امریکا اور چین میں ہواوے کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ

امریکا اور چین میں ہواوے کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں مزید بڑھنے والی ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسمارٹ فون کمپنی ہواوے پر امریکی ٹیکنالوجی اور سافٹ وئیرز کی سپلائی کے حوالے سے پابندیوں کو مزید سخت کیا گیا ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے جمعے کو نیا حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے تحت ہواوے اور اس کے سپلائرز کو امریکی ٹیکنالوجی اور سافٹ وئیر کے استعمال سے روکا گیا ہے، اور اس اقدام سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

اس نئے اصول یا پابندی کا اطلاق ستمبر سے ہوگا جس کے تحت دنیا بھر مین امریکی ساختہ مشینری اور سافٹ وئیر استعمال کرنے والی کمپنیوں کو ہواوے یا اس کی ذیلی کمپنیوں کے لیے چپس کے ڈیزائن یا تیاری سے روک دیا جائے گا

کمپنیاں اپنی مصنوعات ہواوے کو فروخت کرنے کے لیے لائسنس کی درخواست دے سکتی ہیں، مگر زیادہ امکان اس بات کا ہے ان درخواستوں کو مسترد کردیا جائے گا۔

اس سے قبل امریکا نے ہواوے پر پابندیوں کے حکم نامے کی مدت میں مئی 2021 تک اضافہ کردیا تھا، جس کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے قومی سلامتی کے خطرات کو جواز بنایا۔

امریکا کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ہواوے کے چینی حکومت سے قریبی تعلقات ہیں اور یہ کمپنی اپنے آلات جاسوسی کے لیے استعمال کرسکتی ہے، جس کے بعد امریکا میں ہواوے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹیو آرڈر کے بعد بلیک لسٹ کردیا گیا۔

مگر اب تک مکمل پابندی کا اطلاق نہیں کیا گیا بلکہ ہر 3 ماہ بعد ایک عارضی لائسنس جاری کردیا جاتا ہے جس کے تحت کچھ امریکی کمپنیوں کو ہواوے کے ساتھ کام کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

ابھی بھی 13 اگست تک کے لیے ایسا عارضی لائسنس رواں ہفتے ہی جاری کیا گیا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ اس طرح کا آخری استثنیٰ ہوگا۔

سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن ، جو چپ بنانے والی کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے، کے صدر جان نیوفیر نے کہا کہ ان کے گروپ کو خدشات ہیں کہ اس نئی پابندی سے عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر سپلائی چین متاثر ہوگی اور غیریقینی صورتحال پیدا ہوگی۔

مگر امریکا کا نیا اقدام ہواوے کو مزید نقصان پہنچانے کا مقصد محسوس ہوتا ہے، جو اب بھی اسمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس کی چپس کی تیاری کے لیے کافی حد تک امریکی ساختہ مشینری اور سافٹ وئیر ڈیزائنز پر انحصار کرتی ہے۔

گزشتہ سال سے امریکی پابندیوں کے بعد سے ہواوے نے امریکی چپ کمپنیوں جیسے کواللکوم پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنے چپ یونٹ ہائی سیلیکون میں پروڈکشن کو بڑھا دیا تھا۔

مگر اس یونٹ کو اب بھی دیگر کمپنیوں پر انحصار کرنا ہوتا ہے جن میں شنگھائی کی سیمی کنڈکٹر تیار کرنے والی کمپنی ایس ایم آئی سی اور تائیوان کی ٹی ایس ایم سی شامل ہیں۔

ایسی بیشتر کمپنیوں کو اپنی ٹیکنالوجی کے لیے کسی حد تک امریکا پر انحصار کرنا ہوتا ہے اور اسی کو امریکی حکومت نے ہدف بنایا ہے۔

جمعے کو امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہواوے امریکی سافٹ وئیر اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر سابقہ پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنے سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کررہی ہے مگر اس کے لیے مصنوعات ایسی کمپنیوں سے خرید رہی ہے جو امریکی آلات استعمال کرتے ہیں۔

امریکی کامرس سیکرٹری ولبر روس نے کہا ‘یہ ہواوے پر پابنندیوں کے نفاذ کے حوالے سے بہت بڑا تیکنیکی جھول تھام مگر اب نئی پابندی سے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے’۔

اس اقدام سے ایس ایم آئی سی اور ٹی ایس ایم سی کے ہواوے سے معاہدے بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں جو امریکی ساختہ ٹولز پر بہت زیادہ انحصار کرنے والی کمپنیاں ہیں، جبکہ اس سے سیمی کنڈکٹر آلات تیار کرنے والی کمپنیاں جیسے اپلائید میٹریلز، کے ایم ایل اور لام ریسرچ پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، اس پابندی سے چپ ڈیزائن سافٹ وئیر کمپنیوں کا چینی کمپنی سے تعلق متاثر ہوگا۔

امریکی حکومت کا یہ اقدام اس وقت کیا گیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے چین نے مناسب اقدامات نہیں کیے اور عندیہ دیا جاتا ہے کہ امریکا کی جانب سے چینی حکومت کو اس معاملے پر سزا دی جائے گی۔

انہوں نے جنوری میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کو منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔

جمعے کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایونٹ کے دوران کہا ‘وہ وائرس چین سے آیا، اسے دنیا میں پھیلنے سے قبل چین میں ہی روکا جانا چاہیے تھا’۔

ہواوے پر نئی پابندیوں کے بعد چین ککی جانب سے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف اقدام کی توقع کی جارہی ہے جو چین میں فروخت پر انحصار کرتی ہیں جن میں کوالکوم اور ایپل قابل ذکر ہیں۔

چینی حکومت کے زیرتحت کام کرنے والے اخبار گلوبل ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ چینی حکومت ہواوے پر نئی پابندی کے بعد جوابی اقدامات کے لیے تیار ہے۔

گلوبل ٹائمز کے ایڈیٹر انچیف ہو شیاجن نے ایک ٹوئٹ میں کہا ‘جو کچھ میں جانتا ہوں، اس کے مطابق اگر امریکا کی جانب سے ہواوے کے لیے اہم ٹیکنالوجی سپلائی کو بلاک کیا گیا، تو چین کی جانب سے ‘ناقابل اعتبار اینٹیٹی فہرست’ کو متحرک کرکے امریکی کمپنیوں جیسے کوالکوم، ایپل اور دیگر پر پابندی یا تحقیقات کی جائے گی جبکہ بوئنگ کے طیاروں کی فروخت کو معطل کردیا جائے گا’۔

ہواوے نے اس نئی پیشرفت پر فی الحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

x

Check Also

کیا یہ دنیا کا سب سے پہلا ’’باقاعدہ جانور‘‘ تھا؟

پرتھ: عالمی ماہرین کی ایک ٹیم نے آسٹریلیا سے ایک ایسے جانور کے آثار دریافت ...

%d bloggers like this: