فرانس، ذیابطیس کی گولیوں سے مریضوں کی اموات کا مقدمہ

فرانس، ذیابیطس کی گولیوں سے مریضوں کی اموات کا مقدمہ

فرانس‘ذیابطیس کی گولیوں سے مریضوں کی اموات کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق،فرانس کے دوائیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کو ذیابطیس کی دوائی کے باعث اموات کی وجہ سے مقدمات کا سامنا ہے۔ مقدمے میں دھوکہ دہی اور غفلت کے الزامات لگائے گئے ہیں کیوں کہ متعدد افراد کو وزن کم کرنے کے لیے ذیابطیس کی دوا تجویز کی گئی تھی۔دوا کے استعمال کے باعث کم از کم 500افراد امراج قلب میں مبتلا ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔یہاں تک کے 2016میں فرانس میں اس معاملے پر ’’150ملی گرامز‘‘نامی فلم بھی بنائی گئی۔تاہم، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کے استعمال سے کم از کم 2100افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔یہ دوا تقریباً33سال تک مارکیٹ میں رہی اور کم از کم 50لاکھ افراد نے اس کا استعمال کیا۔اس دوائی کے استعمال سے متعلق احتیاطی اعلانات 1990کی دہائی کے وسط میں شروع ہوئے تھے ۔تاہم فرانس میں اس دوا پر پابندی 2009میں عائد کی گئی۔دواساز سرویئراور نو ذیلی کمپنیوں کو دھوکہ دہی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جب کہ دوائوں کی نگرانی

کرنے والے ادارے اے این ایس ایم پر غفلت اور لاپرواہی کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔اس مقدمے کے نتیجے میں دونوں پر جرمانے اور متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کی سزائیں ہوسکتی ہیں۔سرویئرز کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ اس نے 3700سے زائد متاثرین کو 164اعشاریہ4ملین یورو کی پیش کش کی تھی اور اس میں سے 131اعشاریہ8ملین یورو کی ادائیگی کی جاچکی ہے۔سرویئر کمپنی کے بانی جیک سرویئر 2014میں انتقال کرچکے ہیں لہٰذا یہ مقدمہ ان کی غیر موجودگی میں چلایا جائے گا۔

x

Check Also

صحتیابی کے بعد بھی کورونا مریضوں کو نقصان ہوسکتا ہے، ماہرین

صحتیابی کے بعد بھی کورونا مریضوں کو نقصان ہوسکتا ہے، ماہرین

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ صحت یابی کے بعد بھی کورونا وائرس کے مریضوں ...

%d bloggers like this: