استعفے کی ویڈیو پر خاتون پولیس اہلکار سے بازپرس

وکیل کے تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بننے والی خاتون پولیس اہلکار کی جانب سے نوکری چھوڑنے کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت اور پولیس ایکشن میں آگئی اور مبینہ طور پر خاتون کو نوکری نہ چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

کانسٹیبل فائزہ نواز نے اتوار کے روز ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ’میں اس نا انصافی اور ظالم نظام سے تنگ آچکی ہوں اس لیے اپنی نوکری سے استعفیٰ دے رہی ہوں‘۔

اس حوالے سے شیخوپورہ کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) غازی صلاح الدین نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا پر مذکورہ ویڈیو پیغام وائرل ہونے کے بعد انہوں نے خاتون اہلکار سے ملاقات کی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب وہ استعفیٰ نہیں دے رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرویو لینے والے نے ویڈیو میں خاتون کا بیان توڑ مروڑ کے پیش کیا اور وہ باکل بھی مایوس نہیں، ان مزید کہنا تھا کہ پولیس کانسٹیبل فائزہ کا خیال رکھے گی جبکہ ان کا مورال بھی بلند ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہباز گل کا بھی کہنا تھا کہ فائزہ نواز استعفیٰ نہیں دے رہیں اس کے علاوہ انہوں نے ایف آئی آر میں ایک معمولی غلطی کی وجہ سے فیروز والہ کے جج کی جانب سے ملزم کی ضمانت منظور کیے جانے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خاتون کانسٹیبل نے اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کے بعد ایک تازہ ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

واضح رہے کہ ملزم ایڈوکیٹ احمد مختار نے فیروزوالہ عدالت میں کانسٹیبل فائزہ کو اس وقت تھپڑ مارا تھا جب انہوں نے مذکورہ وکیل کو نو پارکنگ کی جگہ پر گاڑی کھڑی کرنے سے منع کیا۔

یہ سن کر وکیل آپے سے باہر ہوگئے اور خاتون پولیس اہلکار کی پنڈلی پر لات ماری انہیں برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ منہ پر تمانچہ بھی مارا۔

بعد ازاں بدسلوکی کرنے والے وکیل کو گرفتار کر کے مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا لیکن ایف آئی آر میں ملزم کو نام احمد مختار کی جگہ احمد افتخار لکھے ہونے کے سبب اسے چھوڑ دیا گیا۔

شہباز گل کے مطابق ایف آئی آر میں دیگر 3 سزاؤں کے ساتھ ملزم کا نام درست لکھا ہوا تھا اس کے باوجود جج نے اس کی ضمانت منظور کی۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: