یونیورسٹی آف کیمبرج کے یونٹ میڈیکل ریسرچ کونسل (ایم آر سی) اور انٹرنیشنل ریپروگین کنسورشیم کی ایک تحقیق کے مطابق انسان کے بالغ ہونے میں جینز کا کردار اہم ہوتا ہے جو انہیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملتے ہیں۔ چند سال قبل ہونے والی تحقیق کے مطابق مرد و خواتین کے جسم میں موجود 389 جینز ایسے ہیں، جن کا بالغ ہونے میں نہایت اہم کردار ہوتا ہے۔ تاہم اس تحقیق میں مرد یا خواتین کے بالغ ہونے کی عمر نہیں بتائی گئی تھی۔ لیکن دوسری تحقیقات کے مطابق بعض ممالک میں لڑکیاں 9 سے 11 برس جب کہ لڑکے 11 سے 13 برس کی عمر میں بلوغت کو پہنچتے ہیں۔ لیکن چین میں ایک 7 سالہ بچی میں بلوغت کی علامات دیکھ کر نہ صرف ان کی والدہ بلکہ ڈاکٹرز بھی حیران رہ گئے۔ سنگاپور کی نیوز ویب سائٹ ’ایشیا ون‘ کے مطابق چین میں محض 7 سالہ بچی میں بلوغت کی علامات سامنے آنے کے بعد ان کی والدہ اور ڈاکٹر حیران رہ گئے۔ رپورٹ کے مطابق کم سن بچی کی والدہ اس وقت حیران رہ گئیں جب وہ انہیں نہلا رہی تھیں۔ رپورٹ میں چینی ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بچی کی والدہ کو نہلاتے وقت احساس ہوا کہ ان کی بچی تیزی سے بڑی ہو رہی ہیں اور ان کے جسمانی اعضا بھی غیر معمولی انداز میں بدل رہے ہیں۔ بچی کی والدہ کے مطابق کم سن بچی کی چھاتی کی ساخت تیزی سے بدلی ہوئی دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں، اس لیے وہ بچی کو ڈاکٹرز کے پاس لے کر آئے، جنہوں نے انکشاف کیا کہ نہ صرف بچی کی چھاتی بلکہ ان کا جسمانی ڈھانچہ بھی عمر سے بڑھ چکا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ بچی کا جسمانی ڈھانچہ کسی 10 سال سے بڑی بچی جیسا ہے اور چھاتی کے علاوہ بھی بچی کے دیگر اعضا بلوغت کو پہنچنے والی بچی کی طرح بن چکے ہیں۔ ڈاکٹرز نے والدہ سے بچی کی غذاؤں سے متعلق دریافت کیا تو والدہ نے بتایا کہ ان کی بچی نے ہمیشہ ہی ڈائٹ اور صحت مند کھانے کھائیں ہیں۔ ڈاکٹرز نے بچی کی غذا سے متعلق اس کے دوسرے طرز زندگی کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ بچی 4 سال کی عمر سے لائٹ روشن کرکے سوتی ہیں۔ بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی 4 سال کی عمر سے تنہا اور اکیلے کمرے میں لائٹس روشن کرکے سوتی ہیں کیوں کہ انہیں اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔ ڈاکٹرز نے بعد ازاں انکشاف کیا کہ بچی کم عمری میں رات کو روشنی میں سونے کی وجہ سے بلوغت کو پہنچی ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق بچیوں میں ’میلاٹونن‘ نامی ایک خاص طرح کے ہارمونز ہوتے ہیں جن کا بلوغت سے تعلق ہوتا ہے اور وہ رات میں تیزی سے بڑھتے ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق روشنی میں سونے کی وجہ سے بچی کے ’میلاٹونن‘ ہارمونز پر اثر پڑا اور ان میں انتہائی کم عمری میں ہی بلوغت کی علامات ظاہر ہوئیں۔ اس سے 2016 میں برطانیہ میں ایک 4 سالہ بچی بھی ہارمونز کے مرض کی وجہ سے بالغ ہوگئی تھی۔ ہارمونز کی خرابی کی وجہ سے اس بچی کی دماغی نشو و نما محض ایک سال میں 12 سالہ بچی کے برابر ہوچکی تھی۔

سات سالہ بچی میں ‘بلوغت کی علامات’

یونیورسٹی آف کیمبرج کے یونٹ میڈیکل ریسرچ کونسل (ایم آر سی) اور انٹرنیشنل ریپروگین کنسورشیم کی ایک تحقیق کے مطابق انسان کے بالغ ہونے میں جینز کا کردار اہم ہوتا ہے جو انہیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملتے ہیں۔

چند سال قبل ہونے والی تحقیق کے مطابق مرد و خواتین کے جسم میں موجود 389 جینز ایسے ہیں، جن کا بالغ ہونے میں نہایت اہم کردار ہوتا ہے۔

تاہم اس تحقیق میں مرد یا خواتین کے بالغ ہونے کی عمر نہیں بتائی گئی تھی۔

لیکن دوسری تحقیقات کے مطابق بعض ممالک میں لڑکیاں 9 سے 11 برس جب کہ لڑکے 11 سے 13 برس کی عمر میں بلوغت کو پہنچتے ہیں۔

لیکن چین میں ایک 7 سالہ بچی میں بلوغت کی علامات دیکھ کر نہ صرف ان کی والدہ بلکہ ڈاکٹرز بھی حیران رہ گئے۔

سنگاپور کی نیوز ویب سائٹ ’ایشیا ون‘ کے مطابق چین میں محض 7 سالہ بچی میں بلوغت کی علامات سامنے آنے کے بعد ان کی والدہ اور ڈاکٹر حیران رہ گئے۔

رپورٹ کے مطابق کم سن بچی کی والدہ اس وقت حیران رہ گئیں جب وہ انہیں نہلا رہی تھیں۔

رپورٹ میں چینی ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بچی کی والدہ کو نہلاتے وقت احساس ہوا کہ ان کی بچی تیزی سے بڑی ہو رہی ہیں اور ان کے جسمانی اعضا بھی غیر معمولی انداز میں بدل رہے ہیں۔

بچی کی والدہ کے مطابق کم سن بچی کی چھاتی کی ساخت تیزی سے بدلی ہوئی دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں، اس لیے وہ بچی کو ڈاکٹرز کے پاس لے کر آئے، جنہوں نے انکشاف کیا کہ نہ صرف بچی کی چھاتی بلکہ ان کا جسمانی ڈھانچہ بھی عمر سے بڑھ چکا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ بچی کا جسمانی ڈھانچہ کسی 10 سال سے بڑی بچی جیسا ہے اور چھاتی کے علاوہ بھی بچی کے دیگر اعضا بلوغت کو پہنچنے والی بچی کی طرح بن چکے ہیں۔

ڈاکٹرز نے والدہ سے بچی کی غذاؤں سے متعلق دریافت کیا تو والدہ نے بتایا کہ ان کی بچی نے ہمیشہ ہی ڈائٹ اور صحت مند کھانے کھائیں ہیں۔

ڈاکٹرز نے بچی کی غذا سے متعلق اس کے دوسرے طرز زندگی کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ بچی 4 سال کی عمر سے لائٹ روشن کرکے سوتی ہیں۔

بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی 4 سال کی عمر سے تنہا اور اکیلے کمرے میں لائٹس روشن کرکے سوتی ہیں کیوں کہ انہیں اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔

ڈاکٹرز نے بعد ازاں انکشاف کیا کہ بچی کم عمری میں رات کو روشنی میں سونے کی وجہ سے بلوغت کو پہنچی ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق بچیوں میں ’میلاٹونن‘ نامی ایک خاص طرح کے ہارمونز ہوتے ہیں جن کا بلوغت سے تعلق ہوتا ہے اور وہ رات میں تیزی سے بڑھتے ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق روشنی میں سونے کی وجہ سے بچی کے ’میلاٹونن‘ ہارمونز پر اثر پڑا اور ان میں انتہائی کم عمری میں ہی بلوغت کی علامات ظاہر ہوئیں۔

اس سے 2016 میں برطانیہ میں ایک 4 سالہ بچی بھی ہارمونز کے مرض کی وجہ سے بالغ ہوگئی تھی۔

ہارمونز کی خرابی کی وجہ سے اس بچی کی دماغی نشو و نما محض ایک سال میں 12 سالہ بچی کے برابر ہوچکی تھی۔

x

Check Also

نمرتا کی موت کیسے ہوئی؟ رپورٹ سامنے آگئی

نمرتا کی موت کیسے ہوئی؟ رپورٹ سامنے آگئی

آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا چندانی کی موت کے حوالے ...

%d bloggers like this: