In this photo taken on Friday, March 2, 2018 and released Saturday, March 10, 2018, Russian President Vladimir Putin speaks during an interview with NBC News' Megyn Kelly in Kaliningrad, Russia. In the some times combative interview Putin denied the charge by U.S. intelligence services that he ordered meddling in the November 2016 vote, claiming any interference was not connected to the Kremlin. (Alexei Druzhinin, Sputnik, Kremlin Pool Photo via AP)

روسی صدر کی آئین میں ترامیم کی تجویز، وزیر اعظم اور کابینہ مستعفی

روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی جانب سے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے آئینی میں ترامیم کی تجویز کے بعد ملک کے وزیر اعظم دمِتری میدویدیف اور ان کی کابینہ نے استعفیٰ دے دیا جو صدر نے منظور کر لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے پی’ کے مطابق دمِتری میدویدیف نے ٹی وی پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر کی طرف سے حکومت میں مجوزہ تبدیلیوں کی روشنی میں وہ عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

ولادی میر پیوٹن نے وزیر اعظم کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں صدارتی سیکیورٹی کونسل کا نائب سربراہ مقرر کردیا۔

قبل ازیں روسی صدر نے قوم سے خطاب کے دوران آئین میں ترمیم کی تجویز دی تھی جس کے تحت قانون سازوں کو وزیر اعظم اور کابینہ اراکین مقرر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

اس وقت یہ تقرریاں کرنے کا اختیار روسی صدر کے پاس ہے۔

ولادی میر پیوٹن نے حکومت کے اعلیٰ عہدیداران اور قانون سازوں کو بتایا تھا کہ ‘اس سے پارلیمنٹ اور پارلیمانی جماعتوں کے کردار، وزیر اعظم اور کابینہ اراکی کے اختیارات اور آزادی میں اضافہ ہوگا۔’

تاہم اسی موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پارلیمانی نظام کے تحت حکومت چلائی گئی تو روس مستحکم نہیں رہے گا، لہٰذا ملک کے صدر کے پاس وزیر اعظم اور وزرا کو برطرف کرنے، اعلیٰ دفاعی اور سیکیورٹی عہدیداران کی تقرری کا اختیار برقرار رہنا چاہیے جبکہ وہ روسی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے انچارج بھی رہیں گے۔

روسی صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں ترامیم سے متعلق ملکی سطح پر ووٹنگ کی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ 67 سالہ ولادی میر پیوٹن کی صدارتی مدت 2024 میں پوری ہوگی، وہ 20 سال سے زائد عرصے تک ملک میں اقتدار میں رہے جو جوزف اسٹالِن کے بعد روس یا سوویت یونین کا بطور سربراہ سب سے زیادہ عرصہ ہے۔

ملک کے موجودہ قانون کے مطابق صدارت کی یہ مدت پوری ہونے کے بعد انہیں عہدہ چھوڑنا ہوگا کیونکہ قانون کے مطابق کوئی بھی شخص مسلسل دو مدت تک ملک کا صدر رہ سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار کیریل روگوف نے کہا کہ ولادی میر پیوٹن کی تجاویز سے انچارج برقرار رہنے کے لیے ان کے ارادے کا اندازہ ہوتا ہے، جبکہ تجاویز کے مطابق حکومت کی دیگر شاخوں میں اختیارات تقسیم کر دیے جائیں گے۔

x

Check Also

2020 میں ‘گرم ترین موسم’ کی پیش گوئی

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس درجہ حرارت توقعات سے کہیں زیادہ ...

%d bloggers like this: