جاپان کے شاہی تخت کو ورثاء کی قلت

جاپان کو شاہی تخت کی پریشانی

جاپان کی شہنشاہت 600 قبل مسیح سے جاری ہے تاہم اب شاہی تخت کے ورثاء کی قلّت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان کا تخت اس وقت 59 سالہ ناروہیتو کے پاس ہے، انہوں نے رواں سال مئی میں اپنے والد اکیہیتو کی دراز عمری کے باعث کنارہ کشی کے بعد بطور شہنشاہ تخت سنبھالا تھا۔

شہنشاہ ناروہیتو کی صرف ایک اولاد شہزادی آئیکو ہے جو 2001 میں پیدا ہوئیں جو کہ جاپانی قوانین اور روایات کے مطابق تخت کی جان نشین نہیں ہو سکتیں۔

شہنشاہ ناروہیتو کے بعد ان کے چھوٹے بھائی شہزادہ اکیشینو ولی عہد کے منصب پر فائز ہوں گے اور اس کے بعد ان کے بھتیجے13 سالہ شہزادے ہیسا ہیتو کا نمبر ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہیساہیتو جاپان کی تاریخ کےکم عمر ترین بادشاہ ہوں گے۔ ہیساہیتو نے رواں سال مارچ میں ٹوکیو کے الیمنٹری اسکول سے گریجویشن کیا ہے، اوراب ان کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری آنے کے باعث ا نہیں تربیت دینے کے لئے مختلف دورے کروائے جا رہے ہیں۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ شہزادہ ہیساہیتو 1965 کے بعد اپنے خاندان میں پیدا ہونے والا پہلا لڑکا تھا جو اپنی دو بڑی بہنوں کے بعد پیدا ہوا تھا، پہلی بیٹی پیدا ہونے پر جاپانی شاہی جوڑے نےفیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنی بادشاہت اپنی بیٹی کو دیں گے جبکہ ہساہیتو کی پیدائش کو ایک معجزہ سمجھتے ہوئے یہ فیصلہ ترک کر دیا گیا۔

شہزادےکی پیدائش پر کچھ لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ یہ فیصلہ آسمان سے آیا ہے کہ آنے والے وقت میں جاپان کا بادشاہ ایک مرد ہی ہوگا۔

جاپان کے قانون کے مطابق تخت نشینی صرف خاندان کے مردوں کو ہی دی جاتی ہے، ہساہیتو اپنے والد کے بعد واحد اور کم عمر ترین تخت نشینی کا امید وار ہے۔ 

x

Check Also

'بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے'

‘بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے’

ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کے صدر جوگت سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور ...

%d bloggers like this: