فضل الرحمان بتائیں کس ادارے کی بات کر رہے ہیں، پاک فوج

فضل الرحمان بتائیں کس ادارے کی بات کر رہے ہیں، پاک فوج

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فوج غیرجانبدار ادارہ ہے۔

اے آر وائے نیوز سے گفتگو میں ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے تحفظات متعلقہ اداروں کے پاس لے کر جائیں، سڑکوں پر آکر الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سینئر سیاستدان ہیں جو بات کہتے ہیں انھیں معلوم ہوتا ہے کیا کہہ رہے ہیں، پہلی بات تو ان سے یہ پوچھنے کی ہے کہ وہ کس کی بات کررہے ہیں، ان کا اشارہ الیکشن کمیشن،عدالتوں یا فوج کی طرف ہے؟ اگر انہوں نے فوج کی بات کی تو اپوزیشن کے سمجھنے کی بات ہے کہ فوج غیرجانبدار ادارہ ہے، ہم آئین اور قانون کی عمل داری پر یقین رکھتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہماری سپورٹ ایک جمہوری منتخب حکومت کے ساتھ ہے، کسی ایک جماعت کیلئے نہیں، اگر الیکشن کی شفافیت سے متعلق شکایت ہے تو تحفظات متعلقہ ادارے کے پاس لے کر جائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فوج نے الیکشن میں آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی، الیکشن کو ایک سال گزر گیا ہے، اس کے باوجود ان کا آئینی حق ہے کہ تحفظات متعلقہ ادارے کے پاس لیکر جائیں، مولانا فضل الرحمان اپنے تحفظات متعلقہ اداروں کے پاس لے کر جائیں کیوں کہ سڑکوں پرآکر الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ ہمیں جمہوری روایات اور طریقوں کے مطابق چلنا چاہیے، حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹی بنی ہے، وہ آپس میں بہتر کوآرڈیشن کررہی ہیں، امید ہے کہ کمیٹیوں کا کام بہترطریقے سے آگے چلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج ایک قومی اور غیرجانبدار ادارہ ہے، حکومت کے ساتھ آئین اور قانون کے دائرہ میں رہ کر سپورٹ کررہے ہیں، آگے کیا صورت حال بنتی ہے، اس میں بھی قانون اور آئین کے تناظر میں جو بھی فیصلہ حکومت کرے گی، قانون کے مطابق اس پر کارروائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ملکی استحکام کو کسی بھی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ہم نے جان اور مال کی قربانی دے کر ملک میں امن قائم کیا، اس وقت بھی لائن آف کنٹرول پر کشیدگی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھی ظلم و ستم جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہادرقبائل اورعوام نے گزشتہ دو دہائیاں مشکل میں گزاریں، رد الفساد پورے ملک میں جاری ہے تاکہ دائمی امن قائم ہو، ملک میں کوئی بھی انتشار ملک کے مفاد میں نہیں۔

یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کا آزادی مارچ اسلام آباد میں پڑاؤ ڈال چکا ہے اور مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کیلئے اتوار تک کی مہلت دی ہے۔ 

تقریر کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ ’ہم مزید صبرو تحمل کا مظاہرہ نہیں کرسکتے، ہم اداروں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں، ہم اداروں کےساتھ تصادم نہیں چاہتے، لیکن ہم اداروں کو غیر جانبدار بھی دیکھنا چاہتے ہیں، عوام کا فیصلہ آچکا ہے، حکومت کو جانا ہی جانا ہے‘۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ’دھرنے کے شرکاء ڈی چوک کی طرف جانا چاہتے ہیں، میں نے آپ کی بات سن لی ہے، نواز شریف نے بھی سن لی ہے، آصف علی زرداری نے بھی سن لی ہے اور ہم جنہیں سنانا چاہ رہے ہیں وہ بھی سن لیں‘۔

x

Check Also

آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے ...

%d bloggers like this: