میں ہیٹ ٹرک کا کارنامہ کون سرانجام دیتا ہے ۔

9-جے پی ڈمنی (2015)

بعض اوقات انسان کو وہ کچھ مل جاتا ہے جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ جب قسمت کی دیوی مہربان ہو جائے تو پھر قدم قدم پر آپ کامیابی کے پھول سمیٹتے ہیں۔ ناکامی آپ سے کوسوں دور بھاگتی ہے۔ یہی کچھ جنوبی افریقہ کے جے پی ڈمنی کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے 2015 کے ورلڈکپ میں سری لنکا کے خلاف کواٹر فائنل میچ میں ہیٹ ٹرک کی جس کا واقعی انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ وہ بنیادی طور پر مڈل آرڈر بیٹسمین ہیں اور سپن بائولنگ بھی کرتے ہیں لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ وہ اعلیٰ درجے کے سپنر نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ ورلڈکپ کی نویں ہیٹ ٹرک تھی۔ یہ میچ 18مارچ 2015 کو سڈنی میں کھیلا گیا۔ سری لنکا کے چار کھلاڑی 114 رنز پر آئوٹ ہو گئے تھے۔ اس موقع پر جے پی ڈمنی کی ہیٹ ٹرک کا آغاز ہوا۔ ڈمنی نے اپنے آٹھویں اوور کی آخری گیند پر اینجلیو میتھوس کو آئوٹ کیا۔ اس کے بعد ڈمنی کا دوسر اشکار نوون کلوسکیرا تھے۔ یہ ڈمنی کا نواں اوور تھا جب انہوں نے میتھوس کو پیولین بھیجا۔ ان کی گیند پر ڈی کوک نے میتھوس کا ایک بڑا اچھا کیچ پکرا۔ اس کے بعد ڈمنی نے ہیٹ ٹرک بال پھینکی اور تھارنڈو کوشل کو ایل بی ڈبلیو آئوٹ کر دیا۔ اس طرح وہ جنوبی افریقہ کے پہلے بائولر بن گئے جنہوں نے ورلڈکپ میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کیا۔

اس معرکے کو سرانجام دینے کے بعد جے پی ڈمنی کی خوشی دیدنی تھی۔ انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ انہوں نے ورلڈکپ میچ میں ہیٹ ٹرک کر لی ہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ورلڈکپ میچوں میں ہیٹ ٹرک کرنے والے چھ فاسٹ بائولرز تھے۔ ملنگا نے دوبار یہ معرکہ سر کیا) جبکہ صرف دو سپنر تھے جنہوں نے یہ کمال کر دکھایا۔ ایک ثقلین مشتاق اور دوسرے جے پی ڈمنی۔

ہم آخر میں اپنے قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کی اصطلاح آخر آئی کیسے؟ دراصل ایک فٹبالر جب مسلسل تین گول کرتا ہے تو اسے ہیٹ ٹرک کہا گیا۔ اس موقع پر اگر کوئی اس فٹبالر کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اپنا ہیٹ پیش کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہی روایت کرکٹ میں بھی پڑ گئی۔ یعنی جو بائولر مسلسل تین گیندوں پر تین وکٹیں حاصل کر ے تو اس کو بھی ہیٹ ٹرک کہا جاتا ہے اور اس بائولر کو بھی خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اگر کوئی ہیٹ پیش کرنا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔



x

Check Also

سرفراز اور کوچ نے لارڈز پچ کا معائنہ کیا

سرفراز اور کوچ نے لارڈز پچ کا معائنہ کیا

ورلڈ کپ میں باونس بیک کرنے کے لئے پاکستان کرکٹ ٹیم نے کوششیں شروع کردی ...

%d bloggers like this: