شاپنگ کی عادت کو بیماری قرار دے دیا گیا

شاپنگ کی عادت کو بیماری قرار دے دیا گیا

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ خواتین کا شاپنگ سے گہرا تعلق ہوتا ہے اور انہیں چیزیں خریدنا بے حد پسند ہوتا ہے مگر ہر چیز معتدل انداز میں کی جائے تو ہی بہتر ہے کیونکہ کسی بھی چیز کی زیادتی آپ کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

جو خواتین شاپنگ کرنے کی عادی ہوتی ہیں اور وہ شاپنگ کرنے سے اپنے آپ کو روک نہیں سکتیں تو اس عادت کو ہلکا نہ لیں۔

ایک تحقیق کے مطابق 20 لوگوں میں سے ہر ایک فرد کو شاپنگ کرنے کی بہت عادت ہوتی ہے جسے کم لوگ ہی سنجیدگی سے لیتے ہوں گے۔

بحالی صحت کے مرکز  نے یہ بات واضح کردی ہے کہ خریداری کی لت کو ایک مرض قرار دے کر اسے قابل علاج مرض کی سرکاری فہرست میں شامل کردیا گیا ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ خریداری کی لت میں مبتلا افراد کو روکنا مشکل لگتا ہے اور اس کا نتیجہ انتہائی نقصان ہوتا ہے  جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خطرناک عادت تباہ کن نوعیت کا طرز عمل ہے۔

پریوری ویب سائٹ میں لکھا گیا ہے کہ خریداری کی لت  جسے ’شاپنگ ڈس آرڈر‘ یا ’اونیو مینیا‘ بھی کہا جاتا ہے، یہ معاشی اور معاشرتی طور پر انسان کی نفسیات کو تباہ کر رہا ہے۔

برطانیہ میں اب باقاعدہ طور پر ایسے سینٹرز کا قیام کیا جائے گا جو کہ شاپنگ کی لت میں مبتلا افراد کی نفسیات پر کام کرے گا اور ان کی اس عادت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔

x

Check Also

کبھی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہی، صندل خٹک

کبھی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہی

ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک اسٹار صندل خٹک کے وکلا نے لاہور کی سیشن ...

%d bloggers like this: