ریحانہ کے بعد میا خلیفہ بھی بھارتی کسانوں کے حق میں بول پڑیں

ریحانہ کے بعد میا خلیفہ بھی بھارتی کسانوں کے حق میں بول پڑیں

امریکی گلوکارہ ریحانہ کے بعد اب عالمی شہر یافتہ میڈیا پرسنیلیٹی میا خلیفہ بھی بھارت میں احتجاجی کسانوں کے حق میں سامنے آگئیں۔ 

انھوں نے سوشل میڈیا پر ان مظلوم کسانوں کی حمایت میں ایک کے بعد ایک دو پیغامات جاری کیے جبکہ ان میں احتجاجی مظاہرین کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ 

واضح رہے کہ بھارت میں جاری احتجاج عالمی شہرت یافتہ سیلیربیٹرز کی نگاہوں کا مرکز بھی بن گیا جہاں ایک کے بعد ایک نامور شخصیت احتجاج کرنے والے کسانوں کی حمایت میں آواز اٹھارہے ہیں۔ 

 اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے کسان اب بھارتی ریاست نئی دلی میں موجود ہیں، جہاں بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ سروس معطل کرکے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے ہیں۔

انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے متعلق جب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے رپورٹ شائع کی تو ٹوئٹر پر اسے بارباڈوس سے تعلق رکھنے والی امریکی گلوکارہ ریحانہ نے ری ٹوئٹ کیا۔ 

ساتھ میں اپنے پیغام میں ریحانہ نے سوال اٹھادیا کہ ’ہم کیوں اس معاملے پر بات نہیں کر رہے؟‘۔

ٹوئٹر پر 10 کروڑ 10 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والی ریحانہ کا ٹوئٹ جنگل میں آگ کی طرح پھیل گیا، جس پر انھیں کچھ بھارتیوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا جبکہ کچھ نے کسانوں کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

تاہم اب ریحانہ کے بعد عالمی شہر یافتہ میڈیا پرسنیلیٹی میا خلیفہ نے بھارت مخالف اور کسانوں کے حق میں اپنے پیغامات جاری کردیے۔ 

سابقہ بولڈ ادکارہ نے ایک ٹوئٹ میں کسانوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’کس طرح انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے؟ کیا نئی دلی کا انٹرنیٹ بند ہوگیا؟‘

اپنے ایک اور پیغام میں میا خلیفہ نے طنز کیا کہ ’کیا یہ اجرت پر آئے اداکار ہیں؟ کاسٹنگ ڈائریکٹر نے کافی کام کیا، مجھے امید ہے کہ ایوارڈ سیزن میں انھیں نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ 

اپنے پیغام کے آخر میں انھوں نے واضح کہہ دیا کہ وہ کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں، جبکہ انھوں نے اپنے پیغامات میں کسانوں کے احتجاج کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

x

Check Also

'بتائیں کیا آپ کو ووٹ دینےکافیصلہ درست تھا؟' شوبز ستارے عمران خان سے ناراض

‘بتائیں کیا آپ کو ووٹ دینےکافیصلہ درست تھا؟’

وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے جہاں ...

%d bloggers like this: