’عورت ہونے کے باوجود کم سن لڑکی کے طور پر پیش کیا گیا‘

شہرہ آفاق فنٹیسی ڈراما ’گیم آف تھرونز‘ کا اختتام یوں تو رواں برس مئی میں ہوچکا، تاہم اب بھی دنیا بھر کے مداح ڈرامے کے سحر میں ڈوبے ہوئے ہیں اور مداحوں نے ڈرامے کے سیکوئل بنانے کا بھی مطالبہ کردیا ہے۔

اگرچہ اس ڈرامے کے تمام سیزن کی تمام اقساط کو پسند کیا جاتا رہا اور یہ خیال بھی کیا جا رہا تھا کہ ڈرامے کے آخری یعنی آٹھویں سیزن کی آخری قسط بہت ہی منفرد ہوگی، تاہم آخری قسط پر بہت سارے مداح مایوس دکھائی دیے۔

مداحوں کی مایوسی اپنی جگہ لیکن ڈرامے کے ختم ہونے کے بعد اس کے اداکاروں نے اپنے تجربات پر کھل کر بات کرنا شروع کی تھی اور اسی سلسلے میں ڈرامے کے اہم ترین کردار ’آریا اسٹارک‘ کا کردار نبھانے والی برطانوی اداکارہ میسی ولیمز نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

22 سالہ اداکارہ میسی ولیمز نے ’گیم آف تھرونز‘ سے ہی اداکاری کی شروعات کی تھی اور ان کا کردار ڈرامے کے 2011 میں ریلیز ہونے والے پہلے سیزن سے لے کر آخری سیزن تک رہا۔

انہوں نے ڈرامے میں ’آریا اسٹارک‘ نامی ایک نوجوان لڑکی کا کردار ادا کیا تھا جو شاہی خاندان کے کم عمر ترین افراد میں سے ہوتی ہیں۔

ڈرامے میں وہ ریاست کے شاہی خاندان کی بیٹی ہوتی ہیں جن کے پورے خاندان کو مخالف ریاست کے لوگ مار دیتے ہیں اور وہ خاندان کی اکیلی رہ جانے والی بیٹی ہوتی ہیں۔

کم عمری میں خاندان کے قتل کیے جانے کے بعد آریا اسٹارک اپنی ریاست سے نکل کر جنگ لڑنے کی تربیت حاصل کرتی ہیں اور پھر کچھ عرصے میں وہ بہادر اور نڈر بن کر سامنے آتی ہیں اور اپنے مخالفین کو تلوار کے ایک ہی وار سے قتل کرنے لگتی ہیں۔

جس وقت میسی ولیمز نے اس کردار کو ادا کرنا شروع کیا تھا اس وقت ان کی عمر محض 14 برس تھی اور ان کا کردار بھی 14 سے 16 برس کی درمیانی عمر کا تھا۔

’عورت ہونے کے باوجود کم سن لڑکی کے طور پر پیش کیا گیا‘

’آریا اسٹارک‘ ایک ایسا کردار تھا جو ڈرامے کی تمام اقساط میں کم عمر دکھائی دیا اور اس کا حلیہ و لباس کسی لڑکی نہیں بلکہ لڑکے کی طرح ہوتا تھا۔

اداکارہ میسی ولیمز جب تک کم عمر تھیں تب تک تو وہ اسے آسانی سے نبھاتی آرہی تھیں لیکن وہ بڑھتی عمر اور اپنی جسمانی ساخت کی تبدیلی کے بعد اس کردار کو نبھانے میں مشکلات کا شکار نظر آئیں۔

انہوں نے اپنی مشکلات کا ذکر حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران کیا۔

’عورت ہونے کے باوجود کم سن لڑکی کے طور پر پیش کیا گیا‘

اداکارہ میسی ولیمز نے حال ہی میں فیشن میگزین ’ووگ‘ کو دیے گئے خصوصی ویڈیو انٹرویو میں ’گیم آف تھرونز‘ کی شوٹنگ کے دوران خود کو پیش آنے والے مسائل پر بات کرنے سمیت اپنی پیشہ ورانہ اور خصوصی طور پر فیشن کیریئر پر بات کی۔

اداکارہ کا یہ انٹرویو گزشتہ ہفتے 29 ستمبر سے 2 اکتوبر تک فرانس کے شہر پیرس میں ہونے والے فیشن ویک کے دوران شوٹ کیا گیا اور ویڈیو کے دوران انہیں فیشن ویک کی تیاریاں بھی کرتے دکھایا گیا۔

انٹرویو میں 22 سالہ اداکارہ نے فیشن و فلم انڈسٹری کے حوالے سے کھل کر بات کی اور اپنے تجربات بتائے۔

اداکارہ نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ جب انہوں نے گیم آف تھرونز میں اداکاری کرنا شروع کی تو وہ کم عمر تھیں تاہم وہ وقت کے ساتھ تیزی سے تبدیل ہوتی گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کم سن لڑکی سے خاتون میں بدل گئیں۔

میسی ولیمز کے مطابق گیمز آف تھرونز کے ابتدائی 2 سے تین سیزن میں انہیں ’آریا اسٹارک‘ کا کردار نبھانے میں تو پریشانی نہیں ہوئی تاہم جب ان کی جسمانی ساخت تبدیل ہوگئی تو انہیں مسئلہ ہوا۔

اداکارہ کے مطابق جب انہوں نے خود میں بہت ساری جسمانی تبدیلیاں محسوس کیں اور انہیں احساس ہونے لگا کہ اب وہ ایک لڑکی نہیں بلکہ ایک خاتون بن چکی ہیں تب بھی انہیں کردار کے لیے پہلے کی طرح کا لباس دیا گیا جس سے وہ کم عمر دکھائی دینے سمیت کسی لڑکے کے طرح نظر آتی تھیں۔

میسی ولیمز کے مطابق ڈرامے کی ٹیم نے لباس کی مدد سے ان کی بدلتی جسمانی ساخت کو ڈھانپ دیا تھا جس وجہ سے انہیں شرمندگی ہونے سمیت خود میں نسوانی کمی محسوس ہوتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے سینے پر خاص طرح کا ایک پٹا رکھا جاتا جس سے ان کی چھاتی چھپ جاتی اور وہ خود کو خاتون کے بجائے کم عمر بچی دکھلائے جانے پر نسوانی شرمندگی محسوس کرتی تھیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ جب سے ڈراما ختم ہوا ہے وہ خود کو نسوانی طور پر خوبصورت سمجھنے لگی ہیں اور ان کے لیے ایک نیا تجربہ ہے اور اب وہ خود کو ایک خاتون کے طور پر دیکھ کر پرسکون ہیں۔

میسی ولیمز کا کہنا تھا کہ وہ کئی سال تک گیم آف تھرونز کے کردار کی وجہ سے ایک مرد کی طرح دکھائی دیں تاہم اب وہ ایک خوبصورت خاتون کی طرح دکھائی دے رہی ہیں۔

خیال رہے کہ گیم آف تھرونز میں آریا اسٹارک کا کردار ادا کرنے پر انہیں ’ایمی ایوارڈز‘ سمیت دیگر ایوارڈز بھی ملے اور انہیں اسی کردار سے مقبولیت کے بعد دیگر فلموں و ڈراموں میں کرداروں کی پیش کش ہوئی۔

میسی ولیمز اب تک نصف درجن تک فلموں میں کام کر چکی ہیں جب کہ وہ نصف درجن سے زائد ڈراموں میں اداکاری دکھانے سمیت تھیٹر میں بھی اپنے فن کا مظاہر کر چکی ہیں۔

x

Check Also

کم عمری میں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا

حال ہی میں ریلیز ہونے والی ہولی وڈ تھرلر فلم ’بلیک اینڈ بلیو‘ میں پولیس ...

%d bloggers like this: