کورونا وائرس کی علامات اور بچاؤ کی تدابیر

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس کو پہلے عام نمونیا قراردیا گیابعد میں اس کو 2002-03 میں سامنے آنے والے وائرس سارس کی قسم قرار دیا گیا جس کا نام کووڈ 2019 رکھا گیا۔

مریض کو ابتدا میں نزلہ کھانسی اور گلے کی سوزش کا سامنا ہوتا ہے، مرض بڑھ جائے تو بخار، سینے میں درد، سانس لینے میں تکلیف اور نمونیا کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ دل کا تیزی سے دھڑکنا بھی وائرس کی علامتوں میں سے ایک ہے۔

وائرس پھیپڑے پر اثر انداز ہو کر آکسیجن کو خون میں ملانے کا عمل روک دیتا ہے۔ وائرس کا مریض شدید نمونیا، گردے فیل اور شدید بخار سے موت کا شکار ہوسکتا ہے۔

ناول کرونا وائرس خاموش وائرس ہے۔ یہ اپنی علامات ظاہر کیے بغیر متاثرہ شخص سے دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے۔ متاثرہ میں سے 98 فیصد لوگ صحت یاب ہوجاتے ہیں، جن افراد نے گزشتہ 14 دنوں میں چین کا سفر کیا ہے ان میں یہ علامات ظاہر ہوں قریبی اسپتال سے رابطہ کریں۔

بچاؤ کی تدابیر

صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں، ہاتھ کم از کم 20  سیکنڈز سے ایک منٹ تک دھونے چاہئیں جس سے انفیکشن سے بچنے میں بہت مدد مل سکتی ہے اور اگر آپ کھانسی اور نزلے میں مبتلا ہیں تو ماسک کا استعمال کریں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر آپ تندرست ہیں تو طبی نوعیت کا این 95 ماسک کے بجائے سادہ ماسک بھی پہن سکتے ہے۔ ماسک کو صحیح طریقے سے پہننا ضروری ہے، ماسک اور چہرے کے درمیان کوئی جگہ کھلی نہ رہ جائے۔ 

کورونا وائرس انسانی جسم سے باہر بہت دیر تک سرگرم نہیں رہ سکتا لیکن ڈسپوزایبل ماسک کو دفنانا ہی ضروری ہے۔

چھینکنے، کھانسنے اور بہتی ناک صاف کرنے کے لیے ٹشو پیپر کا ایک بار استعمال کریں، استعمال شدہ ٹشو پیپر کو مناسب طور پر تلف کردیں۔ ٹشو پیپر نہ ہو تو چھینکنے اور کھانستے وقت منہ پر ہاتھ رکھنے سے گریز کریں، کہنی موڑ کر اس میں چھینکیں یا کھانسیں۔

نزلہ زکام ہے تو دوسرے سے دور رہیں، گلے ملنے ہاتھ ملانے سے گریز کریں۔ پالتو جانوروں سے دوری اختیار کریں، جانوروں کے گوشت اور انڈوں کو اچھی طرح پکا کر استعمال کریں۔

آنکھوں، ناک، منہ کو بار بار چھونے اور آمد و رفت والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں اور لوگوں سے فاصلہ رکھیں

x

Check Also

ہماری غذاء میں شہد کیوں ضروری ہے؟

ہماری غذاء میں شہد کیوں ضروری ہے؟

اگر ہم شہد کے ذائقے کی بات کریں تو بہت سے لوگ شہد کا میٹھا ...

%d bloggers like this: