توند سے نجات اب آسان

اگر تو آپ کی توند نکل آئے تو یقیناً شخصیت کا سارا تاثر خراب ہوجاتا ہے اور ذہنی پریشانی الگ ہوتی ہے۔

یقیناً ایسا ہونے پر سب لوگ اچھا نطر آنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور اضافی چربی سے نجات حاصل کرنا مشن بنالیتے ہیں جو کہ مختلف سنگین امراض کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے، جیسے ذیابیطس، امراض قلب وغیرہ۔

ویسے تو توند کی چربی سے نجات ایک لاحاصل جدوجہد لگتی ہے مگر یہ صرف شخصیت کو ہی بہتر نہیں بناتی بلکہ طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جبکہ سنگین امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

یہاں کچھ ایسے گھریلو ٹوٹکے دیئے جارہے ہیں جو توند سے نجات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پروٹین کا استعمال بڑھائیں

پروٹین کا استعمال زیادہ جبکہ کاربوہائیڈریٹس سے دوری بغیر سخت ورزش کے توند سے نجات کا تیز ترین نسخہ ہے، پروٹین بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور انسولین کی سطح کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، انسولین وہ ہارمون ہے جو جسم کو چربی خاص طور پر پیٹ اور کمر کے ارگرد جمع کرنے کا سگنل بھیجتا ہے۔ سفید ڈبل روٹی کو چھوڑ کر اجناس، سیزن کے پھل، جڑوں والی سبزیاں وغیرہ کا استعمال معمول بنالیں۔

ناریل کے تیل کو آزمائیں

ناریل کا تیل میڈیم چین triglycerides سے بنتا ہے جبکہ سبزیوں اور بیجوں کے تیل میں لانگ چین triglycerides ہوتے ہیں، طبی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ناریل کے تیل کا میڈیم چین سے بننا متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے، کیونکہ یہ آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے اور بہت تیزی سے غذا کو توانائی میں بدل دیتا ہے اور وہ چربی کی شکل میں جسم میں ذخیرہ نہیں ہوتی۔

چینی سے دوری

چینی کا استعمال پیٹ اور کمر کے گرد چربی کے ذخیرے کی بنیادی وجہ بنتا ہے، چینی میں شامل گلوکوز اور دیگر اجزاءدوران خون میں تیزی سے جذب ہوکر توانائی میں بدل جاتے ہیں، تاہم مٹھاس کا بہت زیادہ استعمال اس توانائی کو چربی کی شکل میں بدل کر پیٹ کے گرد ذخیرہ کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ چینی بلڈ شوگر کو بڑھاتی ہے جس سے انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اگر تو آپ توند سے نجات چاہتے ہیں تو کچھ دن کے لیے چینی سے منہ موڑ لیں یا بہت کم کردیں اور اس کی جگہ تازہ پھل، شہد، کھجور اور ناریل وغیرہ کو اپنالیں۔

فائبر کو بھی خوراک کا حصہ بنائیں

غذا میں زیادہ فائبر خاص طور پر جو، دالوں، سبزیوں اور پھلوں میں موجود فائبر توند میں اکھٹا ہونے والی چربی کو گھلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ فائبر بے وقت کی بھوک کا احساس دور رکھتا ہے جبکہ معدے کے نظام کو درست رکھتا ہے، اسی طرح یہ غذائی جز چربی کے جذب ہونے کے عمل کو کم کردیتا ہے جس سے توند نکلنے کا خطرہ نہیں ہوتا۔

تناﺅ میں کمی لائیں

شدید تناﺅ بھی توند نکلنے کا باعث بنتا ہے، زیادہ دورانیے تک تناﺅ کے نتیجے میں ایک ہارمون کورٹیسول اشتہا بڑھاتا ہے اور انسان زیادہ کھانے لگتا ہے جبکہ میٹابولزم سست ہوجاتا ہے جس سے پیٹ کے ارگرد چربی جمع ہونے لگتی ہے۔مراقبہ، گہری سانسیں لینا یا نہانا، یہ سب روزمرہ کے تناﺅ میں کمی لانے سمیت توند سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

سبز چائے نوش فرمائیں

سبز چائے میں کمر کو گھٹانے والے اجزاءموجود ہوتے ہیں اسی لیے یہ پیٹ کی چربی گھلانے کے لیے بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے، سبز چائے میں موجود اجزا میٹابولزم کی رفتار بڑھا کر جگر کو چربی گھلانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ طبی رپورٹس کے مطابق روزانہ یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے چار سے پانچ کپ سبز چائے کا استعمال ضروری وہتا ہے، تاہم اس میں چینی کو شامل کرنے سے گریز کریں۔

سیڑھیاں چڑھنا عادت بنائیں

سست طرز زندگی متعدد امراض اور موٹاپے کا باعث بنتا ہے، آپ ورزش نہیں کرتے تو کوئی بات نہیں مگر سیڑھیاں چڑھنا، تیز چہل قدمی اور فون پر بات کرتے ہوئے بھی تیز چلنے جیسی عادتیں اپنا کر آپ توند کو تیزی سے کم کرسکتے ہیں۔

سونے کا وقت طے کریں

توند میں ورزش کے بغیر کمی لانے کا ایک حیران کن طریقہ زیادہ نیند ہے، طبی رپورٹس کے مطابق رات کو چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند انسولین کی سطح کو متوازن رکھنے اور تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کو بڑھنے نہیں دیتی، مکمل آرام سے جسم کے پاس دن بھر کے کاموں کے لیے مناسب مقدار میں کیلوریز بھی دستیاب ہوتی ہیں۔

گرم مصالحے

ہلدی ورم کش اجزاءموجود ہوتے ہیں، اس کا استعمال جسمانی میٹابولزم کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے اور توند میں کمی لاتا ہے۔

پانی کا زیادہ استعمال

روزانہ آٹھ گلاس پانی کا استعمال نظام ہضم کو بہتر، پیٹ پھولنے کا خطرہ کم اور میٹابولزم کے افعال کو درست رکھتا ہے، اپنے میٹھے مشروبات کو پانی سے بدل کر آپ مجموعی وزن میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ توند کو بھی اندر کرسکتے ہیں۔

x

Check Also

سال کا دوسرا چاند گرہن 16 جولائی کو ہوگا

سال کا دوسرا چاند گرہن 16 جولائی کو ہوگا

رواں سال کا دوسرا چاند گرہن 16 جولائی کی رات ہوگا ، پاکستان سمیت دنیا ...

%d bloggers like this: