(FILES) In this file photo taken on March 31, 2019 Turkish ruling Justice and Development Party (AKP) Istanbul mayoral defeated candidate Binali Yildirim speaks to media members as he arrives to the headquarters of the AKP in Istanbul. - Since the re-run was called for June 23 Binali Yildirim, a former prime minister and loyal lieutenant to Turkish President Recep Tayyip Erdogan since the 1990s, has been a visible presence, attending rallies and television shows, and even visiting a major Kurdish city in a bid to reach out to the Kurdish community, which in Istanbul numbers in the millions. (Photo by OZAN KOSE / AFP)

ترکی: صدر ایردوان کی جماعت کو دوبارہ شکست

ترکی کے شہر استبنول کے میئر کے لیے دوسری مرتبہ منعقدہ متنازع انتخاب میں صدر رجب طیب اردوان کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ (اے کے) پارٹی کے امیدوار بن علی یلدرم کو حزب مخالف کے مشترکہ امیدوار اکریم امام اوغلو نے واضح مارجن سے شکست دے دی۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی نتائج میں بن علی یلدرم کو شکست ہوئی ہے اور ان کے مخالف امیدوار اکریم امام اوغلو نے موصول ہونے والے 95 فیصد نتائج کے مطابق 53 اعشاریہ 69 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

بن علی یلدرم کا کہنا تھا کہ ‘نتائج کے مطابق میرے حریف امام اوغلو کو برتری حاصل ہے، میں انہیں مبارک باد دیتا ہوں اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں’۔

ٹی آر ٹی کے مطابق اکریم امام اوغلو نے 46 لاکھ 98 ہزار 782 ووٹ حاصل کیے جو 54 اعشاریہ تین فیصد بنتے ہیں جبکہ بن علی یلدرم نے 39 لاکھ 21 ہزار 201 ووٹ حاصل کیے جو 45 اعشاریہ 9 فیصد ہیں۔

یاد رہے کہ 31 مارچ کو ہونے والے میئر کے انتخاب میں اپوزیشن ریپبلکن پیپلز پارٹی کے اکریم امام اوغلو نے بہت قریبی مارجن سے حکمراں جماعت کے امیدوار، سابق وزیراعظم بن علی یلدرم کو شکست دی تھی، جس کے بعد انتخابات میں سامنے آنے والے بے ضابطگیوں نے انتخابی نتائج کو غیر قانونی بنادیا۔

ترکی کے الیکشن حکام نے 7 مئی کو صدر طیب اردوان کی جماعت کی جانب سے دائر درخواست کو منظور کرتے ہوئے اکریم امام اوغلو کی کامیابی کو کالعدم قرار دیا تھا اور استنبول کے میئر کا انتخاب دوبارہ کروانے کا حکم دے دیا تھا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے سپریم الیکٹورل بورڈ کی جانب سے استنبول کے نتائج کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر طیب اردوان کی طاقت اور ترک جمہوریت پر گرفت کے حوالے سے خدشات پیدا کردیے ہیں۔

دوسری جانب صدر طیب اردوان کے معاون اعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا تھا ترکی کے سب سے بڑے شہر کے میئر کا انتخاب کالعدم قرار دینا ’ترک جمہوریت کی فتح‘ ہے۔

ترکی میں 31 مارچ کو مقامی انتخابات ہوئے تھے جس میں صدر طیب اردوان کی جماعت کو نہ صرف استنبول بلکہ انقرہ کے سٹی ہال میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یوں 25 سال بعد جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگا تھا۔

استنبول میں دوبارہ شکست کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ انتخابات میں دوبارہ ناکامی سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور اپوزیشن کے سامنے انہیں سبکی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کامیابی کی صورت میں انہیں اپوزیشن کی جانب سے ہمیشہ انتخابات چوری کرنے کا الزام دیا جاتا۔

x

Check Also

طالبان قیدیوں کا غیر ملکی پروفیسرز کے ساتھ تبادلہ مؤخر

افغان حکومت کے عہدیدار نے بتایا ہے کہ 2 مغربی مغویوں کا 3 طالبان قیدیوں ...

%d bloggers like this: