بی جے پی کا ‘غیرمسلم’ مہاجرین کو شہریت دینے کا اعلان

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر اور وزیرداخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی غیرمسلم پناہ گزینوں کو ایک بل کے ذریعے شہریت دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق امیت شاہ نے کلکتہ میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘پارٹی ہندو، سکھ، بدھسٹ، جین اور عیسائی پناہ گزینوں کو شہریت دے گی’۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سٹیزن شپ ترمیمی بل کے نام ایک منصوبہ ایوان بالا میں پیش کیا گیا ہے جس کے تحت پڑوسی ممالک افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سمیت دیگر ممالک سے آئے ہوئے غیر مسلم پناہ گزینوں کو شہریت دی جائے گی جو 6 سال سے بھارت میں رہائش پذیر ہیں۔

امیت شاہ نے کہا کہ رجسٹریشن کا عمل مغربی بنگال تک وسیع کردیا جائے گا لیکن غیر مسلموں کو شہریت سے محروم ہونے سے تحفظ فراہم کیا جائے گا کیونکہ ترمیمی بل اس کی اجازت دے گا۔

بھارتی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ‘میں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی ایک بیرونی شخص کو بھی رہنے نہیں دیا جائے گا’۔

دوسری جانب مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ماماتا بینر جی کا کہنا تھا کہ ‘شہریوں کی رجسٹریشن ایک شرم ناک عمل ہے اور شہریوں کی رجسٹریشن کا یہ بل مغربی بنگال میں کارآمد نہیں ہوگا’۔

واضح رہے کہ بی جے پی نے اگست میں ریاست آسام میں شہریت کے حوالے سے ایک متنازع بل نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) متعارف کروایا تھا اور اس کے ذریعے تقریباً 20 لاکھ افراد کی رجسٹریشن ہوئی تھی جبکہ بڑی تعداد میں عوام کو شہریت سے محروم کردیا گیا تھا۔

آسام میں شہریت سے محروم افراد کو ٹریبیونل کے سامنے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے 2 مہینے کا وقت دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہوا تھا۔

بھارتی حکومت نے رجسٹریشن کے اس عمل میں گھر گھر جانے کے بجائے درخواست گزاروں کو خود نمائندوں کے پاس حاضر ہوکر اپنا نام درج کرانے کی ہدایت کی تھی جہاں بنگلہ دیش کی پڑوسی ریاست میں تمام شہریوں کو اپنے کوائف جمع کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

آسام میں شہریوں کو ان کے حق سے محروم کرنے سے قبل انہیں کہا گیا تھا کہ وہ اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے متعلقہ دستاویزات دکھائیں یا پھر 24 مارچ 1971 سے قبل ریاست میں رہائش اختیار کرنے کا ثبوت دکھائیں۔

بی جے پی کے اس قدم کی مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کا مقصد مسلم اقلیت کو باہر کرنا ہے جن میں سے کئی ایسے افراد بھی شامل ہیں جو بنگلہ دیش سے بھارت آئے تھے۔

ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے بھارتی وزیر داخلہ نے انتخابات میں کامیابی اور دوسری مرتبہ حکومت سنبھالنے کے بعد رواں برس جولائی میں بیان دیا تھا کہ پورے ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کی نشان دہی کر کے انہیں ملک بدر کردیا جائے گا۔

وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمان میں کہا تھا کہ حکومت آسام میں اپنی کوششوں کو محدود نہیں رکھے گی بلکہ غیر قانونی تارکین وطن پر سختی کی جائے گی۔

ناقدین نے نریندر مودی کی بھارتیا جنتا پارٹی کو مسلم اقلیت کے خلاف تعصب برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف مہم مسلمانوں کے خلاف ہے اور اس کے ساتھ ہی خبردار بھی کیا تھا کہ مسلمان برادری کو مزید تنہا کرنے سے گریز کیا جائے۔

x

Check Also

'بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے'

‘بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے’

ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کے صدر جوگت سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور ...

%d bloggers like this: