سری لنکا کیخلاف کلین سوئپ سے بچنے کا چیلنج

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹی20 میچ کل کھیلا جائے گا جہاں قومی ٹیم کو سیریز میں کلین سوئپ سے بچنے کا چیلنج درپیش ہے۔

دورہ پاکستان پر آئی سری لنکن ٹیم کئی اہم کھلاڑیوں کی خدمات سے محروم ہے کیونکہ سیکیورٹی خدشات کے سبب 10 سینئر کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا۔

ون ڈے سیریز میں اچھی کارکردگی کے باوجود مہمان ٹیم کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا لیکن اس ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم نے ہمت نہ ہاری اور ٹی20 سیریز میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے عالمی نمبر ایک پاکستان کو دونوں میچوں میں یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست دی۔

پہلے میچ میں پاکستانی ٹیم 101 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور دوسرے میچ میں 182 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ناکامی کی صورت میں قومی ٹیم 35 رنز سے شکست کے بعد سیریز 0-2 سے گنوا بیٹھی۔

سیریز گنوانے کے بعد قومی ٹیم کی تمام شعبوں میں ناکامی کوچ مصباح الحق کے لیے درد سر بن چکی ہے جہاں ٹیم میں تجربہ کار احمد شہزاد اور عمر اکمل کو ایک عرصے کے بعد طلب کیا گیا تھا لیکن دونوں بلے باز بدترین ناکامی سے دوچار ہوئے۔

عمر اکمل دونوں میچوں میں گولڈن ڈک کا شکار ہوئے جبکہ احمد شہزاد بھی متاثر کن کھیل پیش نہ کر سکے اور دونوں میچوں میں کُل 17 رنز بنا سکے۔

پیر کو شکست کے بعد مصباح نے عمر اکمل اور احمد شہزاد کی ناکامی کے حوالے سے سوال پر کہا کہ اگر یہ دونوں کارکردگی نہیں دکھا پا رہے تو میں کر سکتا ہوں؟ میں یقیناً جوابدہ ہوں لیکن ٹیم بنانے کے لیے کچھ تجربات کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں جب ہم کسی ٹیم کے خلاف کھیلتے ہیں تو چند میچوں میں ہمیں کھلاڑی کی صلاحیت جاننے میں وقت لگتا ہے، ایسے میں ہمیں کچھ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ہفتے کو پہلے ٹی20 میچ میں سری لنکا کے ہاتھوں قومی ٹیم کی شکست کے بعد سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا کہ نئی ٹیم مینجمنٹ کی زیر نگرانی پاکستان کے ٹی20 سیزن کا خراب طریقے سے آغاز ہوا، یہ تو ہونا ہی تھا، اگر آپ آزمائے ہوئے کھلاڑیوں کو دوبارہ منتخب کریں گے پھر آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں، انتہائی بری سلیکشن کی گئی۔

دوسرے میچ میں شکست کے بعد ہی رمیز راجہ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کارکردگی دوبارہ خطرناک حد تک خراب ہے۔

مصباح نے کہا کہ عمر اکمل اور احمد شہزاد نے گزشتہ سال ڈومیسٹک کرکٹ میں کافی رنز کیے جس کے بعد انہیں سری لنکا کے خلاف آزمانے کا فیصلہ کیا گیا، دونوں نے گزشتہ سال ہر موقع پر رنز اسکور کیے اور پاکستان سپر لیگ میں بھی ان کی کارکردگی ایسی تھی کہ انہیں ٹیم میں موقع دیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ڈومیسٹک ٹی20 میں ان دونوں سے زیادہ کسی نے بھی رنز اسکور نہیں کیے اور ظاہر ہے کہ جو کھلاڑی ڈومیسٹک میں کارکردگی دکھائیں، انہیں موقع ملنا ہی چاہیے، اسی وجہ سے ہم نے ان کا انتخاب کیا۔

جہاں ایک طرف پاکستانی بیٹنگ لائن دونوں میچوں میں مکمل ناکامی سے دوچار ہوئی وہیں اس کے برعکس سری لنکن ٹیم کے ناتجربہ کار بلے بازوں دھنشکا گونا تھیلاکا اور بھوکا راجاپکسے نے دونوں میچوں میں باترتیب سنچریاں اسکور کیں۔

پہلے میچ میں پاکستانی ٹیم فاسٹ باؤلرز کے خلاف جدوجہد کرتی نظر آئی اور دوسرے میچ میں لیگ اسپنر ونندو ہسارنگا ڈی سلوا نے ایک ہی اوور میں تین وکٹیں لے کر پاکستانی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی تھی۔

2017 اور 2018 میں قومی ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے 25ٹی20 جیتے اور اسے صرف چار میچوں میں شکست ہوئی لیکن 2019 میں اب تک پاکستانی ٹیم 6 میں سے پانچ میچ ہار چکی ہے اور اس شکست کے سبب پاکستان کو 10سال میں پہلی مرتبہ سری لنکا کے ہاتھوں ٹی20 سیریز میں شکست ہوئی۔

مصباح نے کہا کہ بابر اعظم اور فخر زمان ٹی20 میں پاکستانی ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کرتے تھے لیکن بابر کی ناکامیوں نے پاکستانی بیٹنگ لائن کی قلعی کھول دی۔

انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہماری ٹیم ٹی20 میں عالمی نمبر ایک ہے لیکن ہمارا تمام تر انحصار بابراعظم پر ہے اور دو میچوں میں ان ناکامی سے ہماری خامیاں سامنے آ گئیں۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر نے کہا کہ ہمیں چھ سے 7 میچ ونرز ڈھونڈنا ہوں گے، ہم ایسے بلے بازوں کی ضرورت ہے جن پر ٹیم انحصار کر سکے جبکہ ہمیں جارحانہ بلے بازوں کے ساتھ ساتھ ایسے باؤلرز کی بھی ضرورت ہے جو ہمیں اننگز کے آغاز اور اختتام میں وکٹیں لے کر دے سکیں۔

ابتدائی دو میچوں میں ناکامی کے بعد تیسرے ٹی20 میچ میں پاکستانی ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان ہے۔

x

Check Also

مکی آرتھر سری لنکن ٹیم کے ہیڈ کوچ؟

پاکستان ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو سری لنکن ٹیم کا ہیڈ کوچ ...

%d bloggers like this: