مولانا فضل الرحمان کا آصف غفور کو جواب

مولانا فضل الرحمان کا آصف غفور کو جواب

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے ایک بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘انھوں (آصف غفور) نے اپنے بیان سے فوج کو جانبدار بنانے کی کوشش کی ہے، جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔’

انھوں نے یہ بات جمعہ کی رات میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے کہی۔ اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا کو فوج پر الزام تراشی کرنے کے بجائے الیکشن میں شفافیت سے متعلق اپنی شکایت متعلقہ اداروں کے پاس لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ وہ اداروں کو غیر جانبدار دیکھنا چاہتے ہیں اور اگر ایسا محسوس ہو کہ ‘ناجائز حکمرانوں کی پشت پناہی ہمارے ادارے کر رہے ہیں تو پھر دو دن کی مہلت ہے اور پھر ہمیں نہ روکا جائے کہ ہم اداروں کے بارے میں اپنی کیا رائے قائم کرتے ہیں۔’

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں دیے گئے اس بیان کے بعد جمعے کی رات نجی ٹیلی ویژن چینل اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور کا کہنا تھا ’اگر ان (فضل الرحمان) کا اشارہ فوج کی طرف ہے تو اپوزیشن کو یہ بات سمجھنا چاہیے کہ فوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے۔۔۔فوج پر الزام تراشی کرنے کے بجائے وہ الیکشن کی شفافیت سے متعلق اپنی شکایت متعلقہ اداروں کے پاس لے کر جائیں۔’

تاہم اس کے بعد جواب الجواب میں مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے حوالے سے کہا کہ ‘وہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) فوج کے بحیثیت ادارہ نمائندے ہیں، یہ بیان تو کسی سیاستدان کو دینا چاہیے تھا۔’

جمعے کے روز آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کہ وہ اداروں کے حوالے سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ‘ہماری (اداروں کے حوالے سے) نپی تلی پالیسی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اداروں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے، ہم پاکستان کے اداروں کا استحکام اور انھیں طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن ہم اداروں کو غیر جانبدار بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘اگر ہم محسوس کریں کے اس ناجائز حکومت کی پشت پر ادارے ہیں، اگر ہم محسوس کریں کہ ناجائز حکمرانوں کی پشت پناہی ہمارے ادارے کر رہے ہیں تو پھر دو دن کی مہلت ہے اور پھر ہمیں نہ روکا جائے کہ ہم اداروں کے بارے میں اپنی کیا رائے قائم کرتے ہیں

آصف غفور کی نجی ٹیلیویژن چینل سے گفتگو

بعد ازاں رات گئے اے آر وائی کے ایک پرواگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان ایک سینیئر سیاستدان ہیں، جب وہ بات کرتے ہیں تو انھیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

‘پہلی بات ان سے پوچھنے کی یہ ہے کہ وہ کس ادارے کی بات کر رہے ہیں؟ کیا ان کا اشارہ الیکشن کمیشن کی طرف ہے یا عدالتوں کی طرف یا فوج کی طرف؟’

‘اگر ان کا اشارہ فوج کی طرف ہے تو اپوزیشن کو یہ بات سمجھنا چاہیے کہ فوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جس کی سپورٹ ایک جمہوری طور پر منتخب کی گئی حکومت کے ساتھ کے ساتھ ہوتی ہے، کسی ایک پارٹی کے ساتھ نہیں۔’

آصف غفور کا مزید کہنا تھا کہ اگر انھیں الیکشن کی شفافیت کے متعلق شکایت ہے اور اس سلسلے میں وہ فوج کو اس معاملے میں گھسیٹ رہے ہیں تو پہلی بات یہ ہے کہ فوج نے الیکشن میں اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی، پھر بھی اگر انھیں کوئی شکایت ہے تو متعلقہ آئینی اور قانونی اداروں کے پاس لے کر جائیں، سٹرکوں پر آ کر صرف الزام تراشی سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔’

فضل الرحمان بتائیں کس ادارے کی بات کر رہے ہیں، پاک فوج

اینکر کی جانب سے ان سے سوال پوچھا گیا کہ ملک کو سرحدوں پر درپیش چیلنجز کی موجودگی میں وہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کیسے دیکھتے ہیں؟

آصف غفور نے مشرقی و مغربی سرحدوں کی صورتحال اور آپریشن ردالفساد پر بات کرنے کے بعد کہا کہ ‘اب ان حالات میں اگر ملک کسی انتشار کا شکار ہوتا ہے تو یقیناً یہ ملکی مفاد میں نہیں ہو گا، ہمیں جمہوری روایات اور ان کے طریقوں کے مطابق چلنا چاہیے جس سیاسی جماعت کو جو بھی مسئلہ ہے وہ آئین اور قانون میں رہتے ہوئے اس مسئلے کو متعلقہ اداروں کے ذریعے حل کرے۔ یہ نا صرف جمہوریت کے لیے بہتر ہو گا بلکہ ملک کے استحکام کے لیے بھی۔’

ان سے سوال پوچھا گیا کہ اگر کسی بھی طرح کی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بنتی ہے تو فورسز کا ردعمل کیا ہو گا؟

آصف غفور کا کہنا تھا کہ ابھی تک حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیاں بہتر انداز میں چل رہی ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کام بہتر طریقے سے آگے چلے، افواج پاکستان ایک قومی اور غیر جانبدار ادارہ ہے جو کہ حکومت کو آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے سپورٹ کر رہا ہے۔

‘آگے جو بھی صورتحال ہو گی اور حکومت جو بھی فیصلہ کرتی ہے اس پر آئین اور قانون کے مطابق عمل ہو گا لیکن ملک کے استحکام کو کسی بھی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔’

اس بیان پر مولانا فضل الرحمان کا جواب

جمعے کو رات گئے اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا نمائندگان نے جب مولانا فضل الرحمان سے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کی بابت دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی گفتگو سے خود ہی واضح کر دیا کہ جب میں نے اداروں کی بات کی تھی تو اس سے مراد کون سا ادارہ تھا۔

‘مجھے اس کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے انھوں نے خود ہی بتا دیا کہ میری اداروں سے میری مراد کیا تھی۔’

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ‘اس طریقے سے وہ اپنے آپ کو سیاست میں ملوث نہ کریں، ادارے کو سیاست سے دور رکھیں۔۔۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کیوں فوج کے ادارے کو عوام کے ساتھ تصادم کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی ہے؟’

انھوں نے کہا کہ عمران خان جیسی حکومت کو سپورٹ کرنا۔۔۔ میں سمجھتا ہوں جمہوریت کی دنیا میں اس اقدام کو پزیرائی نہیں مل سکے گی۔

‘میں پوچھتا ہوں کے انھوں (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے کس بنیاد پر یہ بیان دیا ہے، وہ فوج کے بحیثیت ادارہ نمائندے ہیں، یہ بیان تو کسی سیاستدان کو دینا چاہتے تھا، فوج تو غیر جانبدار ادارہ ہے جیسے کہ انھوں نے خود بھی فرمایا، اور انھیں (آصف غفور) غیر جانبدار ہی رہنا چاہیے تھا۔ انھوں نے اپنے اس بیان سے فوج کو جانبدار بنانے کی کوشش کی ہے، جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔’

انھوں نے کہا کہ اداروں سے متعلق ان کا ابتدائی بیان عمران خان کے اس بیان کے جواب میں تھا جس میں انھوں نے کہا کہ فوج میری پشت پر ہے۔ ‘تب ان (اداروں) کو واضح کر دینا چاہیے تھا، انھوں نے اس پر خاموشی کیوں اختیار کی؟ جب وہ خاموشی اختیار کریں گے تو اپنے بارے میں ابہام تو پیدا کریں گے نا


x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: