بااختیار بیٹی کی تربیت میں والدین کا کردار

بااختیار بیٹی کی تربیت میں والدین کا کردار

اگر آپ عصر حاضر میں بھی بیٹیوں کےلئے محدود رنگوں اور محدود کھلونوںکا انتخاب کر رہے ہیں تو آپ ان کی ذہنی نشوونماپروان چڑھنے کے دوران رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو اب آپ کو اپنی سوچ میں تبدیلی لے آنی چاہیے کیونکہ اب بیٹیاں نہ صرف گاڑیاں چلارہیں بلکہ بیرون ملک سفارت کاری کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں۔ بیہوریل ماہر سریا جازف اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ بچےکی تربیت کا عمل اس کی پیدائش کے اگلے 24گھنٹےبعد ہی شروع ہوجاتا ہے۔ آپ بچے سے کیا کہتے ہیں اور اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے ہیں، یہ تمام چیزیں بچے کو بچپن ہی سے ذہنی طور پر با اختیار بنانے اور اس کی نشوونما اسی انداز میں پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ایک بچی بااختیار تب ہی ہوسکتی ہےجب اس کے اردگرد کے ماحول میں اس کی ذہنی تربیت صنفی امتیاز سے بالاتر ہو کر کی جائے۔ والدین کو چاہیے کہ بچپن ہی سے بچیوں کی مہارتوں اورصلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے انھیں آگے بڑھنے کی جانب مائل کریں تاکہ وہ ظاہری اور باطنی دونوں طرح کا اعتماد حاصل کرسکیں۔ آپ نے یہ کردار کیسے نبھانا ہے، اس حوالے سے ماہرین کے مندرجہ ذیل مشورے کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔

خوبصورتی سے آگے سوچیں

ماہرین کہتے ہیں کہ ہم بچپن سے ہی بیٹوں کو اچھے القابات سے پکارتے ہیں جبکہ بیٹیوں کے لیے باربی، پرنسز جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے ان کی ذہنی نشوونما پروان چڑھنے نہیں دیتے۔ آغاز سے ہی اپنی بیٹیوں کو خوبصورتی یا ظاہری خصوصیات کی بناء پر سراہنا بند کر دیں۔ ماہرین کے مطابق، بچپن میں بچوں کے لیے استعمال کیے جانے والے مخصوص الفاظ اسی حوالےسے ان کی ذہنی سوچ پروان چڑھاتے ہیں۔ لہٰذا اپنی بچیوں کواسمارٹ اورانٹیلی جنٹ جیسے القابات سے پکاریں،جب وہ پزل ٹھیک سے بنائیں انھیں ذہین کہیں، وہ اپنی ڈیسک یا اپنی کپ بورڈ ٹھیک کریں تو انھیں منظم کہہ کر تعریف کریں۔ ا پنی بیٹی کے لیے پکارے جانے والے ناموں کی فہرست بنائیں اس فہرست میںکریٹو ،طاقتور، بہادر، رحمدل، پراعتماد اور آرٹسٹک جیسے ناموں کو شامل کریں۔

انھیں آگے بڑھنے سے نہ روکیں

والدین بیٹیوں کی تربیت سے متعلق بعض اوقات زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ گھر میں بیٹے اور بیٹیوں کے لیے الگ الگ قائدےقوانین ترتیب دیے جاتے ہیں۔ بیٹے اگر جھگڑا کریں تو انھیں عموماً ڈانٹا نہیں جاتا لیکن اگر بیٹیاں جھگڑا کریں یاصوفے پر جمپ لگائیں تو فوراً روک ٹوک شروع کردی جاتی ہے۔ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کی تمام تر ذمہ داریاں صرف بیٹیوں کے سپرد کردی جاتی ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ بیٹیوں کی پرورش بااختیار انداز میں کریں تو بچوں کے لیے مختلف اصول وضوابط مرتب کرنے بجائے یکساں قوانین ترتیب دیے جائیں۔

مثبت لٹریچرکا عادی بنائیں

کتابیں بچوں کی شخصیت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔ بچیوں کو بچپن سے ہی مثبت لٹریچر پڑھنے کا عادی بنائیں، اس کے لیے کسی خاص عمر تک پہنچنے کا انتظار مت کریں۔ شروع میں ان کی مطالعہ میں دلچسپی کتابوں میںموجود تصاویر کے ذریعے بڑھائیں۔ بچے اور بچیوں کے لیے لٹریچر یا مطالعہ کا مواد مختلف منتخب نہ کریں۔ کوشش کریں کہ بچپن سے ہی بچوں کو صنفی امتیاز سے بالاتر ہوکر لٹریری مواد فراہم کیا جائے۔

لڑکیوں کے کاروبار میں سرمایہ کاری

دنیا بھر میں خواتین انٹرپرینیورز کی تعداد میں ہوتا اضافہ انھیں معاشی طور پر مستحکم کرنے میں کافی مددگارثابت ہورہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چین، برازیل،روس اور جنوبی افریقہ کے تیس فیصد کاروبار ی اداروں پر خواتین کی حکمرانی ہے۔ آپ نے بھی اپنی بیٹیوں کی صلاحیتیوں اور مہارتوں پر اعتماد کااظہار کرتے ہوئے انھیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرنا ہوگا۔ ان کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے ان کے سیٹ اَپ کو کامیاب کرنے میں ان کی مدد کرنا ہوگی۔ بالکل ایسی ہی جیسے ایک بیٹے کے کاروبار کی کامیابی کے لیے اس کا ساتھ دیا جاتا ہے۔

ایک اچھا رول ماڈل بنیں

اس سے پہلے کہ آپ ماہرین کے بتائے ہوئے مشوروںپر عمل کرنا شروع کریں، آپ کا خود سے یہ سوال پوچھنا خاصا اہم ہے کہ وہ کون سے طریقے ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے آپ اپنی بیٹی کو بااختیار اور خود مختار بناسکتی ہیں۔ کیا آپ خود بااختیار ہیں؟آپ کو بطور ماں، خود کو اپنی بیٹی کے لیے ایک رول ماڈل ثابت کرنا ہوگا۔ مثال کے طورپر اگر آپ ایک خاتونِ خانہ ہیں تو آپ نے اپنی بیٹی پر یہ ضرور واضح کرنا ہوگا کہ والد اگر کام کرتے ہیں تو والدہ گھر پر رہتے ہوئے بچوں کی اورگھر کی حفاظت کا کا م کرتی ہیں۔ آپ نے اپنی اہمیت کو بیٹی پر اُجاگر کرناہوگا اوراس کے لیے پہلے خود مختار بننا ہوگا۔ اس کے علاوہ زندگی کے اہم فیصلے بطور والدین آپ نے مل کر طے کرنے ہوں گے، جب ہی ایک بااختیار بیٹی کی تربیت کا ذمہ پورا ہوپائے گا۔

x

Check Also

مہوش حیات میک اپ کیسے کرتی ہیں

%d bloggers like this: