زمبابوے کے سابق صدر رابرٹ موگابے انتقال کر گئے

زمبابوے کے سابق صدر رابرٹ موگابے 95 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

رابرٹ موگابے کے خاندانی ذرائع نے بی بی سی کو ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ گذشتہ اپریل سے رابرٹ موگابے سنگاپور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

سنہ 2017 میں 37 سال برسر اقتدار رہنے کے بعد ایک فوجی مداخلت میں رابرٹ موگابے کو ان کے عہدے سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

سیاہ فام اکثریت کی تعلیم اور صحت پر توجہ کے باعث زمبابوے کے سابق صدر موگابے کے ابتدائی برسوں کو خوش آئند کہا جاتا ہے۔ لیکن آخری برسوں میں ان کے دور پر کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے گئے۔

سنہ 1980 میں جب زمبابوے نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تو وہ انتخابات جیت کر وزیر اعظم بنے۔

اس کے بعد انھوں نے سنہ 1987 میں اپنا عہدہ ختم کر دیا اور صدر بن گئے۔ جس کے بعد سنہ 2017 تک وہ زمبابوے کے صدر رہے۔


انتقال پر سیاسی رد عمل


رابرٹ موگابے کے انتقال پر ان کے جانشین ایمرسن منانگاگوا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ’آزادی کی علامت‘ کہا ہے۔ اقتدار میں آنے سے قبل ایمرسن منانگاگوا سابق صدر رابرٹ مگابے کے نائب تھے۔

موگانے کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے حکومتی ترجمان انرجی مٹوڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ جماعت نے اس خبر پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا ’حکومت میں ہوتے ہوئے ہم موگابے خاندان کے ساتھ ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’وہ ایک اصول پسند انسان تھے۔ وہ اپنے عقائد پر ڈٹے رہے۔ وہ خود پر اور اپنے اعمال پر یقین کرتے تھے۔ وہ اپنی کہی ہر بات پر زور دیتے تھے۔‘

زمبابوے کے سینیٹر ڈیوڈ نے موگابے کو ایک موقع پر ’ریاست کا دشمن‘ کہا تھا۔ موگابے کے انتقال پر سینیٹر ڈیوڈ نے کہا کہ موگابے نے اپنے دور میں تشدد کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا۔

’سنہ 1960 کی دہائی سے انھوں نے ہمیشہ تشدد کرنے کا راستہ اپنایا۔ وہ کوئی مارٹن لوتھر کنگ نہیں تھے۔ وہ اس معاملے میں کبھی خود کو تبدیل نہیں کر پائے۔‘

تاہم انھوں نے تعلیم میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ’وہ ایک ایسے شخص تھے جو تعلیم کے لیے جنون رکھتے تھے۔‘

موگابے کے انتقال پر جنوبی افریقہ کی حکومت نے ایک ٹوئٹر پیغام میں انھیں ’افریقہ کی آزادی کے لیے لڑنے والا نڈر شخص‘ کہا۔


رابرٹ موگابے کون تھے؟

رابرٹ موگابے 21 فروری سنہ 1924 کو پیدا ہوئے۔ وہ 1960 کی دہائی کے افریقی نو آبادی رہوڈیشیا، جو آج زمبابوے کہلاتا ہے، کے ایک حریت پسند رہنما کے طور پر ابھرے تھے۔ وہ اس وقت نوآبادیاتی نظام اور عالمی سامراجیت اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک مزاحمتی لیڈر قرار پائے تھے۔

انھیں سنہ 1964 میں رہوڈیشین حکومت پر تنقید کرنے پر ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے لیے بغیر مقدمہ چلائے جیل میں بند رکھا گیا تھا۔

موگابے سنہ 1980 میں اقتدار میں آئے۔ انھوں نے ایک مقبول رہنما کی طرح کئی انتخابات جیتے۔ ان کے دور حکومت میں سیاسی مخالفین نے ان پر ریاستی تشدد کے الزامات بھی لگائے۔

سنہ 2000 میں ان پر سیاسی مخالفین نے معاشی بحران پیدا کرنے، سفید فام اقلیت کے فارمز پر ملیشیا کے قبضے اور سیاسی انتقام کے الزامات لگائے۔ انھیں زمبابوے میں ایک آمر کے طور دیکھا جانے لگا۔

سنہ 2017 میں ان کے اقتدار سے الگ ہونے کی وجہ اپنے نائب صدر کو چند ہفتے قبل برطرف کیا جانا تھا۔ اس برطرفی سے یہ شکوک بڑھ گئے کہ وہ اپنا جانشین اپنی بیوی گریس کو بنانا چاہتے ہیں۔ اس بات پر زمبابوے کی فوج نے مداخلت کی اور حکومت پر قبضہ کر کے انھیں نظر بند کردیا گیا۔

رابرٹ موگابے سے متعلق چند حقائق

  • 1924: پیدائش
  • 1960-1945 : تعلیم حاصل کی۔
  • 1964: رہوڈیشیا کی حکومت نے جیل میں ڈالا۔
  • 1980: آزادی کے بعد الیکشن جیتا۔
  • 1996: گریس ماروفو سے شادی ہوئی۔
  • 2000: ریفرنڈم میں شکست ہوئی، موگابے کی حامی ملیشیا نے سفید فام اقلیت کے فارمز پر قبضہ کر لیا اور حزبِ مخالف کے حمایتیوں پر حملے کیے۔
  • 2008: انتخابات میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔
  • 2009: معاشی بحران میں انھوں نے سوانگیرائے سے وزیرِ اعظم کا حلف لیا۔
  • 2016: کیش کی کمی کی وجہ سے بانڈ نوٹ متعارف کرائے گئے۔
  • 2017: انھوں نے اپنے قریبی ساتھی ایمرسن منگاگوا کو نائب وزیرِ اعظم کے عہدے سے برطرف کیا تاکہ اپنی اہلیہ کو اس عہدے پر تعینات کر سکیں۔
  • نومبر 2017: فوج نے مداخلت کی اور انھیں زبردستی عہدے سے فارغ کیا۔
x

Check Also

حافظ حمد اللہ پاکستانی شہری ہی نہیں

حافظ حمد اللہ غیر ملکی شہری نکلے

جے یو آئی کے سابق سینیٹر اور رہنما غیر ملکی نکلے ہیں ، نادرا نے ...

%d bloggers like this: