نیویارک میں کورونا وائرس کے 105 کیسز، ایمرجنسی نافذ

امریکی ریاست نیو یارک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 105 ہوگئی ہے اور حکام نے ایمرجنسی ڈیکلیئر کردی ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نیویارک امریکی پہلی ریاست ہے جہاں کورونا وائرس کے اتنے متاثرین سامنے آئے ہیں اور صحت کے حوالے سے ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا ہے۔

نیویارک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان پہلے سرکاری ملازم کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کردیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں نیویارک کے گورنر اینڈیو کیومو کا کہنا تھا کہ ‘کورونا وائرس کے پیش نظر میں نیویارک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرتا ہوں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے شہریوں کو حالات سے آگاہ کرتے رہیں گے’۔

نیویارک کے گورنر نے کہا کہ اتوار کو ٹیسٹ کے بعد متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا اور تعداد 105 ہوگئی ہے جو اس سے پہلے 89 تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ نیویارک سٹی کے مضافات میں ویسٹ چیسڑ کاؤنٹی میں 82 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں 273 کیسز
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک روز میں سب سے زیادہ کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد مجموعی متاثرین تعداد 273 ہوگئی ہے۔

صحت اور سوشل کیئر کے محکمے کی جانب سے ٹوئٹر پر برطانیہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کی تصدیق کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک روز قبل تک متاثرین کی تعداد 209 تھی اور اب یک دم بڑھ کر 273 ہوگئی ہے جو ایک دن میں سب سے زیادہ ہے۔

حکومت کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں اب تک 23 ہزار 500 سے زائد افراد کے ٹیست کیے جاچکے ہیں اور اب تک ہلاکتوں کی تعداد 2 ہے۔

اٹلی میں 366 افراد ہلاک
ادھر اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بھی 366 ہوگئی ہے اور حکومت نے 2 کروڑ 20 لاکھ سرجیکل ماسک کا آرڈر دے دیا تاکہ وائرس سے شہریوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

حکومت نے شمالی علاقوں میں تمام اداروں کو بند کردیا جہاں لومبارڈی کے علاقے میں سب سے زیادہ 133 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ چین سے پھیلنے والے کورونا وائرس سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 592 ہوچکی ہے اور 95 ممالک تک پھیلے اس وائرس کے 59 ہزار 922 متاثرین صحت یاب بھی ہوئے ہیں جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

کورونا وائرس ہے کیا؟
کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے جو مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔

x

Check Also

فیس بک نے مقبول ترین گف سروس گفی کو خرید لیا

فیس بک نے مقبول ترین گف سروس گفی کو خرید لیا

فیس بک نے دنیا کی مقبول ترین انیمیٹڈ تصاویر شیئر کرنے والی سروس گفی کو ...

%d bloggers like this: