ہولی وڈ اداکار پر کم عمر خاتون کو ’آفس وائف‘بنانے کا الزام

آسکر ایوارڈ یافتہ اٹالین نژاد امریکی اداکار 67 سالہ رابرٹ ڈی نیرو پر ان کی کم عمر اسسٹنٹ نے ’آفس وائف‘ کے طور پر رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا۔

رابرٹ ڈی نیرو پر ان کی 37 سالہ سابق ایگزیکٹو اسسٹنٹ چیس رابنسن نے امریکی شہر نیویارک کے علاقے منہٹن میں واقع سپریم کورٹ میں ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔

خاتون نے اپنے سابق باس کے خلاف ایک ایسے وقت میں ہرجانے کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے ان پر کئی سال تک جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا ہے جب کہ کچھ ہفتے قبل ہی خاتون پر سابق باس کی کمپنی نے چوری کا کیس دائر کیا تھا۔

چیس رابنسن گزشتہ کئی سال سے رابرٹ ڈی نیرو کی اسسٹنٹ کے طور پر خدمات سر انجام دے رہی تھیں تاہم ڈیڑھ ماہ قبل ہی انہوں نے رابرٹ ڈی نیرو سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

ان کی جانب سے علیحدگی کا اعلان سامنے آتےہی رابرٹ ڈی نیرو کی کمپنی نے چیس رابنسن پر 60 لاکھ ڈالر چوری کرنے کا مقدمہ دائر کروایا تھا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق سابق باس کی نوکری چھوڑے جانے اور ان کی کمپنی کی جانب سے اپنے خلاف چوری کا مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد چیس رابنسن نے بھی رابرٹ ڈی نیرو کے خلاف جنسی ہراساں کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا۔

رابرٹ ڈی نیرو کی فلم جوکر حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے—اسکرین شاٹ
رابرٹ ڈی نیرو کی فلم جوکر حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے—اسکرین شاٹ

چیس رابنسن کی جانب سے رابرٹ ڈی نیرو کے خلاف جمع کرائی گئی درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ عمر رسیدہ اداکار و فلم پروڈیوسر نے انہیں کئی سال تک جنسی تفریق کا نشانہ بنایا اور انہیں ’آفس وائف‘ کے طور پر رکھا۔

چیس رابنسن نے دعویٰ کیا کہ رابرٹ ڈی نیرو انہیں نیند سے اٹھانے اور کپڑے پہننے میں مدد کرنے سمیت دیگر کام کرنے کو کہتے رہے اور ان سے دفتر میں ایسی خدمات لی جاتی رہیں جو گھر میں اہلیہ سے لی جاتی ہیں۔

چیس رابنسن نے اپنی درخواست میں رابرٹ ڈی نیرو پر نامناسب الفاظ استعمال کرنے اور فحش مذاق بھی کرتے رہے، یہاں تک وہ اپنی جنسی طاقت بڑھانے کی دوائی سے متعلق بھی ان سے نامناسب مذاق کرتے تھے۔

خاتون نے اپنے سابق باس کے خلاف ایک کروڑ 20 لاکھ ہرجانے کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے ان کی کمپنی کی جانب سے چوری کے الزامات کو بھی مسترد کردیا۔

چیس رابنسن کے مطابق ان پر رابرٹ ڈی نیرو کی کمپنی نے چوری کا مقدمہ اس وقت دائر کیا جب انہوں نے وہاں سے نوکری چھوڑی۔

خاتون نے اداکار پر جنسی تفریق جیسے الزامات بھی لگائے—اسکرین شاٹ/یوٹیوب
خاتون نے اداکار پر جنسی تفریق جیسے الزامات بھی لگائے—اسکرین شاٹ/یوٹیوب

رابرٹ ڈی نیرو کی کمپنی کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں چیس رابنسن پر کمپنی کے بینک اکاؤنٹس سے چوری کرنے اور صارفین کو دھوکے دینے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

رابرٹ ڈی نیرو نے شاندار اداکاری کے باعث 2 بار آسکر ایوارڈ حاصل کرنے سمیت دیگر اعلیٰ فلمی ایوارڈز بھی جیت رکھے ہیں۔

انہوں نے نہ صرف 5 درجن سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے بلکہ انہوں نے متعدد فلموں کو پروڈیوس بھی کیا اور بعض فلموں کی ہدایات بھی دیں۔

رابرٹ ڈی نیرو نے تھیٹر، ڈاکیومینٹری اور ٹی وی سیریلز میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے اور انہیں ایک اچھا اداکار مانا جاتا ہے۔

ان کی مشہور فلموں میں ’مین اسٹریٹ، دی گاڈ فادر پارٹ ٹو، ٹیکسی ڈرائیور، دی ڈیر ہنٹر، ریگنگ بل، ونس اپان ٹائم ان امریکا، برازیل، دی مشن، اویکنگس، مسٹریس، ون ہنڈریڈ اینڈ ون نائٹس، ڈرٹی گرانڈ پا اور جوکر‘سمیت دیگر شامل ہیں۔

رابرٹ ڈی نیرو اداکارہ اینی ہیتھوے سمیت خود سے کئی برس کم عمر اداکاراؤں کے ساتھ کام کر چکے ہیں—فوٹو: ریکس
رابرٹ ڈی نیرو اداکارہ اینی ہیتھوے سمیت خود سے کئی برس کم عمر اداکاراؤں کے ساتھ کام کر چکے ہیں—فوٹو: ریکس
x

Check Also

’کشف‘ میں جنید خان کے مدِ مقابل حرا مانی

’کشف‘ میں جنید خان کے مدِ مقابل حرا مانی

ایک کے بعد ایک مقبول ترین ڈراموں میں اپنی بہترین فنکارانہ صلاحیتوں کا جوہر دکھانے ...

%d bloggers like this: