Members of the Taliban delegation gather ahead of the signing ceremony with the United States in the Qatari capital Doha, on February 29, 2020. - Washington and the Taliban are set to sign a landmark deal in Doha that would see them agree to the withdrawal of thousands of US troops from Afghanistan in return for insurgent guarantees. (Photo by Giuseppe CACACE / AFP)

ممکن ہے کہ طالبان دوحہ معاہدے کی پاسداری نہ کریں، امریکی انٹیلی جنس

واشنگٹن: امریکی حکومت کو خفیہ اطلاعات ملی ہیں کہ طالبان امریکا کے ساتھ حال ہی میں کیے گئے معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق این بی سی نیوز کی رپورٹ میں 3 امریکی حکام کے انٹریو شامل کیا گیا جنہیں ٹرمپ انتظامیہ کو 29 فروری کو دوحہ میں طالبان سے ہونے والے معاہدے کے بعد ملنے والی خفیہ رپورٹس پر بریفنگ دی گئی تھی۔

ایک حکام کا کہنا تھا کہ ‘ان کا معاہدے کی پاسداری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے’ جبکہ دیگر دو نے خفیہ معلومات کے حوالے سے بتایا کہ ‘یہ انتہائی برے شواہد تھے جو طالبان کے ارادوں پر روشنی ڈالتے ہیں’۔

دوحہ معاہدے میں طالبان نے دہشت گردوں کو پناہ گاہ نہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کا کہنا تھا کہ جس کے بدلے میں امریکا نے 14 ماہ کے اندر افغانستان سے اپنی تمام فوج کو واپس بلانے کا وعدہ کیا تھا۔

انٹیلی جنس کی معلومات رکھنے والے ایک افسر نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ ‘ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی طرف کے معاہدے کی پاسداری کریں گے تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے اصل ارادے جانتے ہیں’۔

سابق امریکی حکام نے بتایا کہ انتظامیہ ویتنام کی طرح سے افغانستان جنگ کے خاتمے کے خدشات جانتی ہے جس میں طالبان معاہدہ توڑ دیں گے اور ملک پر قبضہ کرلیں گے تاہم کوئی بھی اس بارے میں بات نہیں کر رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس امکان کا علم رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ممالک کو اپنا خیال خود رکھنا ہوتا ہے، آپ صرف کسی شخص کا ہاتھ ہی تھام سکتے ہیں’۔

کیا طالبان اقتدار میں آجائیں گے؟ سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ ‘اس میں ممکنات کا دخل نہیں بلکہ ایسا ہوگا’۔

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو جو دوحہ میں معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک تھے کا کہنا تھا کہ ابھی کوئی فیصلہ سنانا قبل از وقت ہوگا۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے دیکھا ہے کہ طالبان کی سینیئر قیادت تشدد کو کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور ہمیں اب بھی اعتماد ہے کہ طالبان کی قیادت اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے’۔

اس معاہدے کے تححت بین الافغان مذاکرات کی بحالی اور دونوں جانب سے ہزاروں قیدیوں کی رہائی ضروری ہے تاہم افغان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

این بی سی نیوز سے گفتگو کرنے والے دو دفاعی حکام کے مطابق حالیہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق طالبان افغان فورسز پر حملے جاری رکھیں گے تاکہ حکومت کو قیدیوں کے تبادلے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔

دیگر دفاعی و انٹیلی جنس حکام کا کہنا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ امریکی صدر افغانستان سے امریکی افواج بلانے کے لیے پرعزم ہیں بھلے اس انخلا کے بعد طالبان جو بھی کریں۔

سابق سی آئی اے حکام ڈوگ لندن کا کہنا تھا کہ ‘زلمے خلیل زاد ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں کوور دینے کی کوشش کر رہے ہیں’۔

این بی سی نیوز کی رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ٹوئٹ کیا کہ ‘ہم امریکی انٹیلی جنس حکام کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں کہ طالبان کا معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا ارادہ ہے، نفاذ کا عمل اب تک بہترین جارہا ہے اور امریکی حکام کی جانب سے اس طرح کی رائے منصفانہ نہیں’۔

واضح رہے کہ افغانستان میں گزشتہ تقریبا 2 صدی سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں، چار صفحات پر مشتمل افغان امن معاہدہ 4 مرکزی حصوں پر مشتمل ہے۔

1- طالبان افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم، گروہ یا انفرادی شخص کو استعمال کرنے نہیں دیں گے جس سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کو خطرہ ہوگا۔

2- افغانستان سے امریکی اور اس کے اتحادی فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائے گا۔

3- طالبان 10مارچ 2020 سے انٹرا افغان مذاکرات کا عمل شروع کریں گے۔

4 – انٹرا افغان مذاکرات کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں پینٹاگون نے خبردار کیا تھا کہ اگر طالبان انٹرا افغان مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار نہیں کریں تو معاہدہ منسوخ کردیا جائے گا۔

دوسری جانب معاہدے کے فوراً بعد ہی طالبان قیدیوں کا معاملہ تنازع اختیار کرگیا تھا۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب افغان صدر اشرف غنی نے امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے میں شامل 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق شق کو مسترد کردیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ امریکا اور طالبان، اعتماد کی فضا کو قائم کرنے کے لیے فوری طور پر سیاسی اور جنگی قیدیوں کو رہا کریں گے، جس کے لیے تمام متعلقہ فریقین سے رابطہ کیا جائے گا اور ان سے اجازت لی جائے گی۔

x

Check Also

فیس بک نے مقبول ترین گف سروس گفی کو خرید لیا

فیس بک نے مقبول ترین گف سروس گفی کو خرید لیا

فیس بک نے دنیا کی مقبول ترین انیمیٹڈ تصاویر شیئر کرنے والی سروس گفی کو ...

%d bloggers like this: