بکر پرائز پہلی بار ایک عرب فکشن نگار کے نام

عمان کی جوخہ الحارثی نے ادب کا بین الاقوامی ایوارڈ مین بکر پرائز اپنے نام کر کے تاریخ‌ رقم کر دی.

تفصیلات کے مطابق عمان کی ادیبہ جوخہ الحارثی پہلی عرب فکشن نگار ہیں، جنھیں اس اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا.

مین بکر پرائز کے ججز کا کہنا تھا کہ اس ناول میں کہانی بھرپور، مائل کرنے والی اور شاعرانہ انداز میں بیان کی گئی ہے۔

ان کا ناول ’سیلیسٹیل باڈیز‘ ایک خاندان سے تعلق رکھنے والی تین عمانی بہنوں کی زندگیوں اور تبدیلیوں‌ کا کمال مہارت سے احاطہ کرتا ہے.

ایوارڈ جیتنے کے بعد جوخہ الحارثی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت پر جوش ہیں، زرخیر عرب تہذیب کے لیے ایک دریچہ کھل گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آزادی اور محبت جیسی اقدار اور جذبے سے بین الاقوامی قارئین نے تعلق محسوس کیا.

جوخہ الحارثی کے اس ایوارڈ یافتہ نام کا ترجمہ امریکی ماہر تعلیم مالین بوتھ نے کیا ہے، جن کے ساتھ وہ انعامی رقم بانٹیں گی۔

جوخہ الحارثی پہلی عمانی مصنفہ ہیں، جن کی کتاب کا انگریزی میں ترجمہ ہوا، اس سے پہلے جوخہ الحارثی تین ناول شایع ہوچکے ہیں.

x

Check Also

چاند پر قدم رکھنے والی خاتون کون؟

خلائی تحقيق کے امريکی ادارے ناسا کی جانب سے بتايا گيا ہے کہ سن 2024 ...

%d bloggers like this: