اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن نے بھارت سے کوئی مطالبہ نہیں کیا

اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن نے بھارت سے کوئی مطالبہ نہیں کیا

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا  کہ  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارت سے 5 مطالبات کردیے۔انہوں نے کہا کہ یہ  پاکستان اور کشمیریوں کیلئے منفرد دن ہے، انسانی حقوق کونسل کے سامنے پاکستان اور کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا اور ہمیں مشترکہ بیان دینے میں کامیابی ہوئی ہے۔ مشترکہ بیان میں 58 ملکوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر 5 مطالبات کا ذکر کیا اور مشترکہ بیان میں بھارت سے کہا گیا کہ وہ کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے۔
ادھر بھارت  مندوب کا کہنا ہے  کہ پاکستانی  وزیر خارجہ جھوٹا پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اگر کوئی مطالبہ ہوتا تو یو این ایچ سی آر کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری کرتی۔ اب تک کوئی بھی پریس ریلیز جاری نہیں ہوئی، مسئلہ کشمیر پر بات ہوئی ہے لیکن کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔ بھارت نےتمام معاملات کا بھرپور جواب دیا ہے۔ تمام مندوبین نے انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کی بات ضرور کی لیکن کوئی مطالبہ نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے پریس ریلیز بھی پاکستان سے ہی ایشو کرائی کیونکہ اگر جنیوا سے پریس ریلیز ایشو ہوتی تو پاکستان پر قدغن لگ سکتی تھی۔  پاکستانی وزیر خارجہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان کی سینیگال اور اک دکا مندوب کے علاوہ کسی مندوب سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔
،انسانی حقوق کونسل کی صدارت سینیگال کےپاس  ہے۔ اس وجہ سے پاکستان میں اس ملاقات کو خاصی اہمیت دی گئی ۔ بھارتی مندوب کے مطابق  انہوں نے اجلاس سے قبل ہی 47 ممالک سے ملاقات کر لی تھی، جبکہ پاکستان کی جانب سے 5 ممالک سے ملاقات کی گئی، بیشتر مندوب ان سے ملاقات کے لئے تیار بھی نہیں تھے۔ ایسے میں کوئی پریس ریلیز جاری ہونا دور کی بات ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کو ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے اپنی سیاست کے لئے اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کو بدنام کیا۔
شاہ محمود قریشی نے اسے عالمی طور پر بڑی کامیابی قرار دیا۔ تاہم بھارتی مندوب کی بات اس حد تک درست لگ رہی ہے کہ اب تک یو این ایچ سی آر نے کوئی  پریس ریلیز جاری نہیں ہوئی۔

x

Check Also

روسی صدر کی آئین میں ترامیم کی تجویز، وزیر اعظم اور کابینہ مستعفی

روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی جانب سے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ...

%d bloggers like this: