نفرت انگیز مواد کیس: قاری اسحٰق کی اپیل مسترد

سپریم کورٹ نے قاری محمد اسحٰق غازی کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کے دوران پولیس کی گواہی کو قبول کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عوام میں سے کوئی گواہ دستیاب نہ ہو تو جرم ثابت کرنے کیلئے پولیس کی گواہی ہی کافی ہے۔

جسٹس قاضی محمد امین احمد نے قاری محمد اسحٰق غازی کی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ‘پولیس حکام دیگر کی طرح بہتر گواہ ہیں اور ان کے شواہد اس ہی معیار کے ہیں جیسے دیگر کے ہوتے ہیں’۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے قاری اسحٰق کے خلاف دیئے گئے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، جس میں ملزم پر مخصوص فرقے کے خلاف نفرت انگیز مواد پر مبنی پیمفلٹ تقسیم کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا۔

قاری اسحٰق کو پولیس نے اوکاڑہ سے گرفتار کیا تھا جنہیں بعد ازاں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت 5 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس امین احمد ریمارکس دیئے کہ پولیس، ریاست کے ماتحت ادارہ ہیں اور ان کی گواہی بھی قابل اعتبار ہے۔

انہوں نے مزید ریمارکس دیئے تھے کہ ‘عوام انصاف کی مدد کے لیے سامنے آنے کے بجائے محفوظ رہنے کو ترجیح دیتی ہے’۔

جسٹس امین احمد سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کا حصہ تھے جس کی سربراہی جسٹس منظور احمد ملک کر رہے تھے اور اس بینچ میں جسٹس سید منصور علی بھی شامل تھے۔

جب یہ اپیل سپریم کورٹ پہنچی تو درخواست گزار کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 382 بی کے تحت اپنی سزا مکمل کرکے جاچکے تھے۔

دفعہ 382 بی جیل میں موجود ملزمان کی سزا میں کمی کرنے سے متعلق ہے۔

اپیل کی سماعت کے دوران ان کے وکیل رائے بشیر احمد نے عدالت عظمیٰ میں کیس کے حقائق اور قانونی نکات سے متعلق موقف پیش کیا۔

ان کے موقف میں قابل اعتراض پیمفلٹ کو مسترد کیا جانا، عوام میں سے کسی گواہ کا سامنے نہ آنا اور استغاثہ کی نفرت انگیز مواد کی عوام میں تقسیم کو ثابت کرنے میں ناکامی شامل تھی جو ان کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 9 کو عائد کیے جانے کے لیے ضروری تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس امین احمد نے ریمارکس دیئے کہ پیمفلٹ کا مواد نفرت اور تفرقہ سے بھرا ہے، اسے دوبارہ بر آمد کیا جانا گھناؤنا ہوگا، یہ عوام میں اشتعال پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی فرقے کے خلاف نفرت انگیز مواد کی تقسیم ہی جرم نہیں بلکہ اسے اپنے پاس رکھنا بھی جرم ہے۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: