Women hold placards as they take part in a demonstration to protest against India's new citizenship law at Mansoor Ali Park in Allahabad on January 14, 2020. (Photo by SANJAY KANOJIA / AFP)

بھارت: شہریت قانون کے خلاف مظاہروں میں کنہیا کمار کے ترانے کی گونج

بھارت کی ایک معروف یونیورسٹی میں اسٹیج پر کھڑے سیاستدان نے اپنے حامیوں کو دیکھا اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک سخت چیلنج پیش کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کے بائیں بازو کے سیاست دان کنہیا کمار نے شام کے وقت سرد ہواؤں میں اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے کہا کہ ‘بھارت کا نظریہ خطرے میں آگیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم رکیں گے نہیں، حکومت کو اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے دو، انہیں پولیس لانے دو، ہم اٹھایں گے انہیں غلط ثابت کرنے کے لیے، سن لو مودی’۔

ان کے ہر ایک جملے کے بعد عوام نے ‘آزادی’ کا نعرہ لگایا جبکہ وہ بات کرتے ہوئے مسلسل ہوا میں اپنا ہاتھ اٹھاتے رہے اور گردن میں پہنے لال رومال کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے رہے۔

33 سالہ بہاری سیاست دان حالیہ ہفتوں میں سامنے آئے ہیں اور مودی کے لیے سیاسی طور پر ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

خیال رہے کہ ہندو قوم پرست نریندر مودی کو گزشتہ سال دسمبر میں شہریت قانون لانے کے بعد سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون بھارت کے مسلمان اقلیتوں اور ملک کے سیکولر نظریے کے خلاف ہے۔

یونیورسٹیوں میں ہونے والے احتجاج میں کوئی بھی ایک رہنما نہیں تھا اور طالب علموں کا کہنا تھا کہ یہ ہانگ کانگ میں ہونے والے حکومت مخالف احتجاج سے متاثر ہے۔

تاہم کنہیا کمار کی ‘آزادی’ کے ترانے کی ریکارڈنگ تمام مظاہروں میں چلائی جاتی ہے جبکہ مظاہرین ساتھ ساتھ اس کے بول بھی پڑھتے ہیں۔

نریندر مودی نے بھارت میں یکے بعد دیگر انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی ہے اور کنہیا کمار کی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کا قومی سطح پر بی جے پی سے کوئی مقابلہ نہیں۔

تاہم وزیر اعظم کے قریبی ساتھی کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس کے نمایاں ہونے پر تشویش ہے اور ان کے پیغامات نریندر مودی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور انہیں سیاسی طور پر کمزور بنا سکتے ہیں۔

کنہیا کمار کا پیغام ان الزامات پر ہے جن پر نریندر مودی ناکام ہوئے، جن میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور لاکھوں بھارتی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہے جبکہ نریندر مودی کی ہندو انتہا پسندانہ پالیسیز، جن سے ملک کی سیکولر شناخت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اقلیتوں کی زندگی مشکل ہورہی ہے، پر بھی تنقید کیا گیا ہے۔

رائٹرز سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران ان کی پالیسیز کے حوالے سے سوال کے جواب میں کنہیا کمار نے ‘سیاسی وعدے’ کرنے سے منع کیا اور کہا کہ آئین کو سب سے اوپر ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا ہدف صرف اس حکومت کا احتساب کرنا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نریندر مودی نے مذہب کو اپنے عیب چھپانے کے لیے استعمال کیا ہے اور وہ روزگار پیدا کرنے میں ناکام ہوگیا ہے، میں نہیں چاہتا کہ یہ کوئی بھی بھولے’۔

اپوزیشن کی حمایت

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کنہیا کمار کے سامنے آنے سے نریندر مودی کو فوری خطرہ نہیں، یہ اپوزیشن جماعتوں کی بحالی کے لیے ایک بنیاد فراہم کرسکتا ہے جسے وزیر اعظم کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پریشان کیا تھا۔

متعدد سیاسی جماعتوں جن میں اپوزیشن کی کانگریس پارٹی شامل ہے، نے کنہیا کمار کو اپنی جانب لانے کی کوشش کی ہے تاہم انہوں نے اب تک کسی سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔

دہلی کے خودمختار تحقیقی ادارے سینٹر فور اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز کے ڈائریکٹر سنجے کمار کا کہنا ہے کہ ‘ان کی موجودگی آئندہ انتخابات میں اپوزیشن کے اکٹھا ہونے اور نریندر مودی کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کے امکانات کو بڑھاتی ہے’۔

نئے قانون کے حمایتیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپ کا میدان بننے والی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں 7 جنوری کو کنہیا کمار کے خطاب نے کئی حامیوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی تاہم ان کے الفاظ یونیورسٹی کے دروازوں سے باہر بھی گونج رہے ہیں۔

کنہیا کمار کی تقریر ان کے حمایتی بار بار سن رہے ہیں، ان کے یو ٹیوب پر 20 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز ہیں جبکہ ٹوئٹر پر 10 لاکھ لوگ انہیں فالو کرتے ہیں اور ان کے مودی مخالف نعرے پورے ملک میں جاری مظاہروں میں سنے جارہے ہیں۔

جہاں وہ کئی سالوں سے نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں، حال ہی میں ہونے والے مظاہروں میں انہیں مزید توجہ ملی ہے۔

سنجے کمار کا کہنا تھا کہ ‘کنہیا کمار الگ ہیں اور وہ ہر کسی کو سوچنے اور سوالات کرنے پر مجبور کرتے ہیں، انہوں نے اپوزیشن کی غیر موجودگی کی خلا کو پر کردیا ہے’۔

مودی اور کنہیا کمار میں مماثلت

جہاں کنہیا کمار اور 69 سالہ نریندر مودی کی عمر میں 4 دہائیوں کا فرق ہے وہیں دونوں میں کئی مماثلتیں بھی موجود ہیں۔

نریندر مودی ایک سڑک کنارے چائے کا ڈھابہ چلانے والے کے بیٹے ہیں تو کنہیا کمار کے والد ایک کسان تھے اور ان کی والدہ دیہی علاقوں میں چائلڈ کیئر سینٹر میں کام کیا کرتی تھیں۔

کنہیا کمار اسکول میں نمایاں نمبر لیا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کا پٹنہ کی یونیورسٹی میں داخلہ ہوا جہاں انہوں نے جغرافیہ کی تعلیم حاصل کی اور طالب علموں کی سیاست میں شمولیت اختیار کی۔

بعد ازاں وہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں داخلہ لیا اور پی ایچ ڈی کیا جبکہ وہ وہاں اسٹوڈنٹس کونسل کے صدر بھی بنے۔

جے این یو ہی میں وہ قومی سطح پر ابھر کر سامنے آئے۔

2016 میں انہیں یونیورسٹی کے اندر ریلی کے دوران سے بھارت مخالف نعرے بازی کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

رائٹرز سے انٹرویو میں کنہیا کمار نے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ نریندر مودی کی حکومت افواہیں پھیلا رہی ہے، عدالت نے اب تک سماعت کا آغاز تک نہیں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میری سوچ اور نریندر مودی کی پالیسیوں پر سوالات کرنے کی صلاحیت نے حکومت کو 2016 سے خوفزدہ کر رکھا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اب میں اکیلا نہیں ہوں، مزید اور مزید لوگ ہماری تحریک کا حصہ بن رہے ہیں’۔

کنہیا کمار نے بہار سے پارلیمنٹ کی سیٹ کے لیے 2019 میں انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا تاہم انہیں بی جے پی کے امیدوار کے مقابلے میں شکست ہوئی تھی۔

اس وقت سے وہ پورے بھارت کا سفر کر رہے ہیں تاکہ اپنے سیاسی نظریات پھیلا سکیں اور اپنے پیروکاروں کو یکجا کرسکیں۔

نریندر مودی کے ساتھی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘کنہیا کمار کی نوجوان اور پہلی مرتبہ ووٹ کرنے والے افراد سے اپیل نے مودی کو پریشان کردیا ہے اور ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کنہیا کمار کی نجی زندگی اور ان کی فنڈنگ پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید وضاحت نہیں دی۔

وزیر اعظم کے دفتر اور وزارت داخلہ نے کنہیا کمار کے حوالے سے رائے کے لیے متعدد مرتبہ درخواستیں دیے جانے کے باوجود جواب نہیں دیا۔

سیکولرازم کی حمایت

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج نے دسمبر کے مہینے سے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، کم از کم 25 افراد مظاہروں کے درمیان ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں مظاہرین گرفتار ہوچکے ہیں۔

نئے قانون سے افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آئے افراد کو بھارتی شہریت ملنے میں معاونت ملے گی تاہم اگر وہ مسلمان نہ ہوں تو۔

کنہیا کمار کا کہنا تھا کہ مظاہرے بھارت کی سیکولر شناخت کے تحفظ کی مہم کا حصہ ہیں جس کا ہمارا آئین ضمانت دیتا ہے۔

ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ نریندر مودی کے ہندو توا کے ایجنڈے سے غیر مطمئن ہیں جو ان کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد سے بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں بھارتی سپریم کورٹ نے 16ویں صدی میں قائم ہونے والی مسجد، جسے 1992 میں مشتعل ہجوم نے گرا دیا تھا، کے مقام کو ہندو تنظیم کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

اگست کے مہینے میں حکومت نے مسلمان اکثریتی ریاست مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لیتے ہوئے اسے دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا۔

کنہیا کمار کا کہنا تھا کہ ‘بھارت کا مقصد داؤ پر لگادیا گیا ہے اور ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا’۔

x

Check Also

فیس بک نے مقبول ترین گف سروس گفی کو خرید لیا

فیس بک نے مقبول ترین گف سروس گفی کو خرید لیا

فیس بک نے دنیا کی مقبول ترین انیمیٹڈ تصاویر شیئر کرنے والی سروس گفی کو ...

%d bloggers like this: