A family displaced by flooding wades through floodwaters is pictured as they return to their village of Bello Patan, in Pakistan's Sindh province in this September 21, 2010 file photo. A new plan to curb global warming risks becoming a battleground between rich and poor nations and could struggle to get off the ground as negotiators battle over the fate of the ailing Kyoto climate pact. To match Analysis CLIMATE-DEAL/ REUTERS/Akhtar Soomro/Files (PAKISTAN - Tags: ENVIRONMENT POLITICS)

2020 میں ‘گرم ترین موسم’ کی پیش گوئی

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس درجہ حرارت توقعات سے کہیں زیادہ گرم ہوگا جس کے باعث شدید موسمی واقعات جنم لیں گے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق درجہ حرارت کے لحاظ سے گزشتہ دہائی سب سے گرم رہی تھی۔

اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں پہلے غیرمعمولی اضافہ ہوچکا ہے جس کے سنگین نتائج مثلاً برف کا پگلنا، دریا کی سطح میں اضافہ ہونا، سمندری گرمی اور تیزابیت میں اضافے کی صورت میں سنگین نتائج سامنے ہیں۔

ڈبلیو ایم او نے گزشتہ ہفتے جاری یورپی یونین کی اس تحقیق کی تصدیق کی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2016 کے بعد سے 2019 گرم ترین سال تھا۔

ڈبلیو ایم او کے سربراہ پیٹرری طلاس نے آسٹریلیا میں کئی مہینوں سے جاری جنگل میں تباہ کن آگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ‘سن 2020 کا آغاز ہو گیا ہے جس نے 2019 کو پیچھے چھوڑ دیا’۔

واضح رہے کہ نیو ساؤتھ ویلز اور پڑوسی علاقے وکٹوریہ میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے جہاں ان دونوں آگ پر توجہ دی جارہی ہے جو مل کر 6 لاکھ ایکڑ کے رقبے پر ایک اور ہولناک آتشزدگی میں بدل رہی ہے۔

آسٹریلیا میں لگی آگ کے باعث اب تک 26 افراد ہلاک اور 2 ہزار گھر جل کر راکھ ہوچکے ہیں جبکہ جنوبی کوریا اور پرتگال کے رقبے سے بڑا تقریباً ایک کروڑ ہیکڑ خطہ اراضی آگ سے جل چکا ہے۔

پیٹرری طلاس نے کہا ‘بدقسمتی سے 2020 اور آنے والے عشروں میں گرین ہاؤس گیسوں میں لپٹی ریکارڈ گرمی ہوگی۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے کہا کہ 1980 کی دہائی سے ہر دہائی پچھلی عہد کی نسبت زیادہ گرم رہی ہے۔

ذیلی ادارے نے خبردار کیا کہ ‘یہ رجحان جاری رہے گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘موجودہ مقدار میں اخراج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اعتبار سے صدی کے آخر تک درجہ حرارت میں تین سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہوجائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں ایڈیشنل سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا تھا کہ کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہر سال ایک لاکھ 28 ہزار افراد کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے ارکان کو بتایا گیا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے اوسط عمر میں 2 سے 5 برس تک کمی آسکتی ہے۔

x

Check Also

بھار ت میں 3 مئی تک لاک ڈاؤن میں توسیع

بھار ت میں 3 مئی تک لاک ڈاؤن میں توسیع

عالمگیر وبا کورونا کے حملے دنیا کے 200 سے زائد ممالک پر جاری ہیں جس ...

%d bloggers like this: