کونسی چیزیں مستقبل میں ختم ہوجائیں گی؟

کونسی چیزیں مستقبل میں ختم ہوجائیں گی؟

ماحولیاتی تبدیلی سمیت دنیا بھر میں کچھ ایسی تبدیلیاں ہورہی ہیں جو آگے جاکر ہمارے لیے کئی طرح سے پریشانیاں پیدا کرسکتی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک پریشان کن بات یہ ہے کہ کچھ چیزیں آہستہ آہستہ دنیا سے ختم ہوتی جارہی ہیں اور ہوسکتا ہے وہ ہمیں مستقبل میں میسر نہ ہوں۔

کونسی چیزیں مستقبل میں ختم ہوجائیں گی؟

برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق چھ چیزیں ایسی ہیں جن سے ہم محض بد انتظامی کی وجہ سے مستقبل میں محروم ہو سکتے ہیں۔

وہ چھ چیزیں کونسی ہیں؟

زمین کے مدار میں گنجائش: برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 5 لاکھ اجسام یا ٹکڑے زمین کے مدار میں گردش کر رہے ہیں، یہ 5 لاکھ اجسام وہ ہیں جو ہمارے مشاہدے میں ہیں جبکہ اس میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔

کونسی چیزیں مستقبل میں ختم ہوجائیں گی؟

جیسے جیسے ٹیکنالوجی مزید بہتر ہو رہی ہے ویسے ویسے چیزوں کو مدار میں بھیجنا آسان ہوتا جا رہا ہے۔ ہم اسے اچھی خبر سمجھتے ہیں جبکہ یہ ہمارے لیے نقصان کاباعث بن رہا ہے کیونکہ زمین کے مدار میں ان اجسام کے اضافے سے ان کے باہمی تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

ایسی صورت میں وہ نیٹ ورک خراب ہو سکتے ہیں جن کی مدد سے ہم موبائل فون استعمال کرتے ہیں، موسم کا حال جانتے ہیں، دنیا کے نقشے دیکھتے ہیں یا سمت شناسی اور جی پی ایس سے متعلق دیگر کام کرتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے کام جاری ہے لیکن فی الحال کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔

ریت: دنیا بھر میں ٹھوس اشیا ءمیں جو چیز سب سے زیادہ نکالی جا رہی ہے وہ ریت اور بجری ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جس رفتار سے ریت کو نکالا جا رہا ہے اس تیزی سے یہ پیدا نہیں ہو رہی ہے۔

کونسی چیزیں مستقبل میں ختم ہوجائیں گی؟

پتھروں کے قدرتی کٹاؤ یا بردگی کے عمل سے ہزاروں برس میں بننے والی ریت روزانہ بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام، پانی کی تطہیر، سیم زدہ زمین کو پھر سے کام میں لانے، ہماری کھڑکیوں کے شیشے بنانے اور موبائل فونز کے پرزے بنانے میں استعمال ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریت کے اس نقصان سے کمزور ماحولی نظاموں کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وسیلے کے استعمال کی عالمی سطح پر نگرانی کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

کیلے: تجارتی پیمانے پر پیدا کیے جانے والے کیلوں کی زیادہ تعداد ’پاناما ‘نامی بیماری کے فنگس یا پھپھوندی سے متاثر ہے۔ہم جو کیلے کھاتے ہیں اس کا تعلق کیلے کی اس قسم سے ہے جو کیونڈش کہلاتی ہے۔ پاناما نامی پھپھوندی کیلے کی اس نسل میں تیزی سے پھیل سکتی ہے۔

کونسی چیزیں مستقبل میں ختم ہوجائیں گی؟

رپورٹ کے مطابق ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے، سنہ 1950 میں اس بیماری نے دنیا بھر میں کیلے کی پوری فصل تباہ کر دی تھی جس کے سبب کاشتکاروں نے گراس میچل نامی کیلے کی قسم چھوڑ کر کیونڈش قسم اُگانا شروع کر دی تھی۔

محققین کیلوں کی ایسی اقسام تیار کرنے میں مصروف ہیں جو پھپھوندی کے مقابلے میں مدافعت رکھتے ہوں اور کھانے میں لذیذ بھی ہوں۔

ہیلیم: برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جو چوتھی چیز اس دنیا سے ختم ہونے کا خدشہ ہے وہ ’ہیلیم‘ ہے۔ یہ گیس زمین کی گہرائی سے حاصل کی جاتی ہے اور شاید چند دہائیوں کا ذخیرہ ہی اب باقی بچا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق 30 سے 50 برس کے اندر ہی اس گیس کی کمیابی کے اثرات ظاہر ہونے لگیں گے۔

کونسی چیزیں مستقبل میں ختم ہوجائیں گی؟

اس گیس کے ختم ہوجانے سے ہمارا علاج معالجہ متاثر ہوگا کیونکہ یہ گیس ایم آر آئی یا بدن کی اندرونی تصویر کشی کرنے والی مشین کے مقناطیسوں کو ٹھنڈا کرنے کے کام آتی ہے۔

اس نے سرطان، اور دماغ اور حرام مغز کی چوٹ کی تشخیص اور علاج میں انقلاب برپا کیا ہے۔

قابلِ کاشت مٹی: اگرچہ قابل کاشت مٹی میں کمی کا فوری طور پر کوئی خدشہ نہیں ہے مگر ہماری بدانتظامی نے اس سلسلے میں تشویش کو جنم دیا ہے۔ٹاپ سوئل یا مٹی کی بیرونی پرت وہ مقام ہے جہاں سے پودے اپنی خوراک کا سب سے زیادہ حصہ حاصل کرتے ہیں۔

کونسی چیزیں مستقبل میں ختم ہوجائیں گی؟

جنگلی حیات کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف، کے اندازے کے مطابق پچھلے 150 برسوں میں زمین کی اوپری پرت کا آدھے سے زیادہ حصہ ختم ہو چکا ہے اور صرف ایک انچ دبیز پرت کی قدرتی طور پر بحالی میں 500 برس لگ سکتے ہیں۔

زمین بردگی یا کٹاؤ، شدید کاشتکاری، جنگلات کی کٹائی اور عالمی حدت میں اضافہ جیسے اسباب کے بارے میں خیال ہے کہ ان کی وجہ سے زمین کی قابل کاشت پرت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسی پرت پر ہماری خوراک کی پیدوار کا انحصار ہے۔

فاسفورس: رپورٹ کے مطابق فاسفورس کا بظاہر ہماری روز مرہ زندگی میں کوئی خاص عمل دخل نہیں ہے۔درحقیقت یہ نا صرف حیاتیاتی اعتبار سے انسانی ڈی این اے کی ساخت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ مصنوعی کھاد کا بھی اہم جزو ہے جس کا کوئی معلوم متبادل نہیں ہے۔

کونسی چیزیں مستقبل میں ختم ہوجائیں گی؟

پہلے یہ پودوں اور جانوروں کے فضلے کے ذریعے اسی مٹی میں لوٹ جاتا تھا جہاں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ مگر اب یہ فصل کے اندر ہونے کی وجہ سے شہروں کو منتقل ہو رہا ہے جہاں سے یہ پانی میں دھل کر نکاسی کے نظام میں گم ہو رہا ہے۔

جس رفتار سے معاملات آگے بڑھ رہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فاسفورس کے ذخائر 35 سے 40 برس تک ہی چل پائیں گے جس کے بعد ہمیں بھوک ستانے لگے گی۔

x

Check Also

ترکمانستان میں کورونا وائرس کا نام لینے پر بھی پابندی

ترکمانستان میں کورونا وائرس کا نام لینے پر بھی پابندی

وسطی ایشیائی ریاست ترکمانستان میں کورونا وائرس کے نام لینے پر بھی پابندی عائد کردی ...

%d bloggers like this: