تھری ڈی پرنٹر سے چھاپا گیا گوشت، جو سبزیوں سے بنا ہے

میڈرڈ: اسپین کی اسٹارٹ اپ کمپنی ’’نووا میٹ‘‘ نے ’’اسٹیک 2.0‘‘ کے نام سے مصنوعی گوشت پیش کیا ہے جو سبزیوں سے تیار کیا گیا ہے لیکن ذائقے میں بالکل اصلی گوشت جیسا ہے جبکہ تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے اسے گوشت کے پارچوں کی شکل میں ’’چھاپا‘‘ گیا ہے۔

ترقی یافتہ مغربی ممالک میں سبزیجاتی (ویجیٹیبل) اجزاء پر مشتمل مصنوعی گوشت آج کل خاصا مقبول ہورہا ہے اور مختلف کمپنیاں اس میدان میں کام کررہی ہیں۔ نووا میٹ بھی اسی دوڑ میں شریک ہے۔

یہی کمپنی 2018 میں بھی سبزیجاتی اجزاء سے تیار کردہ مصنوعی گوشت پیش کرچکی ہے جسے مزید بہتر اور اصل گوشت سے قریب تر بنانے کےلیے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی بھی استعمال کی گئی ہے۔

نووا میٹ کے بانی اور روحِ رواں ڈاکٹر گیوسپ اسکیونتی کہتے ہیں تھری ڈی پرنٹر سے منسلک کمپیوٹر میں پہلے ہی گوشت کے پارچوں کی درجنوں مختلف سہ جہتی ساختیں (تھری ڈی اسٹرکچرز) محفوظ کردی گئی ہیں جن کے مطابق ’’اسٹیک 2.0‘‘ چھاپا جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی کمپنی اس سال کے اختتام تک ’’اسٹیک 2.0‘‘ کو فروخت کےلیے پیش کردے گی جبکہ آئندہ سال سے یہ مصنوعی گوشت تیار کرنے والے تھری ڈی پرنٹروں کی تجارتی پیمانے پر تنصیب بھی شروع کردی جائے گی۔

پرنٹر سے گوشت کا ایک پارچہ 20 منٹ میں چھپ کر تیار ہوجاتا ہے جسے حقیقی گوشت کی طرح پکایا جاتا ہے۔ امید ہے کہ جب تھری ڈی پرنٹرز کی اگلی نسل دستیاب ہوگی تو ان سے صرف ایک گھنٹے میں 10 کلوگرام تک مصنوعی گوشت ’’چھاپا‘‘ جاسکے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گوشت کی ترکیب میں معمولی سی تبدیلی کرکے اس کا ذائقہ گائے، بھیڑ، بکری، مرغی اور مچھلی وغیرہ کے گوشت جیسا بھی بنایا جاسکے گا۔

x

Check Also

103 سال کی عمر میں شادی، دنیا کا معمر ترین دلہا کا ریکارڈ قائم

عمان: اردن کے عارف عطیہ الجدایہ نے 103 سال کی عمر میں شادی کر کے ...

%d bloggers like this: