میری فیملی پاکستان میں محفوظ نہیں، جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، میرا

پاکستانی اداکارہ میرا نے کہا ہے کہ قبضہ مافیا کی جانب سے ان کی جائیداد پر قبضے کی کوشش کی جارہی ہے، ان کی فیملی پاکستان میں محفوظ نہیں ہے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔

لاہور پریس کلب میں والدہ اور بھائی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اداکارہ میرا نے کہا کہ میرے خاندان کے ساتھ بہت ناانصافی اور ظلم ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں امریکا میں تھی، اس کے بعد میں دبئی میں تھی، یہاں قبضہ مافیا ہے جو لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرتا ہے اور لوگوں کی جانیں لیتا ہے۔

اداکارہ میرا نے کہا کہ میں یہ سوچ رہی تھی کہ میری فیملی پاکستان میں محفوظ نہیں ہے، میری والدہ پر تشدد کیا گیا اگر پولیس بروقت کاروائی نہ کرتی تو قبضہ مافیا انہیں قتل کردیتی۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں اپنی پراپرٹی پر قبضہ کرنے والے شاہد نامی ملزم کی تصویر دکھائی اور کہا کہ یہ عادی مجرم ہیں، میری درخواست ہے کہ میڈیا ولن کو ولن اور ہیرو کو ہیرو رہنے دے۔

اداکارہ میرا نے مزید کہا کہ میری آپ سب سے درخواست ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی ٹرانزیکشن، کوئی خرید و فروخت، کاروبار مت کریں، یہ ایک فراڈ اور مجرم ہے، انہوں نے میرے اہلخانہ پر حملہ کیا میں اگر پاکستان میں ہوتی تو شاید ایسا نہ ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ جن کی آوازیں دوسروں تک پہنچ نہیں سکتیں تو ان کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔

میرا کا کہنا تھا کہ اگر سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر بروقت کارروائی نہ کرتے تو شاید جانی و مالی نقصان ہوجاتا۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ شاہد نامی ملزم نے ایم ایم عالم روڈ پر ان کی پراپرٹی پر قبضے کی کوشش کی، اس کے علاوہ ان کی والدہ کے ایک اور گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہوں نے پیسے دیے تھے تو وہ منی ٹرانزیکشن دکھائیں کہ انہوں نے جائیداد کی رقم کی ادائیگی کہاں کی ہے۔

اداکارہ میرا نے کہا کہ وزیر داخلہ شیخ رشید سے درخواست ہے کہ ملزم شاہد محمود کا نام ای سی ایل (ایگزٹ کنٹرول لسٹ) میں ڈالا جائے اور میرے گھر والوں کو تحفظ دیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے عدالت کے ذریعے اپنی جائیداد پر حکم امتناع حاصل کرلیا ہے، یہ معاملہ عدالت میں زیرِ التوا ہے۔

میرا کا کہنا تھا کہ میں سی سی پی او لاہور کی مشکور ہوں کہ انہوں نے وقت پر کارروائی کی اور ایف آئی آر درج کی، انکوائری کی، پولیس کی جانب سے ملزم کو طلب کیا جاچکا ہے لیکن وہ اپنا بیان دینے کے لیے نہیں آرہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ شاہد نامی شخص کے پاس جعلی دستاویزات ہیں، ان کے ساتھ کسی دستاویز پر دستخط نہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے اس شخص کو پاکستان سے باہر نہ جانے دیا جائے اور انہیں فوراً گرفتار کیا جائے کیونکہ میرے اہلخانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

میرا کا کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف 5 ایف آئی آرز درج کی جاچکی ہیں، ان کے ساتھی گرفتار کیے جاچکے ہیں، ملزم کا ارادہ میری والدہ کی 30 سے 40 کروڑ روپے کی جائیداد پر قبضہ کرنے کا ارادہ تھا۔

اداکارہ نے کہا کہ یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے ہمیں انصاف چاہیے، حکومت اس مسئلے کو دیکھے اور ہمارا مطالبہ پورا کرے۔

میڈیا سے گفتگو میں اداکارہ میرا نے کہا کہ ‘ہم پاکستان کو صاف کرنا چاہتے ہیں، میں امریکا اور دبئی جاتی ہوں کہاں ایسا ہوتا ہے؟’

انہوں نے کہا کہ ‘میرے اہلخانہ کی جائیداد یہاں ہے، لوگ کیسے مسلح افراد کے ساتھ وہاں آئے، میری والدہ اور بھائی پر حملہ کیا’۔

اس موقع پر اداکارہ میرا آبدیدہ ہوگئیں اور کہا کہ ‘وہ دستاویزات جعلی ہیں، اگر کوئی سچ ثابت کردے تو میری پوری فیملی سرِ عام پھانسی لے لے گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ایسے 2 نمبر لوگوں کو پکڑنا بہت ضروری ہے، اس ملک کو صاف کریں اپنے بچوں کے لیے، پاکستان کو صاف کرنا اپنا مشن بنالیں، اس ملک کو ناپاک لوگوں سے ہم مل کر صاف کریں گے’۔

میرا کے بعد ان کے وکیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جائیداد پر قبضہ کرنے کے لیے درجنوں کے حساب سے جعلی دستاویزات تیار کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ہم پولیس اور عدالت چلے گئے ہیں اب کوئی جعلی دستاویزات تیار نہ کی جائیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ اداکارہ میرا کا لیپ ٹاپ اور کچھ دستاویزات، قبضے کی کوشش کے دوران چوری کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل پولیس نے لاہور میں اداکارہ میرا کی والدہ کے پلازہ پر قبضے کا مقدمہ درج کیا تھا۔

پولیس نے کہا تھا کہ ملزمان نے پلازہ کرائے پر لیا تھا اور بعد ازاں جعلی کاغذات بناکر اسے خالی کرنے سے انکار کردیا تھا۔

x

Check Also

امیتابھ کی فلم سیٹ پر کھلونا بائیک چلانے کی تصاویر وائرل

امیتابھ کی فلم سیٹ پر کھلونا بائیک چلانے کی تصاویر وائرل

بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن نے سیٹ پر کچھ تفریحی لمحات کی ایک جھلک ...

%d bloggers like this: