امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مواخذے کی کارروائی سے بچ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مواخذے کی کارروائی سے بچ گئے

سینیٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مواخذے کے الزامات سے بری کر دیا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے 2 آرٹیکلز ٹرائل کے لیے ایوان نمائندگان بھجوائے گئے، وہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے الزامات کی دو قراردادوں کی منظوری دی گئی ہے جس کے بعد یہ معاملہ سینیٹ میں گیا۔

سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کارروائی کا آغاز 21 جنوری سے ہوا جہاں مسلسل دو ہفتے کی کارروائی کے بعد سینیٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مواخذے کے ٹرائل سے کلیئر کر دیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق 100 اراکین پر مشتمل سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے خلاف طاقت کے غلط استعمال کے آرٹیکل کی مخالفت میں 52 اور حمایت میں 48 ووٹ آئے۔

جب کہ کانگریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام کی مخالفت میں 53 ووٹ اور حمایت میں 47 ووٹ آئے۔

طاقت کے غلط استعمال کے آرٹیکل سے متعلق ووٹنگ میں ری پبلکن سینیٹر مٹ رومنی  نے بھی ٹرمپ کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مکمل طور پر الزامات سے بری کر دیا گیا ہے جب کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ امریکی جمہوریت کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے خودکو ہمیشہ کے لیے صدر قرار دیا گیا ٹائم میگزین کا جھوٹا سرورق ٹوئٹ کیا اور مواخذے کی افواہ پر ملک کی فتح سے متعلق بیان وائٹ ہاؤس سے جاری کرنے کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹا کر گھر بھیجنے کے لیے 100 ارکان پر مشتمل ایوان میں دو تہائی اکثریت درکار تھی مگر سینیٹ میں ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہونے کی وجہ سے  انہیں 53 ووٹ حاصل ہوئے۔

x

Check Also

سب سے پہلے کورونا وائرس سے آگاہ کرنے والا ڈاکٹر بھی جان کی بازی ہار گیا

سب سے پہلے کورونا وائرس سے آگاہ کرنے والا ڈاکٹر بھی جان کی بازی ہار گیا

چین میں سب سے پہلے کورونا وائرس کے خطرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کرنے ...

%d bloggers like this: