انسانی حقوق کونسل کے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارت سے 5 مطالبات

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارت سے 5 مطالبات کردیے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج کا دن پاکستان اور کشمیریوں کیلئے منفرد دن ہے، انسانی حقوق کونسل کے سامنے پاکستان اور کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا اور ہمیں مشترکہ بیان دینے میں کامیابی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ بیان میں 58 ملکوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر 5 مطالبات کا ذکر کیا اور مشترکہ بیان میں بھارت سے کہا گیا کہ وہ کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے۔

وزیرخارجہ کے مطابق مشترکہ بیان میں بھارت سے کہا گیا کہ وہ کشمیریوں کی آزادی اور سیکیورٹی کو متاثر نہ کرے ، مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری اٹھائے اور مقبوضہ کشمیر میں کمیونکیشن شٹ ڈاؤن بحال کرے۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ مشترکہ بیان میں بھارت سے کہا گیا کہ سیاسی قیدی رہا کرے، کشمیر میں بے تحاشہ اور بے جا طاقت کا استعمال اور جبر فوری ختم کرے۔

انہوں نے بتایا کہ مشترکہ بیان میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دینے اور انسانی حقوق کمیشن آفس کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کیلئے آج یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

’مقبوضہ کشمیر کا معاملہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے‘

قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت کو انسانی حقوق کونسل کے سامنے رکھا۔

جنیوا میں انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے 6 ہفتوں سے حریت قیادت کو نظر بندکررکھا ہے، بھارت مقبوضہ وادی میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتاہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بری جیل بنادیا ہے، وادی میں مسلسل کرفیو کے باعث خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، بھارت کا یہ دعویٰ غلط ہے، کشمیر کے لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا جارہا ہے، بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتےہوئےکلسٹر اور ہیوی بموں کا استعمال کیا، بھارت اپنے مظالم چھپانے کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد آزاد کو دہشتگردی کا رنگ دے رہا ہے، بھارتی قابض افواج کے تشدد سے زخمی افراد کو ہنگامی طبی امداد تک میسرنہیں،کشمیریوں کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت چھ ہفتے سے نظربند اور قید ہے، کشمیر میں کس قانون کے بناء پر 6 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کو کئی بار مذاکرات کا کہا، بھارت نے پاکستان کی مذاکرات کی تمام پیش کش مسترد کیں، بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، بھارت جمہوریت، وفاقیت اور سیکیولرازم کا ڈھونگ رچاتا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نافذ کالے قوانین کی آڑ میں کئی کشمیریوں کو بھارت کی جیلوں میں منتقل کیاگیا ہے، چھ ہفتوں سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کے سب سے بڑے قید خانے میں تبدیل کردیا ہے، مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کو بنیادی اشیائے ضروریہ اور ذرائع مواصلات تک رسائی نہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف دنیا بھر میں اس پر بات ہورہی ہے، غیرجانبدار میڈیا اور مبصرین مقبوضہ کشمیرکے عوام پر بھارتی مظالم کی رپورٹنگ کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قابض بھارتی افواج انتہائی بے رحمی سے لوگوں کو برہنہ کرکے سرعام تشدد کا نشانہ بناتی ہے، قابض بھارتی افواج سال ہا سال سے بے گناہ کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گنزاستعمال کررہی ہے، پیلٹ گنز سے زخمی افراد کو ڈر ہے کہ انہیں گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، وہ اس خوف سے اسپتال نہیں جارہے۔

وزیر خارجہ نےمزید کہا کہ میں کسی گزرے زمانے کی بات نہیں کررہا، مقبوضہ کشمیر میں یہ بربریت آج ہورہی ہے، اکیسیویں صدی میں مقبوضہ کشمیر میں یہ تمام ظلم وستم ہورہا ہے، مجھے انسانی حقوق کونسل کو کچھ یاد کرانے کی ضرورت نہیں، یہ اقدامات عالمی انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے جس پر بھارت نے بھی دستخط کررکھے ہیں، یہ ’دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت‘ کا حقیقی چہرہ ہے، یہ اس ملک کا طرزعمل ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا آرزو مند ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کا حق خوداردیت دینے سے مسلسل انکاری ہے، سات دہائیوں سے چلا آنے والا کشمیرکا تنازع انصاف کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔

شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا کہ موجودہ بھارتی حکومت کے مذموم عزائم کی وجہ سے معاملہ مزید سنگین تر ہوگیا ہے، یہ غاصبانہ اقدام بھارتی حکمران جماعت کے منشور میں واضح درج ہے، بھارت بندوق کے زور پر جموں کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، عالمی قانون کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا بھارتی یک طرفہ اقدامات غیر آئینی ہیں، مسئلہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تنازع تسلیم کررکھا ہے، بھارت کے طرز عمل سے ثابت ہوگیا ہے کہ اس نے جموں وکشمیر پرغیرقانونی قبضہ کررکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کے منافی ہیں، جنیوا کنونشن مقبوضہ خطے سے آبادی کی کسی دوسری جگہ منتقلی کی ممانعت کرتا ہے، جنیوا کنونشن مقبوضہ خطےمیں کسی دوسری جگہ سے آبادی کولاکر بسانے کی بھی ممانعت کرتا ہے۔

وزیر خارجہ کی سینیگال کے ہم منصب سے ملاقات 

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیگال کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال اور خطے میں امن وامان کو درپیش خطرات پرتبادلہ خیال کیا، شاہ محمود نے انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق یکطرفہ بھارتی اقدامات سےآگاہ کیا۔

اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے،انسانی حقوق کونسل کی صدارت سینیگال کےپاس ہونے سے آپ سے بہت توقعات ہیں۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت نے 37 دن سے مقبوضہ و جموں و کشمیر میں کرفیو لگاکر لاکھوں افراد کو محصور کررکھا ہے، بھارتی فورسز بچوں اور نوجوانوں کو اغوا کرکے بدترین تشدد کا نشانہ بنارہی ہیں، عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیر میں بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یو این ہیومن رائٹس ہائی کمشنر آفس کی سالانہ رپورٹ انتہائی تشویشناک صورتحال بتارہی ہیں، کشمیر کے نہتے انسانوں کو بھارتی بربریت سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو آگے آنا ہوگا۔

سینیگال کے وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: